اداکارہ ژالے سرحدی ڈرامہ انڈسٹری سے بیزار ہو گئیں؟

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی منفرد نام ژالے سرحدی نے انکشاف کیا ہے کہ جو کام میں چاہ رہی ہوں، وہ انڈسٹری میں اس وقت نہیں ہو رہا، خود ہی کچھ کرنا پڑے گا۔مزاحیہ پروگرام ’بس کر‘ کے سیٹ پر نجی انٹرویو کے دوران اداکارہ نے اپنے ڈرامہ ’’گرو‘‘ سے متعلق سوال پر بتایا کہ اس ڈرامے میں دو متوازن کہانیاں چلتی ہیں جو آگے جا کر ایک ہو جاتی ہیں۔
اپنے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسی عورت کا کردار کر رہی ہیں جسے اس کے سسرال والے اس بات کا قصور وار ٹھہراتے ہیں کہ وہ صرف بیٹیاں ہی پیدا کرتی ہے۔اُن کے مطابق اگرچہ یہ بات اب سائنس نے ثابت کر دی ہے کہ بچے کی جنس اس کے باپ سے ملتی ہے، ماں سے نہیں پھر بھی وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے، یہ اس طرح کی کہانی ہے جس کو عوام ضرور پسند کریں گے۔
ژالے نے زور دیا کہ مختلف موضوعات پر ڈرامے بنائے جانے ضروری ہیں۔ اس وقت ڈراما صرف شادی شدہ لوگوں کے شریک حیات کے علاوہ دیگر افراد سے معاشقوں میں پھنس کر رہ گیا ہے جس سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ژالے نے کہا کہ ’گرو‘ میں ان کا کردار کسی مظلوم عورت کی کہانی نہیں بلکہ اپنے حالات سے نبرد آزما ایک عورت کی کہانی ہے، جسے ہر جگہ سے ٹھوکر ملتی ہے مگر پھر بھی وہ جو چاہتی ہے اسے پانے کی کوشش کرتی ہے، تو ایک لحاظ سے ہے کافی حوصلہ افزا بات بھی ہے۔
اداکارہ کے مطابق صرف مسئلہ نہیں بتایا گیا، بلکہ اس کے حل پر بھی بات کی گئی ہے جو زیادہ اہم ہے، ٹی وی کی کامیاب اداکارہ ہوتے ہوئے بھی ژالے نے اب تک صرف چار فلموں میں کام کیا جس کی وجہ ان کے مطابق انہیں فلمیں کم ہی ملی ہیں اگرچہ انہیں بڑے پردے پر کام کرنے میں مزہ آتا ہے، ان کی ایک فلم کرونا کی عالمی وبا کی نظر ہو گئی ہے اور دوسری کی پروڈکشن مکمل نہیں ہوئی، ان کے خیال میں یہ کہیں نا کہیں قسمت کی بھی بات ہوتی ہے۔
ژالے نے فلموں میں ایک بڑھئی، ایک ڈانسر اور ایک گینگسٹر کا کردار کیا ہے، اب وہ سمجھتی ہیں کہ انہیں کوئی راک سٹار کا کردار دے تو مزہ آئے، ژالے کے مطابق انہیں فلموں میں روایتی کردار کرنے کا شوق نہیں کیونکہ یہ کام ٹی وی پر کر لیتی ہیں، اس لیے جب فلم ہو تو کوئی غیر روایتی کردار ہونا چاہئے۔اداکارہ نے اپنا کیرئیر میزبانی سے شروع کیا تھا، اب وہ میزبانی کم ہی کرتی ہیں، اداکارہ کا کہنا ہے کہ لگتا ہے اب خود ہی کچھ بنانا پڑے گا کیونکہ جو کام میں کرنا چاہتی ہوں وہ اب ہو نہیں رہا، ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خلا باز کا کردار کرنا چاہتی ہیں جو شاید ہو نہ سکے، اس کے علاوہ وہ مستقبل میں ایک راک سٹار کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
’گرو‘ کا کردار ایک مرد کا ہے جو ایک عورت کی حیثیت سے خود کو منوانا چاہتا ہے۔ وہ ایک ایسی عورت کا کردار کرنا چاہتی ہیں جو ایک مرد سے خود کو شناخت دینا چاہتی ہوں، پاکستان میں خواتین اداکاروں کی سوشل میڈیا پر جاری ٹرولنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اداس لوگوں کا کام ہے کہ جو اپنی زندگی میں فارغ بیٹھ کر دوسرے پر جملے کس رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے سوشل میڈیا سے بریک ضروری ہے اور زیادہ ہو تو کمنٹ بند کر دیں۔
پاکستانی ڈرامے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے ژالے کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں ایک عمر کے بعد کردار لکھے نہیں جاتے۔ لڑکی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی شادی ہوتا ہے اور حقیقت میں ایک عمر کے بعد شادی مسئلہ نہیں ہوتی زندگی میں دوسرے بھی مسائل ہوتے ہیں اگر مختلف عمر کے لوگوں کی کہانیاں سنانا شروع کر دیں تو یہ مسائل ختم ہو جائیں گے۔آخر میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذہنی بیماری کو ہلکا سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہر چیز کے ڈاکٹر ہوتے ہیں، انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب انہیں ہائپر تھائیرائڈ ہوا تھا تو انہوں نے بھی ماہرین سے رابطہ کر کے مدد لی تھی اور دوسروں کو
بھی یہ کرنا چاہئے۔
