نواز شریف کی وطن واپسی پر فوری گرفتاری کا امکان ختم؟

ملک میں جہاں ایک طرف مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر استقبال کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں وہیں دوسری طرف نون لیگ کی قانونی ٹیم نے نواز شریف کو پاکستان آمد پر فوری گرفتاری سے بچانے کیلئے کمر کس لی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی پر ان کی فوری گرفتاری کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ ماضی کی نظائر کو دیکھا جائے تو نون لیگ آسانی سے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کے مطابق میاں نوازشریف 21 اکتوبر بروز ہفتہ وطن واپس آرہے ہیں جبکہ انکے مقدمات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر پارٹی قیادت اور انکے وکلاء کی ٹیم غور کررہی ہے۔ فی الحال اس حوالے سے کچھ چیزیں زیر غور ہیں، جلد ہی اس حوالے سے حکمت عملی طے کر لی جائے گی اور اسکی روشنی میں ہی ان کے قانونی معاملات کو آگے بڑھایا جائیگا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے سینئر وکلا کے مطابق اگرچہ نوازشریف کی سزا بدستور قائم ہے  لیکن ریاست اگر سزا معطلی کی مخالفت نہ کرے تو نواز شریف کی ضمانت کے حوالے سے کیس مضبوط ہے اور نوازشریف کو باآسانی حفاظتی ضمانت مل سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء چوہدری افراسیاب خان او ر حافظ ایس اے رحمان نے کہاہے کہ اگر میاں نواز شریف لاہور ائیر پورٹ پر اترتے ہیں تو انکی واپسی سے قبل انکے وکلاء حکومت کو فریق بنا کر لاہورہائی کورٹ سے انکی بحفاظت اسلام آباد ہائی کورٹ تک پہنچنے سے متعلق ضمانت قبل از گرفتاری یعنی حفاظتی ضمانت کروائینگے جوکہ ہر درخواست گزارکو باآسانی مل جاتی ہے، جس میں صرف اتنا موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ درخواست گزار کیخلاف فلاں ایف آئی آر یا مقدمہ درج ہے ،جس میں متعلقہ عدالت سے ضمانت کیلئے رجوع کرنا چاہتا ہوں، حکومت کو روکا جائے کہ وہ میری متعلقہ عدالت سے ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک اسے گرفتار نہ کرے۔

فاضل وکلاء کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میاں نواز شریف کو اشتہاری مجرم قرار دیکر انکا کیس داخل دفتر کرکے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے،وہ حفاظتی ضمانت کے اجراء کے بعد سب سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے خود کوسرنڈر کر کے داخل دفتر کی گئی اپیلوں میں سزا معطلی کے حکمنامہ کی بحالی کی استدعا کریں گے ،اپنی غیر حاضری کے موقف کے حق میں وہ جہاں مختلف جوازپیش کرینگے، ان کی سپورٹ کیلئے انکی میڈیکل رپورٹیں پیش کی جائیں گی ، اسکے بعد یہ واضح طورپر متعلقہ عدالتی بنچ کا اختیار ہے کہ وہ ان کی سزا کو معطل کرے یا درخواست کو خارج کرکے انہیں جیل بھجو ادے۔

چوہدری افراسیاب خان ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ سردست میاں نواز شریف کی سزا بدستور قائم ہے ،جس میں وہ سزا یافتہ مجرم اور اشتہاری ہیں، اس لئے ریاست انکے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟ اس کا انحصار ریاست کی پالیسی پرہوگا ؟اگر ریاست کی جانب سے انکی سزا معطلی کی مخالفت نہیں کی جاتی ہے تو انکا کیس بہت مضبوط ہوگا ،دوسری صورت میں معاملہ صرف عدالتی بنچ کی صوابدید پر ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانزٹ یا حفاظتی ضمانت ہر اس ملزم کا حق ہوتا ہے جوخود کو قانون کے سامنے سرنگوں کرنے کا ارادہ ظاہر کرے ،فاضل وکیل نے ایک اور ٹیکنیکل نقطہ پر خیال آرائی کرتے ہوئے کہا کہ ایک ملزم تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 498 کے تحت ٹرانزٹ یا حفاظتی ضمانت کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے لیکن ایک سزا یافتہ مجرم اس کی بجائے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کسی بھی ہائی کورٹ میں درخواست دیکر حفاظتی ضمانت والا موقف پیش کرکے داد رسی لے سکتا ہے۔

خیال رہے کہ قائد ن لیگ میاں نواز شریف کو وطن واپسی پر 3 مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا جن کے لیے انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑے گا لیکن اس سے قبل انہیں گرفتاری سے بچنے کے لیے 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت درکار ہو گی۔نواز شریف کو جن 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت درکار ہو گی ان میں العزیزیہ کرپشن ریفرنس اور جبکہ ایون فیلڈ کرپشن ریفرنس شامل ہیں جن میں انہیں بالترتیب 7 اور 10 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ان دونوں مقدمات میں عدم پیشی پر میاں نواز شریف کو دسمبر 2020 میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا جبکہ وہ نومبر 2019 میں لاہور ہائی کورٹ کو لندن میں 4 ہفتے علاج کروانے کے بعد واپسی کی یقین دہانی پر ملک سے باہر گئے تھے۔ تیسرا مقدمہ توشہ خانہ تحائف سے متعلق ہے لیکن وہ ابھی ٹرائل

کیا پیپلز پارٹی کو الیکشن میں کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا؟

کے مرحلے میں ہے۔

Back to top button