پاپ سنگر علی نور پر خاتون صحافی کا جنسی ہراسانی کا الزام

شوبز انڈسٹری میں ’’می ٹو‘‘ مہم کے تحت جنسی ہراسانی کے الزامات کوئی نہیں بات نہیں، آئے روز ہالی ووڈ اور بالی ووڈ میں ایسے الزامات کی بازگشت سنائی دیتی ہے، لیکن اس مرتبہ پاکستانی نوری میوزک بینڈ کے پاپ گلوکار علی نور بھی جنسی ہراسانی کے الزام کی زد میں آ گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ الزام کسی عام فرد نے نہیں بلکہ ایک صحافی خاتون نے لگایا ہے۔ صحافی عائشہ بنت راشد نے میوزیکل بینڈ کے سنگر علی نور پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے انسٹا گرام پر واٹس ایپ میسجنگ کے سکرین شاٹس بھی شیئر کر دیئے ہیں۔
عائشہ بنت راشد نے گلوکار علی نور کیساتھ اپنی واٹس ایپ چیٹ کے سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ جنسی ہراسانی کرنے والے انسان ہیں، ائیرپورٹ جاتے ہوئے میری گاڑی میں جو کچھ ہوا، وہ جنسی ہراسانی تھی۔ خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ میں ڈرمر ’’کامی پال‘‘ کے لئے احترام کی وجہ سے عوامی طور پر الزامات کے ساتھ سامنے نہیں آنا چاہتی تھی لیکن میں اب ان سے بھی دوستی ختم کر رہی ہوں کیونکہ مجھے اپنی زندگی میں ایسے افراد رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں، جو ہراساں کرنے والوں کیساتھ دوستی رکھیں۔
بیوہ ہونے والی حدیقہ کیانی کی اداکار بلال عباس سے شادی
دوسری جانب سکرین شارٹس میں علی نور کا جواب بھی نظر آ رہا جس میں وہ اپنے “گنہگار” ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ خود سے نفرت کرتے ہیں، خاتون کی جانب سے واٹس ایپ پر بلاک کئے جانے کے بعد نور نے بظاہر اپنی اہلیہ کے فون نمبر سے عائشہ سے رابطہ کیا اور ان سے معافی مانگی۔
علی نور نے لکھا کہ وہ ایک طرح سے عائشہ بنت راشد کے مجرم ہیں اور ہی کہ پہلے انہوں نے ان سے ذاتی طور پر معافی مانگی تھی اور اب وہ سب کے سامنے معافی مانگ رہے ہیں۔ لیکن علی نور نے واضح طور پر اعتراف نہیں کیا کہ ان پر لگے الزامات درست ہیں، تاہم انہوں نے معاملے کو ختم کرنے کے لیے خاتون صحافی سے معافی مانگی ہے۔
واضح رہے کہ علی نور نے 1996 میں اپنے بھائی علی حمزہ کے ساتھ ’نوری‘ بینڈ کا آغاز کیا تھا، 2002 میں ان کے گانے ’منوا رے‘ نے علی نور اور ان کے بینڈ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا، ان کی پہلی البم ’’سنو کہ میں ہوں جوان‘‘ 2003 میں ریلیز ہوئی تھی، وہ گلوگاری کے ساتھ گانے لکھتے بھی ہیں جبکہ گٹار بھی بجاتے ہیں۔
