پراپرٹی سیکٹرمیں سرمایہ کاری کیوں رُک گئی؟

پاکستان کی معاشی صورتحال خراب ہونے کے بعد پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے رجحان میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ پراپرٹی سیکٹر سے وابستہ ماہرین اس شعبے میں کم ہوتی ہوئی سرمایہ کاری کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اعتماد کی کمی، زمینوں پر قبضے، تعمیراتی سامان مہنگا ہونے اور دھوکہ دہی کے واقعات کے علاوہ بڑھتے ہوئے حکومتی ٹیکسز بھی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔
تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ فراڈ اور دھوکہ کے واقعات نے پاکستان کے ریئل سٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے اعتماد کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ اب لوگ حقیقی منصوبوں میں بھی پیسہ لگانے سے خائف ہیں، سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ فراڈ اور دھوکے بازی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ سرکاری اداروں سے منظور شدہ پراجیکٹس بھی مشکوک دکھائی دیتے ہیں اور ہر دم یہی خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کل کو عدالتیں انہیں غیرقانونی قرار نہ دے دیں۔ خورشید ملک نامی ایک بڑے پراپرٹی ڈیلر نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے نسلہ ٹاور کے سینکڑوں قانونی مالکان کو جس طرح سپریم کورٹ نے بے گھر کرتے ہوئے سڑکوں پر لا پھینکا وہ بھی اسی طرح کے فراڈ کا واقعہ تھا جس کے کئی متاثرین صدمے سے اپنی جان سے چلے گئے۔ لہذا اگر معاملات ایسے رہے تو ریئل سٹیٹ میں جتنی تیزی سے سرمایہ کاری ہوئی تھی، وہ بھی ختم ہو جائے گی، اسلام آباد میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک منشا جاوید بتاتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے پراپرٹی ٹرانسفر کروانے کی فیس میں کیا جانے والا ہوشربا اضافہ بھی لوگوں کو پراپرٹی کے کاروبار سے دور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلاٹ اور تیار شدہ مکانوں کی قیمتیں تو اگرچہ کم نہیں ہوئیں مگر مارکیٹ سے سرمایہ نکلنے سے فائلوں کی قیمتیں کافی نیچے آئی ہیں، اس لیے وہ لوگ جن کے پاس ایسی سوسائیٹیز کی فائلیں تھیں جن کے سرکاری کاغذات کلیئر نہیں تھے، انہیں اچھا خاصا مالی نقصان ہوا ہے۔
آل پاکستان بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایسوسی ایشن کے سرپرست محسن شیخانی کے خیال میں عالمی سطح پر معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کے اثرات پاکستان کے پراپرٹی سیکٹر پر بھی آئے ہیں لیکن شرح سود میں اضافہ ترقی رکنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسی طرح گھر بنانے کے لیے تعمیراتی سامان کی قیمت بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، محسن شیخانی کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال میں کاروبار آدھے سے بھی کم رہ گیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں حقیقی ترقی گھروں کی تعمیر سے ممکن ہے لیکن پاکستان میں سیمنٹ، سٹیل اور سریے کی پیداوار میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں تعمیرات میں کمی ہو رہی ہے۔ عدیل کہتے ہیں کہ ریئل اسٹیٹ اور ڈویلپمنٹ کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری اوورسیز پاکستانی کرتے تھے۔ گزشتہ برسوں میں جب ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی گئی تھی تو ٹیکس وصول کرنے والے ادارے اتنا تنگ نہیں کرتے تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ فیڈریشن آف ریئلٹیرز پاکستان کے صدر مسرت اعجاز خان کے مطابق موجودہ حکومت نے اپنی پالیسیوں سے ترقی کرنے والے شعبے بھی بند کر دیئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نہ تو اس وقت بیرون ملک سے ڈالرز آ رہے ہیں اور نہ ہی کوئی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق تعمیراتی میٹریل کی قیمت میں ایک بار پھر سے اضافہ ہوچکا ہے جس میں کمی ہوتی ممکن نظر نہیں آتی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پراپرٹی خریدنے، اور اسکی ملکیت اور ٹرانسفر پر ٹیکس چھوٹ دی جائے تاکہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری آ سکے، انہوں نے کہاکہ سیکشن 236 سی اور 236 کے تحت لگائے گئے ٹیکس کو واپس فائلر کیلئے ایک فیصد اور نان فائلر کیلئے دو فیصد کیا جائے، اسی طرح سٹیٹ بینک کی ہاؤسنگ فنانس پالیسی کو پرانی سطح پر بحال کرنے سے بھی اس شعبے کی کاروباری سرگرمیوں کو مدد مل سکتی ہے۔
