عمران سیاسی مخالفین کے ساتھ عوام کا رگڑا کیوں نکال رہے ہیں؟
وزیراعظم عمران خان کے نئے پاکستان میں معاشی بدحالی اور سیاسی ابتری اگرچہ اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے تاہم کارکردگی کی بجائے کھوکھلے سیاسی بیانیوں پر یقین رکھنے والی کپتان اینڈ کمپنی عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ ہم مبینہ ”چور اور لٹیروں“ کے کرتوتوں کا خمیازہ ادا کر رہے ہیں۔ یعنی بحیثیت قوم ہمیں ماضی کی حکومتوں کے کردہ یا ناکردہ گناہوں کا اجتماعی کفارہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔
سنیئر صحافی نصرت جاوید اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کو رگڑا دینے کے ساتھ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے لئے بھی حکومتوں کو کچھ کرنا ہوتا ہے لیکن اس کی جانب بالکل بھی توجہ نہیں دی جا رہی اور ہمیں مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ حکومت اس وقت صرف بیانیوں کی جنگ لڑی رہی ہے جس کا بنیادی مقصد ٹھوس معاشی حقائق سے ہماری توجہ ہٹاکر ریگولر اور سوشل میڈیا پر فروعی معاملات کے حوالے سے ایک دوسرے کی بھد اڑانا ہے۔ نصرت کے بقول موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے تین برس گزرچکے ہیں۔ اس کی آمد سے قبل ہی نواز شریف صاحب سپریم کورٹ کے ہاتھوں کسی بھی عوامی عہدے کے لئے تاحیات نا اہل قرار پانے کے بعد احتساب عدالت کی وجہ سے جیل جا چکے تھے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران حکومت نے احتساب کے عمل کو مزید جارحانہ بنایا۔ خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی، شہباز شریف اور خواجہ آصف کے علاوہ نون لیگ کے دیگر کئی سرکردہ اراکین کرپشن کے سنگین الزامات کے تحت گرفتار ہوئے۔ انہیں اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت کے حصول تک کئی مہینے جیل میں گزارنا پڑے۔ پیپلز پارٹی کے بھی آصف زرداری سمیت کئی رہ نما کڑے احتساب کی زد میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ احتسابی عمل کی گہماگہمی ہی مگر حکومت کا واحد ہدف نہیں ہونا چاہیے تھی، میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے لئے بھی حکومتوں کو کچھ کرنا ہوتا ہے۔ اس کی جانب کماحقہ توجہ نہیں دی جا رہی اور ہمیں مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس طوفان کی بابت دہائی مچاؤ تو گزشتہ حکومتوں کی بدعنوانی کی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم مبینہ ”چور اور لٹیروں“ کے کرتوتوں کا خمیازہ ادا کر رہے ہیں۔ اس دلیل پر غور کریں تو اکثر یہ گماں ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں ماضی کی حکومتوں کے کردہ یا ناکردہ گناہوں کا اجتماعی کفارہ ادا کرنا پڑرہا ہے۔ عام شہریوں کی بے پناہ اکثریت کا اگرچہ ان حکومتوں کی پالیسی سازی میں کوئی کردار ہی نہیں تھا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میرے اور آپ جیسے شہریوں کے سانجھے دکھ عمران حکومت کا بھی درد سر نہیں ہیں۔ اس کے اولین وزیر خزانہ جناب اسد عمر تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل ایک بہت بڑی کاروباری کمپنی کے سربراہ رہے۔ امید دلائی گئی کہ وہ پاکستانی معیشت میں بھی رونق لگادیں گے۔ وہ مگر قومی خزانہ خالی ہوجانے کی دہائی مچاتے رہے۔ ہمارے ہاں جب بھی قومی خزانہ خالی ہوا تو ہر حکومت نے فی الفور عالمی معیشت کے نگہبان ادارے آئی ایم ایف سے رجوع کیا۔ اسد عمر صاحب کی غیرت نے مگر یہ گوارا نہیں کیا۔ ان کے لیڈر یعنی عمران خان ویسے بھی اپوزیشن کے دنوں میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے بجائے خودکشی کرنے کی بڑھکیں لگاتے رہے تھے مگر بالآخر یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی کہ دوست و برادر ممالک آئی ایم ایف کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ اسد عمر کو فارغ کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ وزارت خزانہ کے منصب پر بٹھادیے گئے۔ انہوں نے آئی ایم ایف سے ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت تیارہوئے نسخے کو ستمبر 2022 تک استعمال کرنا ہے۔ اس کے عوض ہمیں مختلف اقساط میں بالآخر 6 ارب ڈالر ملیں گے۔ مذکورہ رقم کے حصول کے لئے چند شرائط پر عملل درآمد مگر ضروری ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ دیانت داری کا تقاضا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کو ہماری مشکلات کا واحد ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عمران حکومت اس موقف پر ڈٹی رہتی کہ آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط پر کامل عمل درآمد کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں ہے۔ سرجھکائے لہٰذا ماضی کی خطاؤں کا خمیازہ بھگتو اور اچھے دنوں کا انتظار کرو۔
رواں مالی سال کا بجٹ تیار کرنے کے لئے تاہم شوکت ترین کو ڈاکٹر حفیظ شیخ کی جگہ وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔ اپنا منصب سنبھالتے ہی وہ کامل اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ کرنا شروع ہو گئے کہ پاکستان کی معیشت بحال ہو چکی ہے۔ اپنا بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعے کہانی یہ بھی سنائی کہ ہماری معیشت کے عالمی نگہبانوں کے اندازوں کے برعکس ہماری معیشت میں حیران کن بڑھوتی ہوئی ہے۔ نمو کی اس شرح کو اب آگے بڑھانا ہو گا۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ آئی ایم ایف کے ایسی شرائط کو رد کر دیا جائے جو ترین کی دانست میں شرح نمو کو بڑھنے نہیں دیں گی۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اس ضمن میں کلیدی برائی ٹھہرائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ہندتوا نظریہ درحقیقت آر ایس ایس،بی جے پی گٹھ جوڑ ہے
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ علم معیشت کی مبادیات سے بھی نابلد ہوتے ہوئے میں خبردار کرتا رہا کہ شوکت ترین کو بالآخر اسی راہ پر سفر کرنا ہو گا جو عبد الحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کی رہ نمائی میں ڈھونڈی تھی۔ میرے بیان کردہ خدشات کا تمسخراڑایا گیا۔ کئی افراد کو گماں یہ بھی ہوا کہ میں جہالت کی وجہ سے مایوسی نہیں پھیلارہا۔ میری یاوہ گوئی کی وجہ وہ ”لفافے“ ہیں جو ماضی کے حکمرانوں سے ملتے رہے ہوں گے۔ شوکت ترین البتہ حفیظ شیخ کی بنائی راہ پر لوٹ آئے ہیں۔ عمران حکومت بھی اس واپسی کو سراہتی نظر آ رہی ہے۔ خیبر پختون خوا سے سینٹ کی ایک نشست خالی کروالی گئی ہے۔ پنجاب سے ابھرے ترین کو وہاں سے منتخب کروانے کا ارادہ ہے۔ ان کی مشفقانہ سرپرستی عندیہ دے رہی ہے کہ عمران خان بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخوں میں مزید اضافے کو دل وجان سے آمادہ ہیں۔ 550 ارب روپے کے اضافی ٹیکس بھی لگائے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آئی ایم ایف کے گورنر کی خود مختاری بھی یقینی بنائی جائے گی۔ میری اور آپ کی آمدنی میں اضافے کی کوئی امید مگر دلائی نہیں جا رہی۔
حکومت کی جانب سے ساری توجہ یہ سمجھانے پر مرکوز کردی گئی ہے کہ حال ہی میں ثاقب نثار سے منسوب جو آڈیو لیک ہوئی تھی وہ کون سے ”ٹوٹے“ جوڑ کر بنائی گئی تھی۔ اسی طرح تحریک لبیک پر بھارتی فنڈنگ کا الزام لگانے کے بعد اسی تنظیم سے ایک خفیہ معاہدہ کر لیا گیا۔
نصرت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حقائق دور حاضر کی سیاست کا درد سر نہیں رہے۔ اب یہ بیانیوں کی لڑائی بن چکی ہے۔ بنیادی مقصد اس جنگ کا ٹھوس معاشی حقائق سے ہماری توجہ ہٹاکر ریگولر اور سوشل میڈیا پر فروعی معاملات کے حوالے سے ایک دوسرے کی بھد اڑانا ہے۔ لہذا جالب ٹھیک ہی کہہ گئے ہیں کہ ”ہمارے درد کا جالبؔ مداوا ہو نہیں سکتا“ ۔
