مولانا

تحریر: سلیم صافی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
مولانا فضل الرحمان کو لوگ مصالحت، جوڑ توڑ، اتحادوں اور سازباز کے حوالوں سے جانتے ہیں ۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی سیاست کا آغاز جیل سے کیا۔ ان کے مقابلے میں درخواستی گروپ میں علما کے بڑے بڑے نام موجودتھے لیکن جوانی میں انہوں نے ان کے مقابلے میں اپنی قیادت کا لوہا منوا کر علما کی واضح تعداد کو اپنا ہمنوا بنایا اور آج وہ علما کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمان قابل فخر حد تک بہادر بھی ہیں۔ ان پر چار خودکش حملے ہوئے جن میں وہ بال بال بچ گئے لیکن اس کے باوجود گھر میں نہیں بیٹھے ۔ کسی اور لیڈر کی زندگی کو اس قدر خطرات لاحق ہوتے تو وہ شاید گھر سے بھی نہ نکلتا لیکن مولانا ایک لمحے کے لئے آرام سے نہیں بیٹھے اور خیبر پختونخوا سے لے کر بلوچستان تک یا پنجاب سے لے کر سندھ تک ہر جگہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے رہتے ہیں ۔مولانا جوڑتوڑ کے لئے مشہور ہیں لیکن ڈٹ جانے کا فن بھی بدرجہ کمال جانتے ہیں ۔ جنرل ضیا کے مقابلے میں ایم آر ڈی کا حصہ رہے اور عمران خان کی حکومت میں تنہااپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ مولانا مدارس اور مولویوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی آواز بنے رہتے ہیں لیکن سیاسی رفاقت اور دشمنی دونوں کو نبھانے کا فن بھی جانتے ہیں ۔
مولانا موجودہ مقتدرہ سے باوجود اس کے ناراض ہیں کہ اس نے ان کے سب سے بڑے سیاسی مخالف عمران خان کو اندر کیا ہوا ہے ۔ اس ناراضی کی کئی وجوہات ہیں ۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ مولانا کے آبائی گاؤں اور زیر اثر علاقوں میں عملا ٹی ٹی پی کو کنٹرول حاصل ہوگیا ہے اور مولانا اس صورت حال کو مقتدرہ کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مولانا سمجھتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں انہیں ہروایا گیا ہے ۔ حالانکہ ان کی اس رائے سے مجھے اتفاق نہیں اور دل یہ نہیں مانتا کہ مقتدرہ نے انہیں ہروا کر پی ٹی آئی کو جتوایا ہوگا لیکن بہ ہر حال ان کے پاس اپنے دلائل بھی ہیں اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مقتدرہ نے انتخابات میں ان کے ساتھ بے وفائی کی ۔
مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شعوری طور پر اپنے آپ کو عسکریت پسندوں کا نشانہ نمبرون بنایا ہے اور اس بنیاد پر اس ریاست کو ان کو احسان ماننا چاہئے۔ اس کی تفصیل وہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو لوگ وابستہ ہیں وہ بھی کم وبیش اسی سوچ کے حامل ہیں جو ٹی ٹی پی کی ہے اور اگر وہ ان لوگوں کو پاکستان ، آئین اور پارلیمنٹ سے نہ جوڑتے تو وہ بھی عسکریت پسندوں کے ساتھ جاتے اور اگر مدارس کی یہ بڑی تعداد ٹی ٹی پی کی ہمنوا ہوجاتی تو پھر اس ریاست کا کیا حال ہوتا۔ اسی لئے عسکریت پسند مولانا پر خودکش حملے کرتے ہیں کیونکہ نظریاتی طور پر وہ انہیں اپنے راستے کی دیوار سمجھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور داعش کے وابستگان جمہوریت کو کفر سمجھتے ہیں اور اس کی بالادستی کے لئے کام کرنے والوں کو مرتد شمار کرتے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمان آئین اور جمہوریت کے علمبردار ہیں اور مذہبی طبقے کی ایک بڑی تعداد کو ریاست اور آئین سے جوڑے رکھا ہے ۔ اس لئے داڑھی اور پگڑی کے اشتراک کے باوجود عسکریت پسند بغیر داڑھی کے سیاستدانوں کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمان کی جان کے زیادہ درپے ہیں۔
چند روز قبل مولانا فضل الرحمان نے پنجاب میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ تناظر میں تقریر کرتے ہوئے مقتدرہ سے گلے شکوے کئے اور ان کے کردار پر انگلی بھی اٹھائی ۔ تسلسل میں ان کی زبان سے شہدائے وطن کے بارے کچھ ایسے الفاظ ادا ہوئے کہ جو مناسب نہیں تھے ۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے خود میں نے بھی انہیں نامناسب قرار دیا اور اگر مولانا وہ الفاظ نہ کہتے تو بہتر ہوتا لیکن جوردعمل ظاہر کیا گیا اور جس طریقے سے زیادہ ظاہر کیا گیا وہ نہایت افسوسناک تھا۔ ایسے لوگوں کو مولانا کے خلاف میدان میں اتارا گیا جن کی معاشرے میں کوئی وقعت ہی نہیں۔بعض نے تومولانا کو گھٹیا القابات سے پکارا اور انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کی گئی۔ سوشل میڈیا پر تو مخصوص اکاؤنٹس سے مغلظات کی حد کر دی گئی۔ ایسا تاثر دیا گیا کہ جیسے مولانا کا کوئی مثبت کردار نہیں اور خدا نخواستہ وہ ملک دشمن ہیں۔ غداری کے فتوے بانٹنا تو ایک فیشن بن گیا ہے چنانچہ مولانا کو بھی اس تمغے سے نوازا گیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں تک مولانا کی تقریر نہیں پہنچی تھی ان تک بھی پہنچ گئی ۔ ہر ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ مولانا نے کیا ایسی بات کی ہے کہ انہیں آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے اور پھر اسے اس وقت تک سکون نہ آتا جب تک وہ اس کلپ یا تقریر کو تلاش کرکے دیکھ اور سن نہ لیتا ۔اس کے برعکس اگر خاموشی کے ساتھ مولانا کے ساتھ رابطہ کرلیا جاتا اور ان کی توجہ دلائی جاتی کہ ان کے الفاظ سے شہدا کے لواحقین کی دل آزاری ہوئی ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی بات سے رجوع کرلیتے لیکن جو کچھ مولانا کے خلاف کیا گیا اس کے بعد اس بات کی گنجائش بھی نہیں رہی کیونکہ ضد کے جواب میں مولانا بھی ضد میں آتے ہیں۔سوشل میڈیا پر کردار کشی کی جو ریت چل نکلی ہے اس کو چلانے والوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ گالم گلوچ اور کردار کشی سے کوئی آدمی یا اس کا فالور اپنی رائے نہیں بدلتا۔ رائے دلائل، شواہد اور مخلصانہ نصیحت سے بدلی جاتی ہے ۔ یوں کردارکشی کی مہمات چلانے سے اس کو چلانے والوں کی شاید تسکین ہوجاتی ہے لیکن مخاطب کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مولانا کے جتنے فالورز کل تھے ، اتنے آج بھی ہیں ۔ ان کی پوزیشن اور حیثیت جو کل تھی وہی آج بھی ہے ۔
