ایلون مسک کے اسٹار لنک سے پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوگا؟

ایسا کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستانیوں کی زندگی ’’میگا بائٹ پر سکینڈ‘‘ کی رفتار سے چل رہی ہے، جیسے جیسے انٹرنیٹ کی سپیڈ تیز ہوتی ہے، کام کی رفتار اور زندگی کے معاملات درست چلتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی سپیڈ ڈائون ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے زندگی کا سوئچ آف کر دیا ہو لیکن اب سننے میں آیا ہے کہ انٹرنیٹ مسائل کے ستائے پاکستانیوں کو مستقبل قریب میں ایک ایسی انٹرنیٹ سروس میسر ہوگی جو ان کی توقعات پر پورا اترے گی۔جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں ایلون مسک کی ایرو سپیس کمپنی ’اسپیس ایکس‘ سے آپریٹ کی جانے والی دنیا کی تیز ترین سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ’اسٹارلنک‘ کی جس کی پاکستان آمد کی خبریں آج کل سے گرم ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر عمر سیف نے حال ہی میں پاکستان کے ٹیک سیکٹر کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جن میں سے ایک پاکستان میں اسٹار لنک سروس کے آغاز کی منظوری ہے۔آپ پہاڑوں کی سیر پر ہوں، صحرا میں ہوں یا ملک کے کسی بھی دوردراز علاقے میں موجود ہوں، اسٹارلنک روایتی انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے آپ کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ فراہم کرے گی۔ اسٹارلنگ بزنس صارفین کو 220Mbps ڈاؤن لوڈ اور 25Mbps تک کی اپ لوڈ اسپیڈ فراہم کر رہی ہے۔اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، سمندر کے بیچوں بیچ یا آسمان کی بلندیوں پر ہوں، آپ کو اسٹار لنک کی تیز ترین انٹرنیٹ سروس ہر جگہ دستیاب ہوگی۔اسٹار لنک کی ڈیوائس کی تنصیب نہایت آسان ہے۔ آپ کے آرڈر کی تصدیق ہونے کے بعد ’سپیس ایکس‘ آپ کو اسٹارلنک پیکیج ارسال کرے گی جس میں ایک پلیٹ (ڈش اینٹینا)، وائی فائی راؤٹر، ماؤنٹنگ بریکٹس (آپشنل) اور چند ضروری کیبلز شامل ہیں۔ اس کی تنصیب کے لیے کوئی خصوصی مہارت یا علم درکار نہیں۔عام طور پر آندھی، طوفان یا قدرتی آفات کی صورت میں آپ کی کیبلز متاثر ہو جاتی ہیں جس کے باعث انٹرنیٹ سروس معطل ہو جاتی ہے اور اس کی بحالی میں کئی دن اور بسا اوقات ہفتے لگ جاتے ہیں مگر اسٹارلنک کی انٹرنیٹ سروس میں یہ خوبی ہے کہ آندھی، طوفان، سیلاب اوردیگر قدرتی آفات اس پر اثرانداز نہیں ہوتے اور آپ کو ان حالات میں بھی تیز ترین انٹرنیٹ میسر ہوتا ہے۔پاکستان میں اسٹارلنک نے ابھی اپنی خدمات کا آغاز نہیں کیا اس لیے اس کے ریٹس کا فی الحال اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم دنیا کے جن ممالک میں اسٹارلنک اپنی سروس فراہم کر رہی ہے وہاں براڈبینڈ سروسزکے ریٹس اس کی نسبت کافی کم ہیں۔ علاقائی سطح پر اس کا ماہانہ ریٹ 150 ڈالر جبکہ عالمی سطح پر 200 ڈالر ماہانہ ہے۔واضح رہے ایلون مسک کی کمپنی ’اسپیس ایکس‘ نے 2019ء میں اسٹارلنک کا آغاز کیا تھا جو اب 60 سے زائد ممالک میں اپنی سروسز فراہم کر رہی ہے، کمپنی اس تعداد کو مستقبل میں 42 ہزار تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے، دنیا بھر میں اس کے سبسکرائبرز کی تعداد 15لاکھ سے زائد ہے، ڈاکٹر سیف کے مطابق پے پال اور سٹرائپ جیسے عالمی ادائیگی کے پلیٹ فارمز کو پاکستان میں لانا اورفائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی بھی ان کی وزارت کے اہداف میں شامل ہے۔

Back to top button