پیرس ایئر پورٹ پر 18 سال گزارنے والا ایرانی شہری گزر گیا

18 برس تک فرانس کے دارالحکومت پیرس کے چارلس ڈیگال ایئرپورٹ پر زندگی گزارنے والا ایرانی شہری مہران کریمی ناصری 12 نومبر کو ہارٹ اٹیک کے باعث ہوائی اڈے پر ہی چل بسا. یہ وہی ایرانی شہری ہے جسکی کہانی سے متاثر ہو کر امریکی ہدایت کار اور سٹیون سپیل برگ نے ’دی ٹرمینل‘ نامہ فلم بنائی تھی جس میں ٹام ہینکس نے ناصری کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ’لوسٹ ان ٹرانزٹ‘ کے نام سے ایک فرانسیسی فلم اور ’فلائیٹ‘ کے نام سے تھیٹر ڈرامہ بھی تیار کیا گیا۔

پیرس ایئرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ ہوائی اڈے کے ٹرمینل ٹو ایف پر مہران کریمی ناصری کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔پولیس اور میڈیکل ٹیم نے انہیں طبی امداد فراہم کی لیکن ان کی جان بچانے میں ناکام رہے۔

ناصری 1988 سے 2006 تک ایئرپورٹ کے ٹرمینل نمبر ایک میں رہے کیونکہ انکے پاس فرانس میں رہنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات نہیں تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی مرضی سے ہی ایئرپورٹ پر رہائش اختیار کر لی۔

عمران کا امریکہ مخالف سازشی بیانیہ ڈھکوسلہ نکلا

ناصری کئی سال تک ایئرپورٹ پر ایک پلاسٹک کے بینچ پر سوتے رہے اور وہاں کام کرنے والوں عملے سے دوستی کر لی۔ وہ عملے کے واش روم میں ہی نہاتے، اپنی ڈائری لکھتے، اخبار و رسائل پڑھتے اور آتے جاتے مسافروں کو دیکھتے رہتے۔

ایئرپورٹ کے عملے نے انہیں ’لارڈ الفرڈ‘ کا نام دے رکھا تھا اور وہ مسافروں کے لیے ایک مشہور شخصیت بن چکے تھے۔ میڈیا کے ساتھ اپنی آخری گفتگو میں ناصری پائپ پیتے ہوئے کمزور دکھائی دیے۔ ان کے بال لمبے اور کم ہو چکے تھے، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی اور گال پچکے ہوئے تھے۔ناصری 1945 میں ایران کے علاقے سلیمان میں پیدا ہوئے۔

یہ وہ ایرانی علاقہ ہے جو اس وقت برطانیہ کے ماتحت تھا۔ ان کے والد ایرانی اور والدہ برطانوی شہری تھیں۔وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے 1974 میں ایران سے برطانیہ منتقل ہو گئے۔ ایران واپسی پر انہیں شاہ ایران کے خلاف احتجاج کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا اور پھر پاسپورٹ کے بغیر ملک بدر کر دیا گیا۔

انہوں نے یورپ کے کئی ملکوں میں سیاسی پناہ کی درخواست دی۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے انہیں پناہ گزین کی حیثیت دے دی لیکن ناصری کا کہنا تھا کہ وہ بریف کیس جس میں ان کے پناہ گزین ہونے کا سرٹیفکیٹ تھا، وہ پیرس کے ریلوے سٹیشن پر چوری کر لیا گیا۔ بعد ازاں فرانس کی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا لیکن انہیں ملک بدر کرنے میں ناکام رہی کیوں کہ ان کے پاس کوئی سرکاری دستاویز نہیں تھی۔

وہ 1988 میں چارلس ڈیگال ایئرپورٹ پہنچے اور وہیں مقیم ہو گئے۔ اس کے بعد افسر شاہی کی عدم توجہ اور امیگریشن کے سخت ہوتے قوانین کی وجہ سے وہ کئی سال تک ایسی جگہ رہائش پذیر رہے جہاں قانونی طور پر رہنے کی اجازت نہیں ہے۔

بالآخر جب انہیں پناہ گزین کی حیثیت سے دستاویزات مل گئیں تو انہوں نے ایئر پورٹ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے پناہ گزینی کی دستاویزات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اسکے بعد وہ مزید کئی سال تک پیرس ایئرپورٹ پر ہی قیام پذیر رہے۔

2006 میں بیماری کے بعد حالت نازک ہونے پر انہیں ہسپتال داخل کروایا گیا جس کے بعد وہ پیرس میں واقع شیلٹر ہوم میں رہائش پذیر ہو گئے۔ ڈاکٹرز کے مطابق کسی ہوا دار کھڑکی کے بغیر ایک ہی جگہ کئی سال تک رہنے کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہو گئی تھی۔

تاہم ناصری ایئر پورٹ کو مس کرتے تھے لہذا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک بار پھر چارلس ڈی گال ایئرپورٹ واپس پہنچ گئے اور وہاں رہنا شروع کر دیا۔ ایئرپورٹ پر ان کا دوست بن جانے والا عملہ ناصری کا موازنہ ایسے قیدی کے ساتھ کرتا ہے جو ’قید خانے سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا، اور اسی لیے ناصری کا انتقال بھی اسی قید خانے میں ہوا۔

Related Articles

Back to top button