پاک افغان کشیدگی: پاکستان میں اشیاء مہنگی افغانستان میں سستی کیوں؟

حالیہ پاک افغان کشیدگی کے باعث دو طرفہ سرحدی گزرگاہوں اور تجارتی راستوں کی بندش نے دونوں ملکوں کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاکستان میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ افغانستان میں انہی اشیا کے نرخ الٹا نیچے آگئے ہیں۔ سرحدی تجارت کے تعطل کے بعد پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کو پر لگ گئے، جس سے عام صارفیں شدید متاثرہوئے، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کے جمود کے باعث درآمد و برآمد سے وابستہ تاجروں کو بھی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستان میں اشیا مہنگی اور افغانستان میں سستی کیوں ہوئیں؟
خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد امن معاہدے کے باوجود سرحدی راستے بند ہونے کی وجہ سے دوطرفہ تجارت شدید متاثر ہے۔ سرحدی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تمام راستے گذشتہ دو ہفتوں سے بند ہیں اور تجارت مکمل طور پر معطل ہے، جس سے پاکستان میں ٹماٹر، انگور، سیب اور افغانستان سے درآمد ہونے والے تازہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاک افغان سرحد بند ہونے کے بعد پاکستان میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ تجارتی سپلائی چین میں رکاوٹ ہے کیونکہ طویل عرصے سے افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت روزمرہ اجناس، خشک میوہ جات، پھلوں، سبزیوں، سیمنٹ، اور ایندھن سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاء پر مشتمل ہے۔ پاک افغان کشیدگی کے بعد سرحد بند ہونے سے یہ اشیا منڈیوں تک نہیں پہنچ سکیں، جس سے طلب و رسد کا توازن بگڑ گیا اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی غیر رسمی تجارت یا سمگلنگ کا سلسلہ بھی سرحدی بندش سے متاثر ہوا۔ ماضی میں افغانستان کے راستے سے مختلف مصنوعات پاکستان میں غیر رسمی طور پر داخل ہوتی تھیں، جس سے مقامی منڈیوں میں قیمتوں میں طلب کے مقابلے میں رسد زیادہ ہوتی تھی جس سے مارکیٹس میں قیمتیں مستحکم رہتی تھیں تاہم سرحدی پابندیوں کے بعد یہ غیر رسمی درآمد رک گئی، جس نے قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاک افغان گزرگاہیں بند ہونے سے نقل و حمل کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، کیونکہ تاجروں کو تجارتی سامان کے لیے متبادل، طویل راستوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے نتیجتاً، ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے اشیا مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں غیر یقینی فضا پیدا کی، جس سے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور پاکستان میں چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھوتی نظر آتی ہیں
تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا : عظمیٰ بخاری
تجارتی راستوں کی بندش کی وجہ سے دونوں ملکوں کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے، لیکن افغانستان میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کوئی اضافہ دیکھنے کو نہیں ملا اور اس کی وجہ وسطی ایشیائی ممالک اور ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارت ہے۔‘ اسی لئے افغانستان میں سرحدی بندش کے بعد وہ اشیا جو عام طور پر پاکستان کو برآمد کی جاتی تھیں، مقامی منڈیوں میں ہی پھنس گئیں۔ جس کی وجہ سے جب افغان منڈیوں میں سپلائی بڑھ گئی اور برآمدی طلب ختم ہو گئی تو تاجروں نے نقصان سے بچنے کے لیے سامان کم قیمتوں پر فروخت کرنا شروع کر دیا جس سے چیزوں کی قیمتیں زمین بوس ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کشیدگی اور غیر یقینی سیاسی حالات نے افغان منڈی میں طلب کو مزیدکمزور کر دیا ہے۔ عوامی قوتِ خرید متاثر ہونے کے باعث صارفین کی خریداری مزید کم ہو گئی ہے، جس سے اشیا کی قیمتیں مزید نیچے آگئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خراب ہونے والی اجناس جیسے پھل، سبزیوں اور دودھ وغیرہ کو تاجروں نے نقصان سے بچنے کے لیے کم نرخوں پر بیچنا شروع کر دیا ہے جس سے افغان مارکیٹ کریش کر گئی ہے اور اب پاکستان میں کئی گنا مہنگی فروخت ہونے والی اشیاء افغانستان میں کوڑیوں کے بھاؤ بک رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان سے افغانستان برآمد ہونے والی اشیا میں ادویات بھی شامل ہیں اور کابل میں فارمیسی کے شعبے سے وابستہ ایک تاجر کے مطابق مارکیٹ میں بہت سی ادویات کی قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان سے درآمد کی جانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بھی بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان سے اینٹی بائیوٹک، اینٹی الرجی، وائٹامنز اور دیگر مختلف ادویات افغانستان درآمد کی جاتی ہیں اور سرحدیں بند ہونے سے ادویات کی مارکیٹ پر برا اثر پڑا ہے۔‘
