قومی اسمبلی:حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے،ایوان مچھلی منڈی بنارہا

سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کا آغاز ہوا تو اپوزیشن نے نکتہ آغاز پر بات کرنے کے لیے مائیک مانگا، تاہم اسپیکر نے سابق اسپیکر اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وقفہ سوالات مکمل ہونے دیں۔
اجلاس کے دوران وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی نے وزارت کے ماتحت چار اہم ادارے بند کرنے کے فیصلے سے ایوان کو آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر کا تحریری فیصلہ پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی، جس پر اسپیکر ایاز صادق اپوزیشن کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے رہے۔
وقفہ سوالات کے دوران بھی اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ آرائی جاری رکھی اور اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جو لوگ نااہل ہوئے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست سے باہر ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ ابھی تک تبدیل نہیں ہوا، اور جب ہوگا تو الیکشن کی طرف جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات سے متعلق حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک نااہل ارکان کی نشستوں پر کسی اور کو کھڑا کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ علی محمد خان کے مطابق پارٹی چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی تک یہ سیاسی مؤقف پہنچایا جائے کہ ہم فارم 47 کی حکومت کے لیے کوئی نشست خالی نہیں چھوڑیں گے۔
