’’کاکول ٹریننگ کیمپ میں اعظم خان کی دھوم‘‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں جاری تربیتی کیمپ میں بلے باز اعظم خان کی خوب دھوم رہی، اپنی بھاری بھرکم جسامت کی بدولت وہ کیمپ میں اکیلے ہی نظر آئے، جس کی وجہ سے ہر خاص و عام کی ان کی طرف توجہ زیادہ تھی۔ایبٹ آباد کے پر فضا مقام کاکول آرمی ٹریننگ سینٹر میں جاری قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا فٹنس اور ٹریننگ کیمپ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں تمام کھلاڑی ٹریننگ کے حوالے سے تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر لگا رہے ہیں وہیں اعظم خان اس وقت تمام کھلاڑیوں پر بھاری ہیں اور ہر ایک کی توجہ کی مرکز نگاہ ہیں، سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کرکٹر افتخار احمد کی جانب سے ایک ویڈیو شیئرکی گئی جس میں کھلاڑی مشقت بھری ایکسرسائز کرتے دکھائی دیئے، لیکن اس دوران بھی اعظم خان سب کی توجہ کا مرکز بن گئے، اور جیسے ہی وہ پہاڑی پر پہنچے تو تمام کھلاڑیوں نے اعظم خان اعظم خان کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔کاکول میں جاری فزیکل ٹریننگ کیمپ میں کھلاڑیوں کو انوکھی مشق کا سامنا کرنا پڑا، وزنی پتھر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کا چیلنج دیا گیا، جیسے تیسے کر کے کرکٹرز چوٹی پر پہنچتے گئے، اس دوران سب کو انتظار تھا آخری ساتھی کے آنے کا اور وہ تھے اعظم خان۔جیسے ہی اعظم خان کو دور سے آتے دیکھا تو افتخار احمد سمیت دیگر کھلاڑیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی، کھلاڑیوں نے نعرے لگانے شروع کر دیئے اور اعظم خان اعظم خان پکارنا شروع کر دیا۔ قومی ٹیم کے کاکول میں جاری فٹنس کیمپ کے دوران سب سے زیادہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اعظم خان ہی کی ہیں، کیونکہ شائقین کرکٹ اعظم خان کو فٹنس سینٹر میں ٹریننگ کرتا دیکھ کر کافی خوش بھی دکھائی دے رہے ہیں اور بہت سے شائقین طنز و مزاح بھی کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس میں شائقین نے اعظم خان کو خوب سراہا بھی ہے اور کئی نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ اعظم خان کو ایک سال تک کاکول میں ہی چھوڑا جائے، کسی نے لکھا کہ اعظم خان پر ڈبل فوکس ہونا چاہئے۔ ایک صارف نے تو طنز کرتے ہوئے لکھا کہ کہیں یہ نہ ہو اعظم خان اس ٹریننگ کے بعد کرکٹ کھیلنا ہی چھوڑ دیں۔اعظم خان خود بھی سوشل میڈیا پر اس طرح کی پوسٹ لگا دیتے ہیں جو طنز و مزاح سے بھرپور ہوتی ہے۔ اعظم خان نے اپنی اور قومی ٹیم کے دیگر وکٹ کیپرز کی ایک تصویر اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر پوسٹ کی، جس میں قد اور جثے کے لحاظ سے ان کا سائز بیان کیا گیا ہے۔اس تصویر میں اعظم خان، محمد حسیب، محمد رضوان اور محمد حارث موجود ہوتے ہیں۔ اپنی تصویر پر اعظم خان نے ’ایکسٹرالارج‘ اور محمد رضوان کی تصویر پر ’سمال‘ لکھا ہے جبکہ محمد حارث کو میڈیم سائز اور حسیب اللہ خان کو لارج سائز قرار دیا ہے۔جیسے ہی یہ تصویر وائرل ہوئی کمنٹس میں صارفین نے خوب چھیڑ چھاڑ اور طنز و مزاح پر مبنی تبصرے کیے، اور اعظم خان کی جانب سے کئے گئے اس دلچسپ موازنے پر خوب ہنستے بھی رہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ فزیکل ٹریننگ کیمپ کے کھلاڑیوں کی فٹنس کی فکر ختم ہو گئی ہے۔
کاکول آرمی سکول و فزیکل ٹریننگ سینٹر میں 10 روز تک جاری رہنے والے کیمپ میں کھلاڑیوں نے مختلف وزشیں کیں اور وہ ایک روز قبل ہی ختم ہوا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں بابر اعظم نے ٹریننگ کیمپ کو ’کرکٹ کے لیے فائدہ مند‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ایسا فٹنس کیمپ ضروری تھا۔
کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ میرا اس قسم کا تیسرا کیمپ تھا، جب بھی حصہ لیا کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔‘
ان کے مطابق ’کیمپ کا اصل مقصد ٹیم میں اتحاد تھا اور اس پر بہت کام ہوا۔‘
انہوں نے کیمپ کے دوران یادگار لمحہ وہ تھا جب اعظم خان کو پہاڑ کی چوٹی سر کرنی تھی۔
اسی طرح شاداب نے بھی کیمپ کے انعقاد کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کھلاڑی جتنا زیادہ فٹ ہوں گے، ٹیم کو اتنا ہی فائدہ ہو گا۔‘
عامر جمال کے خیال میں ’یہ ایک نئی قسم کی ٹریننگ تھی لیکن پھر اس کے عادی ہو گئے۔‘
عماد وسیم کہتے ہیں کہ ’یہ کرکٹ کی عام ٹریننگ سے مختلف تھی مگر بہت کارآمد تھی۔‘
اعظم خان نے بھی کیمپ کو اپنے لیے ایک منفرد تجربہ قرار دیا جبکہ نسیم شاہ کے بقول ’یہ ٹریننگ ٹیسٹ میں ہمارے کام آئے گی جہاں زیادہ سٹیمنا درکار ہوتا ہے۔‘
کیمپ کے دوران کرکٹرز کو سخت ترین مشقیں کرائی گئیں، انہوں نے پہاڑوں پر چڑھائی کی اور دیواریں بھی پھلانگیں۔
اس ایونٹ کی متعدد ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں جن میں اعظم خان مرکز نگاہ رہے۔
رسہ کشی کی ویڈیو میں وہ دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ زور لگاتے ہوئے دکھائی جبکہ پہاڑ پر چڑھنے کے دوران دوسرے کھلاڑیوں سے پیچھے رہ گئے۔
