پی ٹی آئی کا عمران کی ممکنہ گرفتاری کے آگے ڈٹ جانے کا فیصلہ

تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہےکہ کسی صورت عمران خان کی گرفتاری نہیں ہونے دینگے۔
عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام مستعفی ممبران قومی اسمبلی سمیت وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور مونس الٰہی بھی شریک ہوئے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان کے خلاف درج کیے گئے مقدمے کی مذمت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ عمران خان کو کسی صورت گرفتار نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں ضمنی انتخاب پر پی ٹی آئی کی جیت پر اظہار تشکر کیا گیا ساتھ ہی شہباز گل کی پولیس تحویل اور میڈیکل رپورٹس پر بھی تبادلہ خیال ہوا، اجلاس میں حکومت کو مزید ٹف ٹائم دینے پر اتفاق ہوا جب کہ عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
پٹرول کی قیمت میں اضافے پر حکومتی اتحادی جماعتیں ناخوش
قبل ازیں عمران خان سے وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے ملاقات کی جس میں عمران خا ن نے اپنی گرفتاری کی صورت میں وزیر داخلہ کو اہم ہدایات جاری کردیں،جس میں صوبہ پنجاب میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال، عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں پنجاب حکومت کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ عمران خان کی پنجاب میں عوامی مہم سے متعلق مختلف امور پر بھی مشاورت ہوئی۔
اس کے علاوہ چیرمین تحریک انصاف عمران خان سے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے ملاقات کی جس میں چوہدری مونس الہیٰ بھی میں موجود تھے۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
چوہدری پرویز الٰہی نے تحریک انصاف پر ہونے والی انتقامی کارروائیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت ہر طرح سے تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے، عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ہر طرح کے انتظامات کریں گے۔
چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کی سیاسی اور انتظامی صورتحال سے چیئرمین عمران خان کو آگاہ کیا۔ چیئرمین تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو عوامی فلاح کے منصوبوں خصوصاً صحت کارڈ اور احساس پروگرام پر خصوصی توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت دی ساتھ ہی مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام کے لیے صوبائی وسائل سے بہترین ریلیف کی فراہمی کے اقدامات کی بھی ہدایت دی۔
