عوام کیلئے دال بھی پہنچ سے باہر کیوں ہوگئی؟

مہنگائی کی حالیہ لہر نے غریبوں کیلئے دال روٹی کو بھی مشکل بنا دیا ہے، دیہاڑی دار طبقے کی کام سے چھٹیوں پر گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، جبکہ متوسط طبقہ اپنے کھانے کو تین کی بجائے ایک وقت تک محدود کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔جس دن کچھ نہیں کمایا اس دن گھر کے چولہے ٹھنڈے ہوتے ہیں، یہ کہنا ہے فاطمہ کا جو کراچی میں لیاری کی ٹمبر مارکیٹ کے علاقے میں رہتی ہیں اور ان کا گھرانہ تین افراد پر مشتمل ہے۔
فاطمہ کے خاندان کا تعلق معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے سے ہے، بتاتی ہیں کہ ایک دن دال بناتے ہیں اور دو تین دن وہی دال کھاتے ہیں۔ تاہم اب تو دال بھی گوشت کے برابر ہو گئی ہے، دال کو پاکستان میں غریب کی خوراک سمجھا جاتا ہے تاہم ملک میں مہنگائی کی بلند شرح اور دالوں کی قیمت میں ہونے والے بڑے اضافے کی وجہ سے اب معاشرے کے کم آمدنی والے طبقات کے لیے دال کھانا بھی مشکل تر ہو چکا ہے، پاکستان میں جنوری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 27.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جو 48 سال میں مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے۔
مقامی مارکیٹ میں دالوں کی قیمت اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود ہے جس کی وجہ سے کم آمدنی والے افراد شدید متاثر ہیں، ملک میں دالوں کی کھپت کا ستر سے پچھتر فیصد دارومدار درآمد پر ہے اور باقی ضرورت مقامی سطح پر پیدا ہونے والے اناج سے پوری کی جاتی ہے۔مقامی مارکیٹ میں دالوں کی قیمت میں گذشتہ ڈھائی، تین ماہ میں 50 سے 90 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔کراچی کی اناج منڈی میں دالوں کی موجودہ قیمت کا تقابل اکتوبر کے مہینے کے اختتام کی قیمتوں سے کیا جائے تو دال مونگ، مسور، ماش، کالا چنا اور سفید چنے کی کھپت سب سے زیادہ ہے اور مقامی سطح پر ان کی قیمت کو دیکھا جائے تو دال مونگ کی قیمت میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دال چنا کی قیمت میں 55 فیصد اضافہ، دال مسور کی قیمت میں 80 فیصد اضافہ جبکہ دال ماش کی قیمت میں 95 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اسی طرح کالے چنے کی قیمت میں 60 فیصد اور سفید چنے کی قیمت میں 95 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پاکستان اپنی ضروریات کی 75 سے 80 فیصد دال بیرون ملک سے منگواتا ہے۔ ملک میں دال کی سالانہ درآمد ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
ادارہ برائے شماریات کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکسستان نے 53 کروڑ ڈالر مالیت کی دالیں درآمد کیں اور پاکستان میں درآمد ہونے والی دال کی مقدار سات لاکھ 30 ہزار ٹن تھی، پاکستان میں سب سے زیادہ چنے کی دال استعمال ہوتی ہے۔ پانچ لاکھ ٹن سالانہ درآمد کرتے ہیں۔ مونگ کی دال دو لاکھ ٹن چاہئے۔ ایک لاکھ مقامی پیداوار ہوئی اور باقی امپورٹ کرنی ہے۔ تیسری مسور کی دال ہے۔ جو پہلے پنجاب میں بہت ہوتی تھی لیکن اب اس کی پیداوار نہیں ہوتی۔ مسور ڈھائی لاکھ ٹن درآمد کرنی ہوتی ہے۔ دال ماش برما میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی کھپت دو لاکھ ٹن ہوتی ہے، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ملک کو تقریباً سولہ لاکھ ٹن دالیں درآمد کرنی ہوتی ہیں۔
پاکستان کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر مشتمل ہے اور پاکستان میں چلنے والی انڈسٹری بھی زراعت سے حاصل ہونے والے خام مال جیسے کپاس پر انحصار کرتی ہے۔ملک میں دالوں کی پیداوار مسلسل کمی کا شکار ہے، اکنامک سروے کے مطابق گذشتہ تین سال میں دالوں کی فی کس فراہمی میں کمی آئی۔ تین سال قبل فی کس 7.8 کلوگرام دال میسر تھی جو گذشتہ مالی سال میں 7.3 کلو گرام فی کس ہو گئی۔
پاکستان میں دالوں کی مقامی پیداوار کے ملکی ضرورت کے لیے ناکافی ہونے کے بارے میں زرعی شعبے کے ماہر محمود نواز شاہ نے بتایا کہ دالوں کی پیداوار کو زراعت کے شعبے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، جسے حکومتی پالییسوں میں جائز حق نہیں مل رہا، دالوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ مقامی طور پر ان کی پیداوار بڑھانے کے لیے تحقیق کے کام میں کسی خاص پیشرفت کا نہ ہونا ہے۔سندھ کے علاقے ٹنڈو جام میں کام کرنے والے سندھ ایگری کلچر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لیاقت علی بھٹو نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دالوں کی پیداوار میں اضافہ نہ ہونے کی بنیادی وجہ سرٹیفائیڈ بیج میں کسی خاص پیشرفت کا نہ ہونا ہے، اسی طرح دالوں کی کاشت اور کٹائی کے لیے مشینری اور آلات بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
