نواز شریف کی وطن واپسی عدلیہ کے لیے امتحان کیوں؟

عدالتی بغض و عناد اور ناانصافی کے طمانچے کھانے والے نواز شریف کو وطن واپسی پر ایک بار پھر قانون وانصاف کے مراحل درپیش ہوں گے۔ لیکن ان کے ساتھ روا رکھے گئے ’’عدالتی سلوک‘‘ کی شرمناک کہانی کو پیش نظر رکھا جائے تو نوازشریف نہیں، خود عدالت کٹہرے میں کھڑی ہے۔ معاملہ نوازشریف نہیں، عدلیہ کی ساکھ کا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہر جج اپنے مذہب، عقیدے یا نظریے کے مطابق قسم کھا کر یہ عہد کرتا ہے کہ انصاف کا وظیفہ سرانجام دیتے ہوئے وہ سائل کے بارے میں اپنے ذاتی جذبہ واحساس کو ایک طرف رکھ دے گا۔ کیا سابق وزیراعظم نوازشریف کوبیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں مَنصَب سے برطرف کرکے عمر بھر کی نااہلی کی مہر لگا دینا، جج صاحبان کے حلف کی درست عکاسی کرتا ہے؟ ’’سسلین مافیا‘‘ اور ’’گاڈفادر‘‘ جیسی متعفن گالیوں کو نظرانداز بھی کردیں تو کیا یہ مضحکہ خیز فیصلہ اور اس کی کوکھ سے پھوٹنے والے متعدد فیصلے ’عناد‘ میں لتھڑے ہوئے نہ تھے؟ ’’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ‘‘ کا فیصلہ آگیا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ دوتہائی جج صاحبان کی اکثریت سے ایکٹ کو درست قانون قرار دے دیا گیا۔ یوں قانون سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرلی گئی ہے۔ اس اصول کا طے پاجانا بھی نہایت مثبت پیش رفت ہے کہ عدلیہ کے صوابدیدی اختیار کے تحت سزا پانے والے شخص کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔ تاہم سات کے مقابلے میں آٹھ جج صاحبان کا فیصلہ ہے کہ اپیل کا حق موثر بہ ماضی نہیں ہوگا۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عدلیہ صوابدیدی اختیار کے تحت دی جانے والی سزا کو حتمی قرار دینے اور ملزم کو اپیل کے حق سے محروم رکھنے والے دو جج صاحبان مسلسل وکلا کو زچ کرتے رہے کہ اگر آئین سازوں نے دستور میں اپیل کا حق نہیں دیا تو پارلیمنٹ قانون کے ذریعے یہ حق کیسے دے سکتی ہے؟ پچاس برس پہلے آئین سازوں کے وہم وگماں میں بھی کہاں ہوگا کہ برسوں بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں کچھ ایسے نمونے بھی جلوہ افروز ہوں گے جواپنے صوابدیدی اختیار کا ڈھول پیٹتے ہوئے، تین بار کے منتخب وزیراعظم کا ہانکا لگا کر اپنی شکار گاہ میں لائیں گے، زیرِزمین گروہوں جیسی خفیہ کاری کے ذریعے نامی گرامی شکاریوں کاغول تلاش کرکے اُسے جے۔آئی۔ٹی کا نام دیں گے ۔، کروڑوں روپے خرچ کرکے دنیا بھر میں ملزم کی کرپشن کے کھُرے تلاش کرتے رہیں گے اور جب رائی برابر کرپشن، معمولی سی بدعنوانی، اپنے عہدے کے غلط استعمال کا رتی بھر ثبوت نہ پائیں گے تو بھیڑیے اور میمنے کی روایتی کہانی کی نظیر دہراتے ہوئے حکم صادر کریں گے __ ’’تم نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اس لئے ’’خائن‘‘ ہو لہٰذا وزیراعظم نہیں رہ سکتے اور زندگی کی آخری سانس تک سیاست کا رُخ بھی نہیں کرسکتے۔‘‘
عرفان صدیقی لکھتے ہیں کہ عناد کی آگ اسی پر ٹھنڈی نہیں ہوجاتی، نیب کو نادر شاہی حکم جاری ہوتا ہے کہ اس شخص پر مقدور بھر ریفرنس دائر کرو۔ احتساب عدالت کو حکم دیا جاتا ہے کہ چھ ماہ کے اندر اندر فیصلہ کرو تاکہ یہ بندہ انتخابات سے پہلے جیل میں ہو نوازشریف کے خلاف فیصلہ صادر کرنے والے ایک جج کو ہی جی۔الیون میں واقع احتساب عدالت کی چھت پر بطور مانیٹر جج بٹھا دیا جاتا ہے تاکہ احتساب عدالت، عناد کی وہ رسیّاں کاٹ کر شکار کو رہا نہ کردے جن میں جکڑنے کے لئے انہوں نے بڑی محنت کی تھی۔ یہاں تک کہ اپنے حلف کے پُرزے بھی اڑا دئیے اور اپنے اللہ سے باندھے گئے عہدوپیماں کو بھی جنسِ کوچہ وبازار بنادیا۔ اُدھر ایک وردی پوش جرنیل، ایک جج کے گھر جاکر نواز اور مریم کے خلاف فیصلے کا تقاضا کرتے ہوئے ’’دوسال کی محنت‘‘ کی دہائی دے رہا تھا اور اِدھر جج صاحبان، طلائی گوٹہ کناری والی سیاہ ریشمی عبائیں زیب تن کئے، محض عناد کی بنیاد پر احتساب عدالتوں کی مُشکیں کس رہے تھے کہ کہیں اُن کی محنت اکارت نہ چلی جائے
عرفان صدیقی کے مطابق اگر 1973 کے آئین سازوں کے پاس کوئی ایسی دوربین ہوتی کہ وہ ’’بیٹے سے تنخواہ نہ لینے والے‘‘ مکروہ ناٹک اور اس کے اداکاروں کو دیکھ سکتے تو شاید وہ اس ’’صوابدید‘‘ ہی کو ختم کردیتے یا پھر اسے پارلیمنٹ کے موجودہ ایکٹ سے کہیں زیادہ کڑے شکنجوں میں جکڑ دیتے۔ فل کورٹ سماعت میں وکیلوں سے پیہم استفسار کرنے والے دو جج صاحبان اُس بینچ کا بھی حصہ تھے جس کی سربراہی جسٹس بندیال کررہے تھے اور جس نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63-A کے تحت پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی کرنے والا رُکن نہ صرف اپنی نشست سے محروم ہوجائے گا بلکہ اس کا ووٹ بھی نہیں گِنا جائے گا۔ قطعِ نظر اس کے کہ یہ فیصلہ بھی ’’رغبت وعناد‘‘ میں لتھڑا ہوا تھا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آئین سازوں کا مقصد یہی تھا کہ مذکورہ رُکن اسمبلی کا ووٹ بھی نہ گنا جائے تو اُنہیں یہ جملہ لکھنے میں کیا مشکل مانع تھی؟ تب حمزہ شریف کی حکومت ختم کرنے اور تحریک انصاف کو تخت نشیں کرنے کے لئے آپ نے تعبیر وتشریح سے دس ہاتھ آگے نکل کر، آئین سازوں کی مرضی ومنشا کے بالکل برعکس اپنی مرضی کا آئین لکھ لیا، اور آج عناد کی چتا میں جھونک دئیے جانے والے کسی شخص کو اپیل کا حق دیتے ہوئے آپ آئین لکھنے والوں کو نعوذ باللہ ’’کاتبانِ وحی‘‘ کے مقام پر بٹھا رہے ہیں؟
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اس سب کچھ کے باوجود عدلیہ نے ’آزادی‘ کے نام پر اپنے گرد ایک مقدس نورانی ہالے کا حصار سا بنا رکھا ہے۔ وہ مظلوم کی دادرسی، لوگوں کے بنیادی حقوق اور عدلیہ کی عالمی رینکنگ میں تنزلی سے کہیں زیادہ اپنی بے مہار آزادی میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ہر سوال سے آزاد۔ پارلیمنٹ سے بھی اوپر ۔ ڈکٹیٹروں کو خلعتِ جواز دینے میں آزاد، انہیں آئین کی چیر پھاڑ کی اجازت دینے میں آزاد، جج کے گھر جاکر دھمکیاں دینے والے جرنیل سے بازپرس نہ کرنے میں آزاد، جج کو برق رفتاری سے نمونۂِ عبرت بنا دینے میں آزاد، رغبت وعناد سے فیصلے کرنے میں آزاد، اللہ سے باندھا گیا عہدِ وفا توڑنے میں آزاد، پارلیمان کے بطن میں پڑے قانون کا سانس لینے سے بھی پہلے گلا گھونٹ دینے میں آزاد، ساٹھ ہزار زیرِالتوا مقدمات کو بھاڑ میں جھونک کر سردیوں اور گرمیوں کی طویل چھٹیاں منانے میں آزاد اور تقاضا یہ کہ پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اور چھبیس کروڑ پاکستانی اندھے عقیدت مندوں کی طرح دست بستہ اس کے حضور کھڑے رہیں۔
نوازشریف چار سالہ جلا وطنی کے بعد 21 اکتوبر کو واپس وطن آرہے ہیں۔ بغض و عناد اور ناانصافی کے طمانچے کھانے والے شخص کو ایک بار پھر قانون وانصاف کے مراحل درپیش ہوں گے۔ لیکن اس کے ساتھ روا رکھے گئے ’’عدالتی سلوک‘‘ کی شرمناک کہانی کو پیش نظر رکھا جائے تو نوازشریف نہیں، خود عدالت کٹہرے میں کھڑی ہے۔ معاملہ نوازشریف نہیں، عدلیہ کی ساکھ کا ہے۔ اس کے وقار کا ہے۔ آخر میں عرفان صدیقی سوال پوچھتے ہیں کہ کیا عزت مآب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے عہد میں بھی عدلیہ کے بال وپر’’ رغبت وعناد‘‘ سے آلودہ رہیں گے اور کیا عدلیہ کے ماتھے کا داغ بن جانے والے فیصلے کسی تکنیکی موشگافی کے باعث اسی طرح اُس کی پیشانی پر چِپکے رہیں گے؟ کیا قاضی صاحب کے دور میں بھی ’’عناد‘‘،
انصاف پر حاوی رہے گا؟
