کیا مریم اور خان کی لڑائی کا آخری راؤنڈ شروع ہو چکا ہے؟

مریم نواز اور عمران خان، پاکستانی سیاست کے وہ دبنگ سیاستدان ہیں جو ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ زبان درازی، توں تڑاک اور ہرزہ سرائی میں دونوں حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کی ٹکر کے ہیں تو غلط نہیں ہوگا اور اس بات میں بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ اپنے والد میاں نواز شریف کا جارحانہ انداز سیاست اپنا کر اگر کسی نے خلائی مخلوق اور اس دور میں ان کے چہیتے عمران خان کو للکارا ہے تو وہ مریم نواز ہی ہیں جو سرِ عام کہتی تھیں کہ دو تھپڑ ماریں گے تو دس کھائیں گے۔ مریم نواز کے لندن جانے سے پہلے اور عمران خان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے کے بعد دونوں کا کوئی جلسہ اور بیان ایسا نہیں جس میں انھوں نے ایک دوسرے کے لتے نہ لئے ہوں۔۔ دونوں ہی بات کرتے ہوئے عزت، لحاظ، تمیز اور تہذیب جیسی اقدار جیسے بھول ہی جاتے۔ نہ کردار کو چھوڑا اور نہ ہی خاندان کو، یہاں تک کہ فوج بھی ان کی لفظی گولہ باری کی زد سے محفوظ نہ رہی۔ اگر خان صاحب کہتے کہ ”یہ فوج میں انتشار پھیلاتی ہے“ تو مریم کہتیں ”تم نے ٹھیکہ لیا ہے پاکستان کی فوج کا“
اب جبکہ مریم نواز جنیوا میں کامیاب سرجری کے بعد ایک بار پھرسیاسی اُڑان بھرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ صرف پاکستان لینڈ کر چکی ہیں بلکہ باقاعدہ طور پر مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر کی حیثیت سے کام بھی کرنے لگی ہیں۔۔ مگر کہنے والے کہتے ہیں کہ مریم نے یہ عہدہ سنبھال تو لیا ہے لیکن اس سے عہدہ براہ ہونا دودھ کی نہر نکالنے جیسا ہے اور اس کا اعتراف مریم بی بی خود بھی کر چکی ہیں۔ خیر یہ بات تو طے ہے کہ مریم نے نئی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ دو نئے محاذ بھی کھول لئے ہیں جہاں لڑنے کے لئے بھلے وہ میڈیکلی فٹ ہو کر آئی ہیں لیکن اس لڑائی کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ چست اور توانا ہونا پڑے گا کیونکہ عمران خان اپنی لیگ انجری کی وجہ سے چال میں تو دھیمے ہو سکتے ہیں، سیاسی چالوں میں نہیں۔۔ اور اس کے لئے انھیں اسحٰق ڈار اور ن لیگ کے ناراض سینئر رہنماؤں کی صورت میں کمزور مہرے تھمانے کی ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہ اور مات کے اس نئے راؤنڈ میں جیت کس کی ہوتی ہے۔
ویسے ہمارے سیونٹی پلس اور چوٹی کے سیاستدان بھی، جن میں نواز شریف، آصف زرداری، شہباز شریف، شیخ رشید، فضل الرحمن اور کئی شامل ہیں ایک دوسرے سے بازی لگانے میں کسی سے کم نہیں لیکن جو کھیل خان صاحب اور مریم بی بی کا جمتا ہے، اس کی مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔
دونوں ایروگنٹ ہیں، ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے، بے مہار بولتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ حریف کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، حسن بھی ٹکر کا ہے ایک جاتی عمرہ کی پرنسس ہے تو دوسرا اس عمر میں بھی پرنس چار منگ سے کم نہیں۔ جہاں تک سوال ہے پچاس سالہ مریم کے نانی ہونے کا تو کیا خان صاحب اپنی زندگی میں آنے والی سینکڑوں حسین اور طرحدار خواتین میں سے کسی ایک سے وقت پر شادی کر لیتے تو کیا عمر کے اکہترویں سال میں نانا بلکہ پڑنانا نہ ہوتے؟
بہتر یہی ہے کہ دونوں اپنی لڑائی میں نانا نانی کے چکر سے نکلیں اور عوامی ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں پر فوکس کریں اور اپنے بیانیے پر دھیان دیں۔ فی الحال تو دونوں ہی کنفیوژڈ ہیں۔۔ خان صاحب بھی اسٹیبلشمنٹ سے منہ کی کھانے کے بعد بیک فُٹ پر کھیل رہے ہیں اور مریم کے لئے بھی شدید عوامی ردِ عمل کو رد کر کے آگے بڑھنا مشکل نظر آ رہا ہے!
