کیا ریفرنس سے چیف جسٹس کو ہٹانا ممکن ہے؟

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن میں التواء کیس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے تاہم زمینی حقائق کے مطابق ریفرنس کے ذریعے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو ہٹانا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے بعد نہ صرف اجلاس کی طلبی میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ اجلاس چیف جسٹس نے خود ہی طلب کرنا ہے بلکہ اس ریفرنس پر کارروائی پر بھی وقت لگ سکتا ہے۔اس ساری مشق کا حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ جب تک معاملہ چلے گا چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ آ جائے گی۔‘

جسٹس اطہر من اللہ کا تفصیلی اختلافی نوٹ سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نےٹویٹ کیا کہ عدالتیں قوموں کو بحرانوں سے نکالتی ہیں نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں،چیف جسٹس نے نہ جانے کونسا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی۔پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کی بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے۔

مریم نواز نے کہا کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کی حمایت کیلئےآئین کی کھلم کھلاخلاف ورزی کی،اختیارات کے اس صریح غلط استعمال نے پاکستان کی سپریم کورٹ میں بغاوت جیسی غیر معمولی صورتحال کو جنم دیا۔ چیف جسٹس کو اب استعفی دے دینا چاہیے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا چیف جسٹس کا فیصلہ اقلیتی ثابت ہوگیا، بنچ فکسنگ ختم کریں. اے این پی کے ایمل ولی خان نے کہا چیف جسٹس نے استعفیٰ نہ دیا تو عید کے بعد تیار رہیں، ہم اسلام آباد آرہے ہیں.وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ جسٹس اطہرمن اللہ کا اختلافی نوٹس عدالتی کارروائی پر سوالیہ نشان ہے. چیف جسٹس کی حیثیت متنازع ہوچکی ہے،اب انھیں آئین سے مزید کھلواڑ کی بجائے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

خیال رہے کی مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور 14 مئی کو صوبہ پنجاب میں انتخابات کے اعلان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ان تین ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جانا چاہیے کیوں کہ ان کا فیصلہ ہی ان کے خلاف چارج شیٹ کا درجہ رکھتا ہے۔

بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بتایا تھا کہ ’چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور سپریم کورٹ کے دیگر دو ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہیں البتہ ’اس سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔‘

تاہم سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ اگر حکومت چیف جسٹس کے خلاف جوڈیشل ریفرنس دائر کرے تو اس کا طریقہ کار اور نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ جوڈیشل ریفرنس دائر کرنے کے لیے قانونی طریقہ کیا ہے؟ اس اقدام کے قانونی نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 209(5) بی کے تحت مس کنڈکٹ پر سپریم جوڈیشل کونسل کو متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے، صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر مس کنڈکٹ پر کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس اس کا فیصلہ پسند نہ آنے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا اس کے لیے مِس کنڈکٹ کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو فیصلہ پسند نہ آنے پر سارا پاکستان ہی ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرتا رہے۔

دوسری جانب جمعے کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی برطرفی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں وکیل سبطین خان نے پہلا ریفرنس جمع کروا دیا ہے۔ریفرنس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ’یہ ریفرنس اس لیے دائر کیا جا رہا ہے تاکہ دو رکنی بینچ کے کہنے پر جو ازخود نوٹس لیا گیا ہے اس کی تحقیقات ہو سکے۔ ریفرنس میں کہا گیا کہ سینیئر ججوں کو بینچ میں نظر انداز کرنا اور من پسند ججوں پر مشتمل بینچ بنانا چیف جسٹس کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔‘

مزید کہا گیا ہے کہ ’27 فروری کو دو ججوں کی معذرت کے بعد اختلاف کرنے والے مزید دو ججوں کو نئے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، یکم مارچ کا فیصلہ تین دو کی نسبت سے تھا اور اگر جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحیی آفریدی کو بینچ کا حصہ رہنے دیا جاتا تو یکم مارچ کا فیصلہ وہ نہ آتا جو چیف جسٹس چاہتے ہیں اور شائد چیف جسٹس کو اس کا ادراک تھا اس لیے انہوں نے جان بوجھ کر اختلاف کرنے والے دو ججوں کو بھی نئے بینچ میں شامل نہیں کیا۔’حالیہ تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال مِس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے آرٹیکل 209 شق چھ کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔‘

ریفرنس فائل ہونے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل راجہ عامر عباس کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی جج کے خلاف جب ریفرنس دائر کیا جاتا ہے تو اس کے لیے سپریم جوڈیشل کمیٹی بیٹھ کر جائزہ لے گی کہ ریفرنس میں مواد موجود بھی ہے کہ نہیں، کیونکہ کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس اس کا فیصلہ پسند نہ آنے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا اس کے لیے مِس کنڈکٹ کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’ریفرنس کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس بھی چیف جسٹس نے طلب کرنا ہوتا ہے، چاہے ریفرنس چیف جسٹس کے خلاف ہو تب بھی کمیٹی اجلاس چیف جسٹس ہی بلائیں گے لیکن خود پھر اس کمیٹی میں نہیں بیٹھیں گے۔ اس صورت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن کمیٹی میں شامل ہوں گے اور اگر جسٹس اعجازالاحسن کے خلاف بھی ریفرنس ہوتا ہے تو فہرست میں ان کے بعد کا سینیئر ترین جج شامل ہو گا۔‘

راجہ عامر عباس نے کہا کہ ’کمیٹی ریفرنس کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات صدر کو بھیجے گی اور اس کے بعد صدر بھی معاملے پر اپنا اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لیے اس ساری مشق کا حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ جب تک معاملہ چلے گا چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ آ جائے گی۔‘

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل کا کہنا ہے کہ ’ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ چیف جسٹس یا کسی بھی جج کے خلاف جب ریفرنس دائر ہو تو کمیٹی سے انکوائری نوٹس ملنے کے فوراً بعد وہ سپریم کورٹ میں اس ریفرنس کو چیلنج کر دے تو جب تک درخواست کا فیصلہ نہیں ہوتا، ریفرنس کی کارروائی رک جائے گی، جیسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جس پر لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔‘

بیرسٹر صلاح الدین نے بتایا کہ ’اگر ریفرنس حکومت کی طرف سے فائل ہوتا ہے تو وہ بذریعہ صدر جائے گا جس پر صدر اپنا مائنڈ اپلائی کریں گے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص انفرادی حیثیت میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دے۔‘انہوں نے مزید بتایا کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ہوتا ہے لیکن چیف جسٹس کے خلاف دائر ہونے کی صورت میں چیف جسٹس کے بعد تین سینیئر ترین سپریم کورٹ کے جج اور دو ہائی کورٹس کے سینیئر ترین چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل میں بیٹھ کر معاملے کو دیکھیں گے اور اس پر فیصلہ کریں گے۔‘

بیرسٹر کامران راجہ نے کہا کہ ’اس کے لیے حکومت کو ریفرنس بذریعہ صدر ہی بھیجنا پڑے گا۔ اگر صدر وہ ریفرنس نہیں بھیجیں گے تو حکومت صدر کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر سکتی ہے۔‘

اس معاملے پر تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے میڈیا ٹاک میں بیان دیا کہ ’نواز شریف کہتے ہیں کہ ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کریں گے، لیکن ان کو یہ نہیں پتہ کہ ججوں کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا۔‘جبکہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس معاملے پر کہا کہ ’سپریم کورٹ کے تین ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا نتیجہ بھی زیرو نکلے گا۔

 

حکمران اتحاد عمران خان سے مذاکرات پر تقسیم کیوں؟

Back to top button