نواز شریف کی اقتدار میں واپسی کا راستہ صاف کرنے کا فیصلہ

سینیٹ میں جہاں نااہلی کی مدت زیادہ سے زیادہ 5 سال مقرر کرنے کے حوالے سے بل پیش کیا گیا ہےوہیں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے وطن واپسی سے پہلے سپریم کورٹ سے تاحیات نااہلی کی سزا ختم کروانے کی پٹیشن دائر کئے جانے کا اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے انٹرا پارٹی انتخابات میں نواز شریف کا تاحیات قائد کا عہدہ برقرار رکھا جائے گا جبکہ انٹراپارٹی انتخابات کے بعد نواز شریف کی ممکنہ وطن واپسی کے شیڈول پر غور کیا جائے گا۔دوسری طرف  محمد نواز شریف کی وطن واپسی اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے تناظر میں سابق وزیراعظم کی تعلیمی اسناد اکٹھی کرنے اور ٹیکس وغیرہ کے معاملات کلیئر کئے جانے کا عمل جاری ہے۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کی بی اے کی ڈپلیکیٹ ڈگری حاصل کر لی گئی، نواز شریف کی بی اے کی ڈگری ان کے پاکستان میں موجود اسٹاف ممبر نے پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی میں ڈپلیکیٹ ڈگری کے لیے 2 ہزار 990 روپے فیس کی باقاعدہ ادائیگی بھی کی گئی، نواز شریف کی جانب سے 7 جون کو پنجاب یونیورسٹی میں ڈپلیکیٹ ڈگری کے حصول کے لئے درخواست دی گئی تھی۔

ذرائع پنجاب یونیورسٹی کے مطابق نواز شریف کی درخواست پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے ان کی ڈپلیکیٹ ڈگری جاری کر دی ہے، ریکارڈ کے مطابق نواز شریف نے بی اے 1968 میں کیا۔دستاویزات کے مطابق نواز شریف نے بی اے میں 340 نمبر حاصل کئے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی ڈگری کے حصول کے حوالے سے ٹوئٹر پر بھی صارفین کے تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔الماس خان لکھتے ہیں کہ ’میاں نواز شریف کی گریجویشن کی ڈپلیکیٹ ڈگری کی درخواست سے لگتا ہے کہ میاں صاحب نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘مرزا صاحب نامی صارف نے لکھا کہ ’میں نے بھی بی اے کر رکھا ہے۔ ہر بڑے آدمی کے پیچھے بی اے کی ڈگری ہی کیوں ہوتی ہے۔‘

دوسری جانب تازہ پیشرفت کے مطابق اراکین اسمبلی کی نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت 5سال مقرر کرنے کے حوالے سے سینیٹ میں پل پیش کر دیا گیا ہے۔سینیٹ میں آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی سے متعلق اہم ترمیم پیش کی گئی ہے۔آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر دلاور خان، سنیٹر کہدہ بابر، دنیش کمار ، پرنس احمد زئی نے ترمیمی بل پیش کیا۔مجوزہ ترمیم کے مطابق آرٹیکل62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت 5سال سے زائد نہیں ہوگی۔سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ جہانگیر ترین اور ملک کے تین دفعہ وزیراعظم نواز شریف اس قانون کا شکار ہوئے، یہ بل آج ہی پاس کریں، کل

اداکارہ ژالے سرحدی ڈرامہ انڈسٹری سے بیزار ہو گئیں؟

چیئرمین پی ٹی آئی بھی اس نااہلی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Back to top button