شاری بلوچ کے شوہر کے اپنی فدائی بیوی بارے انکسافات


کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کرنے والی بلوچ قوم پرست ایکیوسٹ شاری بلوچ کے مفرور شوہر ڈاکٹر ہیبتان بشیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے فدائی مشن کے بارے میں جانتے تھے کیونکہ اس نے بلوچ کاز کی خاطر قربان ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ہیبتان بلوچ اپنے دو کمسن بچوں کے ساتھ روپوش ہیں اور انکی گرفتاری کی خبریں غلط نکلی ہیں۔
بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے ڈاکٹر ہیبتان بلوچ سے رابطہ کیا گیا اور انہیں انٹرویو کے لیے تحریری سوالات بھیجے گئے جن کے جواب انھوں نے آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے بھیجے۔ ہیبتان نے بتایا کہ شاری دو سال قبل بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ میں فدائی کے طور پر اپنا نام دے چکی تھی، اس فیصلے پر پہنچنے کے بعد جب اس نے مجھے آگاہ کیا تو میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا یہ اسکا شعوری فیصلہ ہے یا جذباتی فیصلہ ہے؟ جواب میں شاری نے کہا کہ کیا خود کو قربان کرنے سے بڑا کوئی شعور بھی ہو سکتا ہے، چنانچہ میں نے اسکے فیصلے کا احترام کیا۔ بی بی سی کے ایک اور سوال پر ہیبتان بلوچ بے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی میں خود کش حملے سے دو روز قبل ان کی شاری سے آخری ملاقات ہوئی تھی، ان کے علم میں تھا کہ وہ یہ قدم اٹھانے والی ہے لیکن کب اور کہاں، وہ اس حوالے سے لاعلم تھے۔ ڈاکٹر بلوچ کے مطابق آخری ملاقات میں شاری نے کہا کہ اب ہم ابدی طور پر ایک دوسرے میں سما جانے والے ہیں۔

یاد رہے کہ شاری بلوچ اور ڈاکٹر ہیبتان دونوں کا تعلق تربت سے ہے۔ دونوں کا پانچ سال کا بیٹا اور چھ سال کی بیٹی ہے جن کے ہمراہ شاری اور ہیبتان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ انہوں نے شاری سے اپنی دوستی اور پھر شادی کے بارے میں بتایا۔ انکا کہنا ہے کہ جب وہ کالج کے بعد کوئٹہ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے این ٹی ایس ٹیسٹ دینے گئے تو وہاں شاری سے ملاقات اور اس سے دوستی کا آغاز ہوا۔ بلوچستان کاز کے حوالے سے ہم دونوں کے ملتے جلتے خیالات تھے، یہ 2010 کی بات ہے، پھر ہم نے والدین کی رضا مندی سے 2014 میں شادی کر لی۔ ہیبتان سے پوچھا گیا کہ بلوچ کاز کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد تو سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے بھی کی جا سکتی تھی اور عدم تشدد کا آپشن بھی موجود تھا، پھر شاری نے خودکش بمبار بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس پر ہیبتان کا کہنا تھا کہ شاری کو سیاست سے انکار نہیں تھا لیکن اس کا خیال تھا کہ بلوچوں کے خلاف ریاستی تشدد کا جواب پر تشدد طریقے سے ہی دیا جا سکتا ہے اور یہ بھی ایک سیاسی راستہ ہے۔
دوسری جانب شاری بلوچ کے والد حیات بلوچ نے اپنی بیٹی کے شدت پسند خیالات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کس نے کی اور کس چیز نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا، ان کے مطابق دونوں میاں بیوی سیاسی ذہن رکھتے تھے لیکن ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ شدت پسند تھے۔ لیکن ڈاکٹر ہیبتان کے رشتے داروں نے بھی شاری کے خود کش حملے کی مذمت کی ہے، انکے بھائی اور ٹیچر ڈاکٹر سراج بشیر بلوچ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم ہر اس انتہا پسندانہ عمل کے خلاف ہیں جس سے بے گناہ اور معصوم انسانوں کی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، ہم 26 اپریل کو جامعہ کراچی میں ہونے والے خود کش حملے کے شدید مذمت کرتے ہیں جس میں 3 چینی باشندے مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خاندان ایسے انتہا پسندانہ عمل کی حمایت نہیں کرتا۔
دودری جانب تحقیقاتی ادارے کسی بریک تھرو تک تو نہیں پہنچے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حملہ آور اور چینی شہریوں کی میتیں تاحال سرد خانے میں موجود ہیں۔ یاد رہے کہ جامعہ کراچی کے چائنیز لینگویج ڈیپارٹمنٹ کے باہر ایک وین پر خودکش حملے میں تین چینیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے، حملہ آور شاری کے جسم کے اعضا اور چینی شہریوں کی لاشیں تاحال چھیپا کے سرد خانے میں موجود ہیں۔ پولیس اور دیگر اداروں نے دہلی کالونی اور گلستان جوہر میں دو فلیٹس پر چھاپے بھی مارے جن کے بارے میں اُن کا خیال ہے وہاں خودکش بمبار شاری رہتی تھیں۔ جائے وقوع سے شاری بلوچ کے مختلف اعضا ملے۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم کی سربراہ ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نےبتایا کہ حملہ آور خاتون کے پیروں کے ناخنوں پر ایک ہی رنگ کی نیل پالش موجود تھی جو گہرے گلابی رنگ کی تھی جس سے اندازہ ہوا کہ یہ ایک ہی انسان کی ہیں، بعد ازاں ڈی این اے کے ذریعے بھی اس کی تصدیق کی گئی کہ یہ ایک ہی انسان کے اعضا ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جسم کے ساخت اور قد کاٹھ کی مناسبت سے اس حملے میں ہلاک ہونے والے باقی افراد کی شناخت کی گئی۔ ڈرائیور قد میں بڑا اور جسامت میں بھاری تھا جبکہ چینی نسبتاً چھوٹے قد کے ہوتے ہیں۔ڈرائیور کا ایک پاؤں مڑا ہوا تھا، ان کے بھائی نے اُن کی لاش کی شناخت کی۔ انھوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی شناخت کے لیے ان کے زیر استعمال سامان سے سیمپل لیے گئے اور میچنگ کی گئی جس سے اُنکی شناخت ہوئی۔
شاری بلوچ کے جسم کے اعضا اب بھی چھیپا فاونڈیشن کے سرد خانے میں موجود ہیں۔ شاری کے والد حیات بلوچ کا کہنا ہے کہ حکام نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ انکی بیٹی کی باقیات ان کے حوالے کر دی جائیں گی، لیکن یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس پر کب عملدرآمد ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شاری کے چچا غنی پرواز انسانی حقوق کمیشن سے وابستہ ہیں، ان کے مطابق لاش کب حوالے کی جائے گی یہ واضح نہیں ہے، تاہم خاندان کو طرح طرح سے تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات سے مطمئن ہیں اور اس وقت تک متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اُن میں سے کتنے افراد اس واقعے کے متعلق ہیں، اس کی چھان بین جاری ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اس وقت سہولت کاروں کی تلاش ہے جنھوں نے اس حملے میں معاونت کی۔
پولیس نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر بشیر زیب، مجید بریگیڈ کے کمانڈر گل رحمان کے خلاف کراچی خود کش حملے کا مقدمہ درج کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے شاری بلوچ کے ذریعے یہ واردات کروائی۔ اس کیس میں نامعلوم سہولت کاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خرم علی شاہ نے بتایا کہ بمبار شاری بلوچ کا شوہر ڈاکٹر ہیبتان بلوچ بھی مطلوب ہے اور وہ اب تک مفرور یے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کارروائی میں شاری کے شوہر کا کیا کردار ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ تو تب ہی پتہ چلے گا جب وہ گرفتار ہو گا، فی الحال تحقیقات جاری ہیں۔

Back to top button