حکومت 16ستمبر سے پہلے الیکشن کیوں نہیں چاہتی

قومی اسمبلی کی تحلیل جون سے قبل کسی صورت میں نہیں ہو گی ،حکمران اتحاد چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ 16؍ ستمبر کے بعد الیکشن کیلئے کسی بھی تاریخ پر راضی ہوگا. پی ٹی آئی جلد الیکشن اس لئے چاہتی تھی تاکہ آئینی ترمیم کرکے سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو 65 سے بڑھا کر 68 سال تک لیجایا جائے۔ اس کا مقصد عمر عطا بندیال کو چیف جسٹس پاکستان کو برقرار رکھ کر سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تقرری کو تین سال کیلئے تاخیر کا شکار کرنا تھا ۔ یہ انکشاف سنیئر صحافی انصار عباسی نے اپنی ایک نیوز رپورٹ میں کیا ہے . انصار عباسی نے پاکستان ڈیمو کریٹک مومنٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پی ڈی ایم جلد الیکشن کیلئے تیار ہے لیکن 16؍ ستمبر سے پہلے نہیں۔ یہ تاریخ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ ہے۔ پی ڈی ایم کے ایک باخبر ذریعے کا کہنا تھا حکمران اتحاد 16؍ ستمبر کے بعد الیکشن کیلئے کسی بھی تاریخ کیلئے تیار ہوگا اور پارلیمنٹ کی مدت میں توسیع کا کوئی امکان نہیں ہے ، جیسا کہ ماضی میں حکمران اتحاد کے کچھ رہنمائوں نے اشارہ دیا تھا کہ ملکی حالا ت کے پیش نظر قومی اسمبلی کی مدت میں توسیع ہو سکتی ہے ۔ 13؍ اگست کو قومی اسمبلی اپنی مدت مکمل کر لے گی اور حکومت اب اس تاریخ سے آگے جانا بھی نہیں چاہتی کیوں کہ کہ 13؍ اگست سے آگے جانے سے حکمران اتحاد کو سیاسی لحاظ سے بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ ذریعے نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے کسی معاہدے کیلئے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں تو قومی اسمبلی کی تحلیل جولائی میں ممکن ہے لیکن جون میں کسی بھی طرح سے ایسا نہیں ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت بجٹ کے معاملے پر سمجھوتا نہیں کرے گی، حکومت چاہتی ہے کہ وہ بجٹ پیش کرے اور اسے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے مطابق پارلیمنٹ سے منظور کرائے۔ بجٹ نگراں حکومت کیلئے نہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ حکمران اتحاد کو ڈر ہے کہ ملک نازک موڑ پر کھڑا ہے، عبوری حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاملہ سازی نہیں کر پائے گی لہٰذا ڈیفالٹ کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ حکمران اتحاد کو یقین ہی کہ آئندہ بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے مطابق منظور کیا جائے گا اور آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبول بجٹ پیش نہیں کیا جائے گا۔ انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا بجٹ پیش کیا جائے جو آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہو. پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے جمعہ کو ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ بجٹ دانشمندانہ انداز سے پیش کرنا چاہئے اور اس ضمن میں ہمہ جہت مشاورت کرنا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وزیر خزانہ معیشت کے ساتھ کھیلنا بند کریں کیوں کہ انہوں نے پہلے ہی بہت نقصان کر دیا ہے۔ اس ٹوئیٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کو ڈر ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط سے مزید انحراف اگلی حکومت کیلئے ملک کی نازک معیشت سے نمٹنا بہت ہی مشکل ہو جائے گا۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی والوں کے درمیان مذاکرات کے حوالے بتایا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان دو معاملات طے ہونا ہیں۔ اول، الیکشن کی تاریخ اور دوم، تحریری معاہدہ … تا کہ دونوں فریقین الیکشن کے نتائج تسلیم کریں گے چاہے جو بھی جیتے یا ہا رے ۔ الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے ذریعے کا کہنا تھا کہ الیکشن 16؍ ستمبر کے قریب ہو سکتا ہے حکومت کے پاس معلومات ہیں کہ پی ٹی آئی جلد الیکشن چاہتی تھی تاکہ آئینی ترمیم کرکے سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کا عرصہ بڑھایا جا سکے اور 65 سال کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو 68 سال تک لیجایا جائے۔ ذریعے کا دعویٰ تھا کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ موجودہ چیف جسٹس پاکستان کو برقرار رکھا جائے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تقرری کو تین سال کیلئے تاخیر کا شکار کیا جاسکے، لیکن حکومتی اتحاد اس بندوبست کے سخت خلاف ہے اور اسی لئے سخت موقف اپنائے ہوۓ ہے
