جنگ بندی برقرار مگر حملے بھی جاری،کیا اسلام آباد نئی جنگ روک پائے گا؟

خلیج میں ایک بار پھر بارود کی بو پھیل رہی ہے۔ جنگ بندی قائم ہے مگر حملے بھی جاری ہیں، مذاکرات ہو رہے ہیں مگر دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالات اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ایک غلط قدم پورے مشرقِ وسطیٰ کو دوبارہ جنگ کی آگ میں جھونک سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان خاموش مگر انتہائی اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ سوال اب یہی ہے کہ کیا دنیا ایک تاریخی امن معاہدے کے قریب پہنچ چکی ہے یا یہ سب کسی نئی اور خطرناک جنگ کا پیش خیمہ ہے؟

مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بظاہر کم ہوتی دکھائی دیتی ہے، لیکن زمینی حقائق اب بھی خطرناک حد تک پیچیدہ ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف فضائی حملے، میزائل کارروائیاں اور سخت بیانات ماحول کو مسلسل کشیدہ بنا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی کارروائیاں کیں جبکہ ایران نے بھی امریکی اڈوں اور فوجی سرگرمیوں کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔ امریکی سینٹکام کے مطابق کویت کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا گیا، جسے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ہر جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اگرچہ حالات انتہائی نازک ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک مکمل جنگ کی طرف جاتے دکھائی نہیں دیتے۔ پس پردہ سفارتی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں اور یہی عنصر اس بحران کو مکمل تباہ کن جنگ میں تبدیل ہونے سے روک رہا ہے۔وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جنگ بندی میں ساٹھ روزہ توسیع کے فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں تاکہ مزید مذاکرات کیلئے وقت حاصل کیا جا سکے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اعتراف کیا کہ معاہدہ ابھی مکمل نہیں ہوا مگر دونوں فریق اس کے “بہت قریب” ہیں۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کہا کہ وہ اب تک مجوزہ معاہدے سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے شرائط پوری نہ کیں تو دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ عمان جیسے امریکی اتحادی ملک کے حوالے سے بھی سخت زبان استعمال کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اصل مسئلہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ وہ بنیادی تنازعات ہیں جو کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان موجود ہیں۔ ان میں ایران کا جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی، آبنائے ہرمز کی نگرانی، امریکی پابندیاں، ایرانی منجمد اثاثے اور خطے میں فوجی موجودگی جیسے معاملات شامل ہیں۔اسی دوران ایران کے سرکاری میڈیا نے ایک مبینہ 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کا ذکر کیا، جس میں امریکی افواج کے انخلا، آبنائے ہرمز میں غیر فوجی آمد و رفت کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے جیسے نکات شامل تھے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اسے “من گھڑت” قرار دے کر مسترد کر دیا۔

خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنانے والی چیز آبنائے ہرمز ہے، جہاں دنیا کی بڑی تیل سپلائی گزرتی ہے۔ امریکہ نے ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ ایران نے آبنائے میں نگرانی کیلئے نئی اتھارٹی قائم کی، جس پر امریکی پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاشی اور عسکری دباؤ بیک وقت استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان تمام حالات میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستانی عسکری اور سفارتی قیادت مسلسل ایران، خلیجی ممالک اور امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ایک ایسے وقت میں ثالثی کر رہا ہے جب دونوں فریق بظاہر جنگ سے بچنا چاہتے ہیں مگر داخلی دباؤ انہیں سخت مؤقف اپنانے پر مجبور کر رہا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کو اپنی سیاسی ساکھ اور اسرائیلی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ ایران میں سخت گیر حلقے حکومت پر مزید مزاحمت کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔فی الحال صورتحال یہی بتا رہی ہے کہ مکمل امن معاہدہ ابھی دور ہے، لیکن دونوں ممالک فوری جنگ سے بھی گریز چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حملوں، دھمکیوں اور کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے ٹوٹنے نہیں دیے جا رہے۔

دنیا کی نظریں اب قطر، عمان اور پاکستان کے ذریعے جاری سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں کیونکہ آنے والے چند دن یہ طے کریں گے کہ مشرقِ وسطیٰ امن کی طرف بڑھ رہا ہے یا خطے میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہونے والا ہے۔

Back to top button