اپوزیشن ٹھس، بلوچستان حکومت کو کھلی چھوٹ کیسے ملی؟

بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر سوالات کی زد میں ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن اپنا اصل کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث حکومت کو تقریباً کھلا میدان مل چکا ہے۔ بارڈر بندش، بدامنی، بے روزگاری اور ترقیاتی فنڈز جیسے اہم مسائل پر خاموشی نے سیاسی ماحول میں ’فرینڈلی اپوزیشن‘ کی اصطلاح کو مزید تقویت دے دی ہے۔ ناقدین کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں موجودہ سیاسی صورتحال نے صوبے کی پارلیمانی سیاست پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک جانب حکومتی اتحاد پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں اپوزیشن بینچوں پر موجود ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین اور عوامی حلقوں میں یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے کہ اپوزیشن ایوان کے اندر وہ مؤثر کردار ادا نہیں کر سکی جس کی عوام کو توقع تھی۔
مبصرین کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان اسمبلی میں متعدد اہم عوامی مسائل زیر بحث آئے، جن میں بارڈر بندش، امن و امان کی خراب صورتحال، بے روزگاری، ترقیاتی منصوبوں میں سست روی، ٹرانسفر پوسٹنگ اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم جیسے معاملات شامل تھے۔ مگر ناقدین کے مطابق ان معاملات پر اپوزیشن حکومت کو مؤثر انداز میں دباؤ میں لانے میں ناکام رہی۔
جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور اپوزیشن رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے بھی اس صورتحال پر کھل کر تنقید کی۔ ان کے مطابق اپوزیشن کو حکومت پر سخت پارلیمانی دباؤ ڈالنا چاہیے تھا تاکہ عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے، مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے اور متفقہ قراردادوں یا عوامی مسائل پر تقاریر کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
تاہم مولانا ہدایت الرحمان نے بغیر نام لیے اپوزیشن کی بڑی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو “ٹف ٹائم” نہ دینے کے باعث عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اپوزیشن اور حکومت ایک ہی صفحے پر کھڑی ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن کا کام صرف شور شرابا یا ذاتی حملے نہیں بلکہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید، خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کیلئے مؤثر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی ثنا بلوچ نے بھی اپوزیشن کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بلوچستان میں حقیقی جمہوری سیاست کمزور ہوتی جا رہی ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان واضح فرق دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران حکومت نے جو فیصلے چاہے، انہیں “فرینڈلی اپوزیشن” کی خاموش حمایت حاصل رہی۔ ثنا بلوچ کے مطابق جب اپوزیشن مؤثر کردار ادا نہ کرے تو جمہوری نظام اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کا کام عوام کی سیاسی تربیت کرنا ہوتا ہے، مگر بلوچستان میں اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عوام کو اپنے نمائندوں کی تربیت کرنا پڑ رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن کی کمزور مزاحمت نے حکومتی اتحاد کو نسبتاً کھلا میدان فراہم کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان واضح حکمت عملی، مشترکہ بیانیے اور مضبوط پارلیمانی تعاون کا فقدان نمایاں دکھائی دیتا ہے۔خاص طور پر بارڈر تجارت، بدامنی، لاپتہ افراد، بے روزگاری اور ترقیاتی فنڈز جیسے حساس مسائل پر اسمبلی کے اندر وہ شدت، مزاحمت اور جارحانہ اپوزیشن نظر نہیں آئی جو ماضی میں بلوچستان کی سیاست کا اہم حصہ سمجھی جاتی تھی۔
ماہرین کے مطابق اگر اپوزیشن نے آنے والے دنوں میں فعال، متحد اور مؤثر کردار ادا نہ کیا تو بلوچستان میں پارلیمانی سیاست مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد کا بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے ایک مؤثر اور متحرک اپوزیشن ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔سیاسی حلقوں میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بلوچستان اسمبلی میں واقعی “فرینڈلی اپوزیشن” موجود ہے یا یہ صرف سیاسی تاثر ہے؟ تاہم اتنا واضح ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومتی اتحاد کو اسمبلی کے اندر سخت مزاحمت کا سامنا نہیں، اور یہی حقیقت بلوچستان کی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
