عید کے بعد ملکی سیاست میں کون سی بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟

شہر اقتدار میں عید قربان کے بعد کسی بڑی قربانی کی بازگشت زوروں پر ہے۔ تاہم اب جبکہ عید الاضحیٰ ختم ہو چکی ہے، سیاسی ملاقاتیں بھی ہو گئیں، بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے، مگر اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان ملکی سیاست کس طرف جا رہی ہے؟ کیا حکومت کو کسی بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہوگا یا اپوزیشن ایک بار پھر صرف بیانات تک محدود رہے گی؟ کیا واقعی ملک میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے یا موجودہ نظام ہی آگے چلے گا؟ سیاسی حلقوں، میڈیا اور عوامی سطح پر مختلف قیاس آرائیاں ضرور موجود ہیں، تاہم سینیئر تجزیہ کاروں کی اکثریت اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ فوری طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔

معروف تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق پاکستان کی سیاست اس وقت تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ قریب مستقبل میں کوئی بڑی سیاسی تحریک یا حکومتی بحران جنم لے گا۔ ان کے بقول حکومت حکومت کرتی رہے گی جبکہ اپوزیشن اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی، مگر طاقت کے توازن میں فوری طور پر کوئی بڑی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت، اتحادی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے، جو موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو مضبوط بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کیلئے کوئی فیصلہ کن سیاسی دباؤ پیدا کرنا آسان نظر نہیں آ رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل چیلنج اس وقت سیاست نہیں بلکہ معیشت ہے۔ وفاقی حکومت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، قرضوں کی ادائیگی، صوبوں کو وسائل کی منتقلی اور بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کے باعث مرکز کے پاس ترقیاتی منصوبوں کیلئے محدود گنجائش بچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں این ایف سی ایوارڈ، مالی اختیارات اور دفاعی اخراجات کی تقسیم جیسے معاملات اہم سیاسی موضوع بن سکتے ہیں۔

مجیب الرحمان شامی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر وفاق اور صوبے دفاعی اخراجات کے بوجھ کو مشترکہ طور پر اٹھانے پر متفق ہو جائیں تو مالی بحران میں کچھ بہتری آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک کو سیاسی تصادم سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔

خطے کی صورتحال بھی پاکستان کی سیاست پر اثر انداز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں اور اسلام آباد خطے میں ممکنہ تصادم روکنے کیلئے اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بڑے معاہدے یا جنگ بندی میں پیشرفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کی داخلی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق عید کے بعد سیاسی ماحول نسبتاً ٹھنڈا رہے گا۔ ان کے خیال میں اپوزیشن کے پاس اس وقت ایسی سیاسی طاقت یا عوامی فضا موجود نہیں کہ وہ ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر سکے۔ شدید گرمی، معاشی مسائل اور عوامی ترجیحات بھی اپوزیشن کیلئے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

اسی طرح احمد ولید کا کہنا ہے کہ پاکستان کی توجہ اس وقت داخلی سیاست سے زیادہ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر مرکوز ہے۔ ایران، خلیجی صورتحال اور عالمی سفارتی تبدیلیاں اس وقت اسلام آباد کیلئے زیادہ اہم چیلنج بن چکی ہیں، اس لیے فوری طور پر داخلی سیاسی ہلچل کے امکانات کم ہیں۔

انصار عباسی نے بھی واضح انداز میں کہا کہ حکومتی اتحاد، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی افواہوں اور قیاس آرائیوں کے باوجود موجودہ حالات میں کسی نئی سیاسی انجینئرنگ یا بڑی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں پاکستان کی سیاست کا مرکز احتجاجی سیاست کے بجائے معاشی مسائل، بجٹ، مہنگائی، خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال بن سکتا ہے۔ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور میڈیا پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہے گی، مگر فوری طور پر کوئی فیصلہ کن اسٹریٹ پاور سامنے آتی دکھائی نہیں دیتی۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عید الاضحیٰ کے بعد پاکستان کی سیاست میں فوری استحکام برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے، تاہم معاشی دباؤ، خطے کی کشیدہ صورتحال اور عالمی سفارتی تبدیلیاں مستقبل میں سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

Back to top button