پروجیکٹ عمران بنانے والے اب اسے کیسے بچا رہے ہیں

معروف صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو حکمران بنانے کے لیے ’پروجیکٹ نجات دھندہ‘ اکتوبر 2011 میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھرپور مدد سے لانچ کیا گیا تھا لیکن یہ اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام رہا۔ لہذا اب اس پروجیکٹ کی ناکامی کا مدعا اپوزیشن جماعتوں کے گلے ڈالنے کے لیے انہیں اقتدار سونپا گیا ہے تاکہ اگلے الیکشن میں عمران خان کلین سویپ کر جائے۔
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ماضی میں پی این اے، آئی جے آئی اور مسلم لیگ ق جیسے تجربات نے چونکہ خاطر خواہ نتائج نہیں دیے تھے اس لیے اس بار ’پروجیکٹ نجات دھندہ‘ میں پچھلی خامیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھ کے تازہ مصالحے شامل کیے گئے۔ نئے پروجیکٹ میں امیج میکرز ، سوشل میڈیا ایکسپرٹس اور الیکٹ ایبلز نے مرکزی کردار ادا کرنا تھا۔ 2014 میں 136 روز کا دھرنا اس پروجیکٹ کی فائنل ٹیسٹنگ تھی۔ اس ٹیسٹنگ میں جو کمزوریاں سامنے آئیں انھیں اگلے چار برس میں دور کیا گیا۔ پرانی سیاسی نسل کو ہر طرح سے محاصرہ زدہ، خوفزدہ اور مقدمہ زدہ کر کے ٹھکانے لگایا گیا تاکہ عمران خان پوری سہولت سے سکہ رائج الوقت کے طور پر چل جائے۔ ایک نئے بے داغ سویلین فلمی سیٹ پر پوری فلم شوٹ کی گئی۔ کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک مقبول، ایمان دار نجات دھندہ ریاست کو لگی دیمک کا تسلی بخش علاج کر کے اسے ایک ایسی ٹھوس قوم بنا دے گا جو باقی دنیا کی باعزت توجہ جیت سکے۔عمرانی پروجیکٹ ڈیزائنرز کو توقع تھی کہ انھیں بھانت بھانت کے مفاد پرستوں کو الگ الگ آپریٹ کرنے کے مسئلے سے کم از کم اگلے 15 سے 20 برس کے لیے نجات مل جائے۔ چنانچہ جولائی 2018 میں مکمل پولٹیکل انجنیئرنگ کے ساتھ عمران خان کو الیکشن جتوایا گیا اور وزیر اعظم بنوایا گیا۔ پھر اگلے ساڑھے تین برس نئے رہنما کی راہ میں آنے والی ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی رکاوٹ سے پروجیکٹ انجنیئرز کی ایک خصوصی ٹیم براہِ راست نمٹتی رہی تا کہ اسکی ٹیم کو امورِ مملکت چلانے کا بنیادی تجربہ حاصل ہو جائے۔
مگر وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ٹیم عمران، ماہر انجنیئرز کی وضع کردہ ٹائم لائن کے مطابق نہ چل سکی اور مایوسی بڑھنے لگی۔ لہذا اس مہنگے پروجیکٹ کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ری لانچنگ کا ہنگامی منصوبہ تیار کیا گیا۔ نئے منصوبے کے تحت ناتجربہ کار خان کو مزید کڑوے اور ناگزیر اقتصادی فیصلوں کی تپش سے تحفظ دینے کے لیے سیاست کے پرانے کھلاڑیوں کو عارضی طور پر اقتدار منتقل کیا گیا تاکہ عمران کا پھیلایا ہوا گند سمیٹ کر وہ اپنے سر ڈال سکیں۔ دوسری جانب خان کو ایک نیا بیانیہ تھما دیا گیا۔ اس دوران آئی ایم ایف کے مطالبات سمیت جتنے کڑوے فیصلے تھے وہ بھی کروا لیے گئے۔ توقع کے مطابق ہر کوئی نئی حکومت پر تھو تھو بھی کر رہا ہے اور عمران دوبارہ سے ایک نجات دھندہ کے طور پر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ابھارا جا رہا ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ اگلے الیکشن میں عمران کو دو تہائی اکثریت دلوا کر نہ صرف اٹھارویں آئینی ترمیم میں چھپی بارودی سرنگیں صاف کر دی جائیں بلکہ وزیرِ اعظم کے دستوری اختیارات ایوانِ صدر منتقل کر کے خان کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے طاقتور آئینی صدر بنا دیا جائے۔ اسکے علاوہ ہر طرح کی اختلافی آواز کو پہلے سے زیادہ دبانے کی کوشش یہ کہہ کر کی جائے کہ جو نجات دھندہ کا دشمن ہے وہ دراصل ملک کی ترقی کا دشمن ہے ۔اس کے بعد انجنیئرز اور ان کی پروڈکٹ ایک بار پھر ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ کہ ’پروجیکٹ نجات دھندہ‘ کی ایک دوسری تھیوری کے مطابق جب عمران خان کو اقتدار تھمانے اور ان کی ہر طرح سے مدد کے باوجود مطلوبہ اہداف حاصل نہ کیے جا سکے تو مجبوراً ان سے اقتدار لے کر براہ راست سامنے آنے کے بجائے پرانے کھلاڑیوں سے رجوع کیا گیا۔ مگر عمران خان نے پروجیکٹ ڈیزائنر کے اندازے کے برعکس سیاسی سکریپ بننے سے انکار کر کے پروجیکٹ کو ہی براہ راست چیلنج کر دیا۔ یون جو محروم لوگ پہلے سے بھرے بیٹھے ہیں وہ عمران حکومت کی سابق ناکامیاں بھول بھال کر ریاست کو اپنی انگلیوں پر نچانے والے اندرونی و بیرونی دشمنوں سے نجات کے بیانیے کے پیچھے چل پڑے۔ اب پولٹیکل انجنیئرز کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس ناگہانی سے نمٹنے کے لیے پرانے کارتوسوں پر سو فیصد بھروسہ کریں تو عوام کی بے نقط سنتے ہیں مگر ’ان گائیڈڈ میزائیل‘ عمران خان پر بھی آگے کے لیے بھروسہ نہیں کر سکتے۔ ایسا ادھ بدھ چیلنج ڈیزائنرز کو پہلی بار درپیش ہے۔ چنانچہ اب بھائی لوگوں کا موجودہ سیٹ اپ پر تکیہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انکا خیال ہے کہ اس صورتِ حال کو جتنا طول دیا جا سکے، دینا چاہیئے تاکہ اس مہلت کے دوران ’ان گائیڈڈ میزائیل‘ کو زمین پر اتارنے یا تباہ کرنے کا کوئی موثر طریقہ ہاتھ آ سکے۔ مگر اس وقت کامیابی کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔
حکومت عمران خان سے خوفزدہ، آج یا کل گر جائے گی
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ایک تیسری تھیوری کے مطابق انسان کچھ سوچتا ہے لیکن قدرت کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بھٹو ہو کہ نواز شریف یا عمران خان، یہ تینوں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نرسری سے نکلے۔ مگر موقع ملتے ہی تینوں نے اپنا پاپولر بیس بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ بھٹو کو ایک بار اور نواز شریف کو تین بار یہ نایاب موقع ملا کہ وہ اپنی عوامی مقبولیت کے بل پر کچھ ایسی دورس اصلاحات کر جاتے جن کا مقصد شخصی حکمرانی کو مضبوط تر کرنے کے بجائے جمہور کی حکمرانی، انصاف اور حقوق کی محرومی کا خاتمہ ہوتا۔ مگر دونوں نے اس قیمتی موقع کو ضائع کر دیا۔ عمران خان کو ایک موقع ملا مگر انھوں نے اپنی بیساکھیاں ایک طرف رکھ کے سب کو ساتھ لے کر چل کے ملک میں جمہوری قوت کو طاقتور بنانے کا موقع ضائع کر دیا۔
اب اگر قدرت انھیں دوسرا موقع دے دے تو کیا ضمانت ہے کہ وہ اگلی بار بھی انتقام کی باتوں، تنگ نظری، غیر آئینی مشوروں پر توجہ، ذاتی اقتدار کے بڑھاوے اور نرگسیت کے قیدی بن کر نیا چانس ضائع نہیں کریں گے۔یوں ملک پھر گول گول اسی دائرے میں گھومتا رہے گا جب تک کوئی اور مداری پہلے سے بھی بہتر ڈگڈگی کے ساتھ نہیں اترتا یا اتارا جاتا۔ان تینوں تھیوریوں میں سے آپ اپنی پسند اور ذائقے کے حساب سے جو بھی تھیوری اٹھا لیں، آپ کو مکمل آزادی ہے۔ ویسے بھی آزادی کا نعرہ پھر سے فیشن میں ہے۔ محمد علی جناح نے تو معلوم نہیں ہمیں کیا شے تھمائی تھی۔
