ایف آئی اے کو صدرعلوی کا بھی ایک بینک اکائونٹ مل گیا ہے

وقاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو اب عارف علوی کے نام سے ایک اکاؤنٹ ملا ہے جو الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیا گیا جو عارف علوی کے دستخط سے کھولا گیا تھا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک میں ایک شخص اپنے بیانیے کو اتنا پھیلا رہا ہے کہ وہ پروپیگنڈا ہونے لگا ہے اور جب ملک کی تباہ کن معیشت اپنی درست سمت میں جارہی ہے اور جب یہ بات اس شخص کو معلوم ہوئی تو اس نے سیاسی عدم استحکام اور افراتفری پیدا کردی ہے، تاکہ اتحادی حکومت کے معیشت کی بہتری سے اعتماد کو خطرے میں ڈالا جائے۔

انہوں نے کہا2018 میں ہم نے تندرست معیشت ان (عمران خان) کے حوالے کی تھی، اگر ان کو معیشت ٹھیک کرنی ہوتی تو کرتے مگر انہوں نے معیشت کا دیوالیہ نکالا، جو معیشت گزشتہ حکومت میں تباہی کا شکار تھی وہ اب موجودہ اتحادی حکومت کی کوششوں سے درست سمت پر ہے جس سے مہنگائی بھی کم ہوگی اور روزگار بھی میسر ہوگا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب جب ایک بیرونی ایجنٹ اور چور پکڑا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے کے بعد فیصلہ آگیا ہے، پہلے الیکشن کمیشن کے فیصلے سے 8 سال بھاگتے رہے اور کسی بھی تفتیش کو مکمل نہیں کروایا جس میں ہیلی کاپٹر کیس، مالم جبہ، بلین ٹری سونامی کیس شامل ہیں مگر اس کے برعکس اتنا شور مچایا کہ مخالفین کو جیلوں میں بند کردو جس پر چار سال حکومت ہونے کے باوجود بھی الزامات ثابت نہیں کر سکے، جھوٹ پر مبنی بیانیے کو بنانا تھا جس کے لیے ریاست کو بھی طاقت کے طور پر استعمال کیا، نیب نیازی گٹھ جوڑ کا سہارا لیا، طیبہ گل کی نیب چیئرمین سے متعلق وڈیو کو استعمال کیا اور ایک بیانیہ بنا دیا مگر جب عدالتوں میں ثبوت پیش کرنے کی باری آئی تو وہ بیانیہ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوسکا۔

انکا کہناتھا ان کی صداقت اور امانت کا جنازہ نکل چکا ہے جو ان کو سرٹیفکیٹ ملا تھا، یہ لوگ جھوٹے بھی ہیں، چور بھی ہیں، ان کو الیکشن کمیشن نے فارن ایجنٹ ڈکلیئر کیا ہے کیونکہ 5 بار غلط بیان حلفی جمع کروایا ہے اور جس اکاؤنٹنٹ فرم کے ذریعے رکارڈ جمع ہوتا رہا اس نے بھی ایف آئی اے کو خط لکھ دیا ہے کہ ہمارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں جو رکارڈ ہمیں ملتا تھا ہم جمع کرتے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا تہلکہ مچانے والی چیز یہ سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن ان سے کے اے ایس بی بینک کے ایک اکاؤنٹ کی تفصلات مانگتی رہی جو انہوں نے چھپائی تھی، مگر اس پر کے اے ایس بی بینک نے کہا کہ ہم تفصلات بھیج رہے ہیں ہمیں کچھ وقت درکار ہے اور بعد میں کہا کہ ہمارا سافٹ ویئر بیٹھ گیا ہے جس کے بعد عمران خان مسلط ہوئے تو وہ سافٹ ویئر چار سال تک بیٹھا رہا، الیکشن کمیشن کی طرف سے کے اے ایس بی بینک کو یہ بھی لکھا گیا ہے کہ چار ملازمین کے علاوہ جو دیگر اکاؤنٹس ہیں ان کی تفصیلات بھی فراہم کریں جو انہوں نے فراہم نہیں کی، مگر جو تفصیل سامنے آئی ہے اس کے مطابق نیشنل کیمپن آفس مسلم ٹاؤن لاہور کے اندر ان کے سینٹرل بورڈ فنانس کی اجازت سے ایک اکاؤنٹ کھلا جس میں 78 کروڑ روپے فارن فنڈنگ آئی اور وہ فنڈنگ کے اے ایس بی بینک کے ذریعے نکالی گئی۔

منی لانڈرنگ : مونس الٰہی ایف آئی اے پیش، دو مبینہ فرنٹ مین گرفتار

مریم اورنگزیب نے کہا وہ اکاؤنٹ بھی ان (تحریک انصاف) کے مرکزی فنانس سیکریٹری کی منظوری اور دستخط کے ساتھ کھلا اور وہاں سے جو پیسے نکلتے رہے وہ بھی سینٹرل بورڈ کے دستخطوں سے منظور ہوکر نکلتے رہے اور ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل ہوتے رہے جس کی تفصیلات ایف آئی اے کے پاس موجود ہے، اس کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ جو 2 آفشور کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں ان کا پتا بھی 2 زمان پارک ہے اور جتنی بار بھی عمران خان سے پوچھا گیا کہ ان کمپنیوں سے آپ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں تو انہوں نے کہا ہمارے پلاٹ 2 ہیں، مگر دونوں آفشور کمپنیاں فریدالدین کے نام سے رجسٹرڈ ہیں جن کا ذکر پنڈورا پیپرز میں آیا تھا اور ان کمپنیوں کے اکاؤنٹس کھولنے کے لیے تحریک انصاف کے فنانس سینٹرل بورڈ نے جن 4 چار لوگوں کو اجازت دیے ان میں فریدالدین بھی شامل ہیں۔

انہوں نےکہا جب جب عمران خان اور ان کے ساتھیوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا ان اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور 8 سال تک الیکشن کمیشن سے یہ تفصیل چھپاتے رہے، مگر اب کے اے ایس بی بینک نے ڈیٹا فراہم کردیا ہے، پہلے آٹھ سال تک عمران خان کہتے رہے کہ الیکشن کمیشن میں میرا دائرہ کار نہیں ہے اور اب کہہ رہے ہیں کہ ایف آئی اے میں میرا دائرہ کار نہیں ہے اور ہائی کورٹ میں 11 درخواستیں دائر کردیں کہ یہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں اس لیے جواب نہیں دوں گا،عمران خان نے کسی کو بھی متعلقہ تفصیلات پوچھنے پر جواب نہیں دیا، جب اپوزیشن نے پوچھا تو 4 سال تک ان کو بھی جیلوں میں بند رکھا اور الیکشن کمیشن سے بھاگتے رہے، یہ وہی شخص ہے جس نے ڈی چوک پر بھی کہا تھا کہ آئی جی میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں اور اب جج کا نام لے کر کہتا ہے کہ زیبا سن لیں میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا یہ (عمران خان) ایک غنڈہ، ٹھگ شخص ہے جو لوگوں کو تشدد پر اکساتا ہے، اشتعال انگیز تقاریر سے لوگوں میں انتشار پھیلاتا ہے اور بھاگ جاتا ہے، اسی طرح سعودی عرب میں لوگوں کو اشتعال انگیز کرکے نعرے لگوائے جس سے مزدوروں کو وہاں 10، 10 سال تک سزا ہوگئی اور وہاں سے بھاگ گئے، ایک مذمتی بیان تک نہیں آیا اور 25 مئی کو بھی لوگوں کو بلایا اور وہاں سے بھاگ گئے جبکہ گزشتہ رات بھی لوگوں کو بنی گالا بلایا کہ میں جواب نہیں دوں گا سیاسی دہشت گردی کروں گا پھر وہاں سے بھی بھاگ گئے،اگر تم (عمران خان) نے چوری نہیں کی تو نواز شریف کی طرح خط کیوں نہیں لکھتے کہ میرا احتساب کیا جائے، اگر چوری نہیں کی تو ایف آئی اے کو جواب دو، الیکشن کمیشن کو جواب دیتے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیلاب متاثرہ افراد کو ایمرجنسی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت متاثرہ لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 25، 25 ہزار روپے نقد دیے جائیں گے،جو مون سون کے دوسرے مرحلے کے دوراں سیلاب متاثرہ لوگوں کا نقصان ہوا ہے اس کے مقابلے میں یہ رقم کچھ بھی نہیں مگر فوری امداد بشمول ادویات، خوراک وغیرہ خرید سکتے ہیں کیونکہ جن علاقوں میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نہیں پہنچ سکتا وہاں اس رقم کے ذریعے متاثرہ شہریوں کی مدد کی جاسکتی ہے،اس رقم کے علاوہ وزیر اعظم نے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے فوری طور پر دینے کی ہدایت کی تھی جس پر وزارت خزانہ عملدرآمد کر رہی ہے اور اس پر ایمرجنسی ریلیف اینڈ ریسکیو کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

Back to top button