کپتان کی جانب سے آرمی چیف پررقیق حملوں کااصل مقصدکیا ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے آرمی چیف عاصم منیر سے متعلق لب و لہجے میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے جبکہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سھ مذاکرات کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی طرف سے فوج مخالف ٹرینڈ چلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے آرمی چیف کے خلاف بیانات اور پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے مفاہمتی بیانات کے بعد مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں کہ شاید عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور وہ جلد رہا ہونے والے ہیں۔ تاہم عمران خان سمجھتے ہیں کہ اُن کی پارٹی میں موجود کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہیں جو پارٹی کو توڑنا چاہتے ہیں۔ایسے میں پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا عمران خان آٹھ ماہ سے جیل میں رہ کر مایوس ہو رہے ہیں؟ کیا وہ اب فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں؟ کیا عمران خان کی پارٹی اُن کے بیانات سے فاصلہ رکھ کر ملکی سیاست میں خود کو زندہ رکھنا چاہ رہی ہے؟
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ عمران خان بوکھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے تمام آپشنز استعمال کر چکے ہیں کیونکہ عمران خان کا خیال تھا کہ وہ فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف بیانات دے کر اسے دفاعی پوزیشن میں لے آئیں گے۔ لیکن فوج صرف آرمی چیف کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ادارہ ہے۔اُن کے بقول فوج کا ہر سپاہی اپنے سپہ سالار کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، لہذٰا عمران خان انہیں دباؤ میں نہیں لا سکتے۔
دوسری جانب تجزیہ کار سلمان عابد کہتے ہیں کہ عمران خان کو ایک بات کا اندازہ ہے کہ ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت قانونی سے زیادہ سیاسی ہے اور انہیں عدالتوں سے ریلیف مل سکتا ہے۔ لیکن ان کی مشکلات اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی وجہ سے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ٹکراؤ کے خاتمے کے لیے کچھ لوگ معاونت کرنا چاہ رہے ہیں۔ لیکن عمران خان نے اب تک کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ اسی وجہ سے عمران خان کا غصہ بڑھ رہا ہے اور خاص طور پر جب وہ اپنی اہلیہ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ زیادہ غصے میں آجاتے ہیں۔سلمان عابد کے بقول عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کی اہلیہ کی گرفتاری اور اب تک جو کچھ ہوا ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے سب کروایا ہے لہذا اب وہ براہ راست آرمی چیف پر الزامات لگا رہے ہیں اور انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی فوج اس نوعیت کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ پاکستانی فوج کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اُنہیں سیاسی اور قانونی معاملات میں گھسیٹنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ جب کوئی سیاست دان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جھگڑا مول لیتا ہے تو وہ باقی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بناتا ہے۔اُن کے بقول نواز شریف نے جب فوج کے خلاف بیانات دیے تو اس کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنایا اور اس کے بعد وہ بہتر پوزیشن پر آئے۔ لیکن عمران خان اس بارے میں اپنی ذات تک محدود ہیں اور اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔
سلمان عابد کے بقول عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اس وقت افہام و تفہیم کی بات نہیں ہو رہی بلکہ ایک ٹکراؤ کی صورتِ حال ہے جس سے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ سکے گا کیونکہ مفاہمت یک طرفہ نہیں ہو سکتی۔سلمان عابد کے بقول اس وقت پی ٹی آئی میں دو گروپس بھی موجود ہیں جن میں سے ایک کا خیال ہے کہ فوج کے ساتھ مفاہمت کی جائے جب کہ ایک گروپ ایسا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی شرائط پر مفاہمت کا حامی ہے۔اُن کے بقول عمران خان اس دوسرے گروپ کے حامی ہیں اور انہی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق چلیں گے۔
تجزیہ کار سلمان غنی تحریکِ انصاف کی طرف سے مفاہمتی بیانات پر کہتے ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں میں ان کے بعض لوگوں کی ضمانتیں ہوئیں اور عمران خان کی اہلیہ کو بھی ایک کیس میں ریلیف ملا۔ لیکن اس کے بعد بھی عمران خان کے بیانات کی وجہ سے ہی معاملات خراب ہوئے۔اُن کے بقول حالیہ عرصے میں جب امریکہ میں آئی ایم ایف کے باہر مظاہرے ہوئے تو پی ٹی آئی نے اس سے لاتعلقی اختیار کی۔ لیکن عمران خان نے ان مظاہروں کی حمایت کی۔ اسی طرح سعودی عرب پر رجیم چینج کا الزام لگانے والے شیر افضل مروت کے بیان سے پارٹی نے لاتعلی اختیار کی۔ لیکن عمران خان نے شیر افضل مروت کو ہی ضمنی انتخابات میں مہم میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔سلمان غنی کے بقول اس سے نظر آتا ہے کہ پارٹی میں موجود بعض افراد فوج کے ساتھ مفاہمت چاہتے ہیں۔ لیکن عمران خان اس گروپ کے ساتھ ہیں جو فوج کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کے مختلف کیسز میں وکیل انتظار حسین پنجوتھہ کے مطابق عمران خان کہتے ہیں کہ اگر عاصم منیر سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں تو ان کا نام لینا جائز ہے۔ ان کے بقول عمران خان بشریٰ بی بی کی سزا پر تحفظات رکھتے ہیں اور ان کی سوچ ہے کہ یہ براہِ راست آرمی چیف کے کہنے پر دی گئی ہے۔ انتظار پنجوتھہ نے کہا کہ عمران خان کا سخت لہجہ غصہ نہیں بلکہ وہ بہت پرسکون ہیں۔ ایسا لہجہ ہونا ان کی سیاسی حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے مفاہمتی رویہ دکھانے کے حوالے سے انتظار پنجوتھہ کہتے ہیں "بطور جماعت ہمارا مؤقف ہے کہ ہمارا فوج کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں اور صرف انفرادی طور پر آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ مسائل ہیں۔”انتظار پنجوتھہ کے مطابق عمران خان سمجھتے ہیں کہ ملک میں ڈکٹیٹر شپ ہے کیوں کہ انتخابی نتائج کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد موجودہ حکومت کو جمہوری حکومت نہیں کہا جا سکتا۔
