نون لیگ اورمولاناPTIکا مائنس کرنے پر متفق کیوں؟

حکومت نے اپنا ’آخری بجٹ‘ بھی پیش کر دیا۔ آئی ایم ایف سے ڈیل ہنوز دور ہے اور دیوالیہ ہونے کا خدشہ اب واضح خطرہ بن چکا ہے۔حکومت کافی حد تک آئی ایم ایف کے معاملات میں بے بس نظر آ رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے لیے مناسب ریلیف کا دور دور تک امکان نظر نہیں آ رہا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن واضح اعلان کر چکی ہے کہ ملک میں الیکشن تبھی ہوں گے جب نواز شریف سیاست میں واپس آئیں گے۔الیکشن کے انعقاد پر پہلے ہی کافی سوالیہ نشان تھے اب نواز شریف کی آمد بھی الیکشن سے مشروط ہو چکی ہے۔ حکومت کا عرصہ البتہ اگست میں ختم ہو رہا ہے اس لیے مسلم لیگ ن کی ترجیح اب سیاست ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر اینکر ماریہ میمن نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ ماریہ میمن کا مزید کہنا ہے کہ سیاست کے بارے میں ملک میں کچھ المیہ اور کچھ طربیہ صورتحال ہے۔ پی ٹی آئی کے تقریباً معطل ہونے کے بعد ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں رہ گئی جو اپوزیشن ہونے کا دعوی کر سکے۔ قومی اسمبلی میں راجہ ریاض اپوزیشن کے قائد ہیں اور نمائشی طور پر بھی قیادت کا دعوی نہیں کرتے۔وہ اور ان کے ساتھی غالباً ن لیگ کی ٹکٹ یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے امیدوار ہوں گے۔ پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، جے یو آئی اور ایم کیو ایم تمام حکومت میں ہیں۔ نو آموز استحکام پاکستان پارٹی کے کئی ممبران بشمول عون چوہدری بھی حکومت میں ہیں۔پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں کے بارے میں متضاد خبریں ہیں مگر وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ ان کا سیاسی مسقتبل تاریک ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی کی حد تک کچھ ٹف ٹائم دیا ہے مگر ملک میں مجموعی طور پر عملی اپوزیشن نہ ہونے کے برابر ہے۔سوال البتہ یہ ہے کہ سیاست اپوزیشن کے بغیر کیسے چلے گی؟
اس سوال کا جواب دینے کا ن لیگ کے پاس تو شاید وقت نہیں کیونکہ ان کا اور جے یو آئی کا اعلانیہ منصوبہ یہی ہے کہ پی ٹی آئی کو سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے کچھ اضطراب اور کچھ پیشگی کوشش سامنے آئی ہے۔انہوں نے باوجود حکومت کی طرف سے دبے دبے تحفظات کے کراچی مئیر کا الیکشن اپنے حق میں کروا لیا اور ساتھ ہی ساتھ اعلان بھی کر دیا کہ اسی طرح بلاول بھٹو کو وزیراعظم بھی منتخب کرائیں گے۔
اس ہلکی پھلکی موسیقی کو ن لیگ نے فی الحال اگنور ہی کر دیا ہے۔ اس سیاسی چال میں پیپلز پارٹی کا دوہرا مقصد ہے۔ ایک تو ان کے سامنے تاریخ کا سبق ہے کہ سیاسی خلا زیادہ دیر تک نہیں رہتا اس لیے وہ چھوٹی پارٹی ہوتے ہوئے قومی اپوزیشن کا خلا پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا سکتا ہے دونوں جماعتیں ایک نورا کشتی سا ماحول بھی رکھنا چاہتی ہیں۔
اس حکمت عملی پر البتہ ایک بہت نمایاں سوالیہ نشان ہے اور وہ ہے کہ اگر موجودہ سیاسی جماعتیں مل کر بھی سیاسی خلا نہ پر کر سکیں تو پھر سیاست کی کیا صورت ہو گی؟ ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے الیکٹیبلز سے ہاتھ دھو کر نئے خون کے ساتھ سامنے آئے اور الیکشن میں یہ سیاسی خلا پر کر لے۔
دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے پی ٹی آئی الیکشن میں قصداً یا بحالت مجبوری نمایاں نہ ہو سکے مگر اس کے ساتھ الیکشن میں عوام کی طرف سے سرد مہری سامنے آئے اور الیکشن کے نتیجے میں ایسی حکومت بنے جس کو ساکھ کے بحران کا سامنا کرنا پڑے۔ تیسری صورت میں حکومتی اتحادیوں کی توقع ایسی سیاست اور الیکشن ہیں جن میں کچھ حد تک اپوزیشن بھی ہو، مگر نتیجہ ان کی مرضی کا ہو جس کو قبول عام بھی حاصل ہو جائے۔یہ خواہش اور توقع کے ساتھ ایک بہت بڑا اگر منسلک ہے اور یہ جماعتیں اس
ذی الحج کا چاند نظر آ گیا، عید الاضحیٰ 29 جون کو ہوگی
منصوبے کے غیر یقینی ہونے کے بارے میں خود بھی متفق ہیں۔
