میجر عادل راجہ کو لندن پولیس نے کیوں گرفتار کیا؟

ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا پراپیگنڈا کرنے والے شرپسندوں کے خلاف بھی شکنجہ کسنا شروع ہو گیا ہے۔برطانیہ میں سوشل میڈیا قانون حرکت میں آگیا ہے اور سابق پاکستانی فوجی افسر میجر (ر) عادل راجہ کو دہشت گردی کے فروغ کے الزام میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت گرفتار کرنے کے بعد برطانوی پولیس نے عادل راجہ سےکئی گھنٹے پوچھ گچھ کی ،بعدازاں پولیس ضمانت پر رہا کردیا گیا تاہم شکایات کی تحقیقات جاری ہے۔لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضٰی علی شاہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق سابق میجر کے وکیل نے تصدیق کی کہ عادل راجہ کو اینٹی ٹیررازم پولیس نے گرفتار کیا ، پاکستانی حکام کی شکایات پر ٹوئٹر نے تو کوئی ایکشن نہیں لیا البتہ یوٹیوب اور فیس بک نے عادل راجہ کے چینل 10 دن قبل بند کردیئے تھے۔

واضح رہے کہ لندن پولیس نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور یو ٹیوبر میجر (ریٹائرڈ)عادل راجہ کو کئی گھنٹے کی تفتیش کے بعد پولیس ضمانت پر رہا کر دیا ہے انہیں پاکستان میں دہشتگری کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کے شبہات میں برطانیہ کی انسداد دہشتگردی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ عادل راجہ کے وکیل مہتاب عزیز نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یوٹیوبر عادل راجہ کو پولیس نے تفتیش کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا ہے، مہتاب عزیز جو کہ عادل راجہ کی نمائندگی کرتے ہیں انہوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ عادل راجہ کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور پولیس اسٹیشن پر ان شکایات کے تحت زیر حراست رکھا جو کہ پاکستانی حکام نے برطانوی حکام سے کی تھیں۔ پولیس ذرائع سے جب اس حوالے سے دریافت کیا گیا تو ایک ذریعے نے بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کوئی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جاسکتیں۔ مہتاب عزیز کا کہنا تھا کہ ’’ پاکستان میں دہشتگردی سے متعلقہ ایک سنگین قسم کا وارنٹ  میجر(ر) عادل راجہ کے خلاف جاری کیا گیا ہے۔ اس قسم کے الزامات بہت سنجیدہ ہیں۔ جس طریقے سے عادل راجہ کو گرفتار کیا گیا ہے، مجھے یقین ہے کہ ان پر جو الزامات لگے ہیں وہ دہشتگردی کے قوانین کے تحت آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دہشتگردی کے قصور وار ہیں بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ برطانیہ کو عادل راجہ کے خلاف پاکستان سےجو اطلاعات اور انٹلی جنس ملی تھی اس پر برطانیہ کو کارروائی کرنا تھی۔ مہتاب عزیز کا مزید کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت برطانوی پولیس کو اگر کوئی انٹیلی جنس ملے تو اسے کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ ا ن کے تمام رابطے کے آلات بھی ساتھ لے گئی جیسا کہ اس قسم کے چھاپوں میں کیاجاتا ہے۔ ’’

 پاکستانی پس منظر کے حامل ایک سفارتی ذریعے نے کہا کہ عادل راجہ کو پولیس کے انسداد دہشتگردی ونگ نے اس وقت گرفتار کیاجب پاکستانی حکام نے ان سے شکایت کی کہ یہ شخص تشدد ، ہنگامہ آرائی اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور اس مقصد کےلیے وہ یوٹیوب اور ٹوئٹر استعمال کررہا ہے یادرہے کہ راجہ کا یوٹیوب چینل معطل کردیا گیا ہے۔ بدھ کو عادل راجہ نے سہ پہر کے بعد ایک ٹوئٹ کیاجس میں انہوں نے بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں اور اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اپنی حراست اور اپنی رہائی کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔ تاہم ان کے وکیل اور سیکورٹی ذرائع نے اس رپورٹر کو بتایا ہے کہ عادل راجہ کو گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے جبکہ پولیس ان کے خلاف شکایات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئےہے۔

خیال۔رہے کہ عادل راجہ کبھی ریٹائر مسلح افواج کے ترجمان ہوا کرتے تھے وہ ایک سال قبل اس وقت برطانیہ پہنچے تھے جب پارلیمنٹ نے عمران خان کو ووٹنگ کے ذریعے نکال باہر کیا تھا۔ وہ پی ٹی آئی کے بلند آہنگ حامی بن گئے اور پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف بولنے لگے۔ جلد ہی یہ واضح ہوگیا کہ وہ اپنے ادارے سے ہم آہنگ نہیں تھے اور وہ بڑے فعال طریقے سے فیس بک، ٹوئیٹر اور یوٹیوب کو استعمال کررہےتھے۔ انہیں یوٹیوب اور ٹوئٹر پر اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے ایسی خبریں شائع کرنا شروع کیں جو متنازع تھیں اور متعد د مرتبہ ملک کے حاضر سروس جرنیلوں سے براہ راست متعلق تھیں۔ عادل راجہ اسٹیبلشمنٹ کے غیر معذرت خواہانہ نقاد بن گئے اور جلد ہی ان کی فالونگ یوٹیوب پر بہت بڑھ گئی جہاں وہ روزانہ کی بنیاد پر ایک شو ہوسٹ کرتے تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں فوج کی صفوں کے اندر کے خبریں ملتی ہیں۔ فوجی ذرائع عموماًان خبروں کی تردیدکرتے رہتے لیکن یہ بڑے پیمانےپر سوشل میں پھیل جاتیں۔ وہ بڑے جنون کے ساتھ شعلہ بیانی کرتے ہیں لیکن خبریں دینے میں غلطیاں کرتے ہیں اور ایسے دعوے کرتے ہیں جو کہ حقیقتاً درست نہیں ہوتے تھے۔

ریاستی عہدیداروں سے ان کے تعلقات اس وقت مزید کشیدگی کاشکار ہوگئے جب حکام نے ان پر ویوز اور ریٹنگز کے لیے جعلی خبریں چھاپنے کا الزام عائد کیا۔ عادل راجہ کی چند ایک ویڈیو ز فوج اور حکومت کے اندر مبینہ توڑ جوڑ کے بارے میں تھیں اور انہیں لاکھوں ویوز ملے۔ ان کے خلاف بہت سی شکایات پاکستانی حکام نے ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب کے پاس جمع کرائیں لیکن پانی اس وقت گردن تک پہنچا جب 9مئی کو پاکستان تحریک انصاف کےکارکنوں اور رہنماؤں نے فوجی تنصیبات کا گھیراؤ کیا اور پاک فوج پر تشدد حملے ہوئے۔ عادل راجہ میڈیا وار فیئر میں نمایاں رہے اور ان واقعات میں بھی موجود رہے جن کے نتیجے میں 9 مئی کے حوالے ہوئے۔ ان شکایات پر ٹوئٹر نے توکوئی ایکشن نہیں لیا البتہ یوٹیوب اور فیس بک نے عادل راجہ کے چینل 10 دن قبل بند کردیئے تھے اس الزام میں کہ وہ جعلی خبریں پھیلاتے ہیں اور تشدد کے واقعات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے افراتفری پھیلاتے تھے۔ یہی وہ الزامات ہیں جن پر برطانوی حکومت نے اب ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔ پولیس کی طرف سے عادل۔راجہ کی گرفتاری بارے کوئی وضاحت نہیں کی گئی تاہم عادل راجہ نے پولیس حراست سے رہائی کے بعد کہا کہ ’’ میری خیریت کے حوالے سے بہت سی افواہیں تھیں۔ الحمد اللہ میں ٹھیک ہوں۔ اور میں پاکستان میں فاشنزم کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز آتھانے کےلیے پرعزم ہوں۔ تاہم عادل راجہ نے بھی

قومی اسمبلی سپیکر راجہ پرویز حادثے میں بال بال بچ گئے

اپنی گرفتاری بارے اپنی ٹوئٹ میں کوئی بات نہیں کی۔

Back to top button