کیا پیپلز پارٹی کو الیکشن میں کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا؟

جنوری میں ہونے والے ممکنہ انتخابات کے پیش نظر لیول پلیئنگ فیلڈ کے حصول کے لیے شریک سابق صدر آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی جانب سے ظاہر کیے گئے سنگین تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے متعلقہ حلقوں سے رابطہ کر لیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کے لیول پلیئنگ فیلڈ کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اسے منصفانہ مطالبہ قرار دے دیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے پنجاب اور مرکز کی نگران حکومتوں کی جانب سے مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ترجیحی سلوک کے حوالے سے اپنی شکایات بھی متعلقہ حکام تک پہنچا دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کا بااختیار حلقوں سے یہ رابطہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی بشمول پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انتخابات سے قبل لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے اور نگران وفاقی کابینہ میں نواز شریف کے حامی افراد کو شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیے جانے کے تقریباً ایک ماہ بعد ہوا ہے۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی سربراہی میں نگران حکومت مسلم لیگ (ن) کی ’بی ٹیم‘ کے طور پر کام کر رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ زرداری صاحب نے لیول پلیئنگ فیلڈ کے حوالے سے کچھ ملاقاتیں کی ہیں اور جلد ہی پارٹی کو اس پر بریفنگ دیں گے۔ان ملاقاتوں کے نتائج کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب آصف زرداری پارٹی کو اعتماد میں لیں گے تو پتا چل جائے گا، اس سے پہلے میں اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حامی کم از کم اراکین نگران وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، جن میں فواد حسن فواد، احد چیمہ اور توقیر شاہ بھی شامل ہیں، اسی لیے پیپلزپارٹی اپنی اِس سابق اتحادی جماعت سے لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران اداروں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں اور اپنی ’سیاسی ضروریات‘ کے لیے مسلم لیگ (ن) ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ پہلے ہی ترک کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ-ن اپنے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیے سے انحراف کرتی ہے تو اس کا الزام پیپلز پارٹی پر نہیں ڈالا جا سکتا، کسی جماعت کو اداروں کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے، آئندہ عام انتخابات میں تمام جماعتوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ ہونی چاہیے۔
پیپلزپارٹی کو شبہ ہے کہ اس کی سابقہ اتحادی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) اقتدار حاصل کرنے کے لیے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں، جبکہ رانا ثنا اللہ سمیت مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی سیاست بچانے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے خلاف بول رہی ہے۔تاہم مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے دونوں جماعتوں کے درمیان دراڑ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی علیحدہ علیحدہ سیاست ہے، میں جلد ہی بلاول بھٹو سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے حوالے سے بات کروں گا کیونکہ وہ میرے لیے چھوٹے بھائی کی طرح ہیں۔
دوسری جانب شہباز شریف کے قریبی ساتھی ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا آئندہ انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ ہے اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں، ہر سیاسی جماعت کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کی نگران حکومتوں کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ترجیحی سلوک کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے خدشات درست نہیں ہیں۔
ملک احمد خان نے کہا کہ پیپلزپارٹی الزام لگا رہی ہے کہ فواد حسن فواد، احد چیمہ اور توقیر شاہ شریف برادران کے حامی ہیں جوکہ درست نہیں ہے، وہ قابل اعتبار سابق سرکاری ملازمین ہیں اور انہیں ان کے متعلقہ شعبوں میں مہارت کے باعث نگران وفاقی حکومت میں شامل کیا گیا ہے، وہ آئین کے تحفظ کا حلف اٹھائے ہوئے ہیں، وہ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دوران مسلم لیگ (ن) کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ اسی طرح محسن نقوی کبھی بھی ’مسلم لیگ (ن) کے بندے‘ نہیں رہے۔
نگران انتظامیہ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کے حلقوں میں شروع کیے گئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ملک احمد خان نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر کو پی ٹی آئی حکومت نے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔انہوں
اسرائیل کیخلاف آپریشن شروع کرنے والے محمد الضیف کون؟
نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کا مقصد مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں فائدہ پہنچانا نہیں ہے۔
