الیکشن کی تیاری،PTIالیکشن مہم کیسے چلائے گی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جنوری 2024 میں عام انتخابات کے اعلان کے بعد ویسے تو تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی حکمت عملی بنانے کا دعویٰ کر رہی ہیں لیکن پنجاب میں مسلم لیگ ن کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جماعت عملی طور پر متحرک دکھائی نہیں دے رہی۔پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی الیکشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں جبکہ تحریک انصاف صرف ٹوئٹر پر بیان بازی تک محدود ہو چکی ہے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کی گرفتاری کے بعد لگتا یہی ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں تحریک انساف بیلٹ پیپرز پر تو موجود ہو گی لیکن ان کی انتخابی مہم چلانے والا کوئی نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر استقبال کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے مطابق ’الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کے مطابق ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’مینار پاکستان جلسے سے باقاعدہ انتخابی مہم شروع ہوجائے گی۔ دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی تیاریاں ہو رہی ہوں گی، ہم عوامی رابطہ مہم کے ذریعے پنجاب سمیت ملک بھر میں کامیابی کے لیے پر امید ہیں۔‘عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ نواز شریف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان خود جلسے میں کریں گے۔ ’ہر جماعت کو مہم چلانے کی اجازت ہے لیکن قانون کی پاسداری سب پر لازم ہے۔‘

اس کے برعکس پنجاب کی سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف جلد انتخابات کا مطالبہ تو کر رہی ہے لیکن عملی طور پر انتخابی مہم چلانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان رؤف حسن کہتے ہیں کہ ’شدید مہنگائی میں جس طرح مسلم لیگ ن کو عوامی ردعمل کا سامنا ہے اور جو ملکی معاشی صورت حال ہے، اس میں انتخابات فوری ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی جوڑ توڑ کی حد تک اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہے مگر ابھی تک عوامی رابطہ مہم کا باقاعدہ آغاز نہیں کر سکی۔ البتہ پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ 18 اکتوبر سے پنجاب میں ورکرز کنونشن کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔حسن مرتضیٰ  کے مطابق پیپلز پارٹی نےلیول پلیئنگ فیلڈ کی شکایات کے ساتھ 18 اکتوبر سے پنجاب میں ورکرز کنونشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اجتماعات سے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ویڈیو لنک پر خطاب کریں گے۔‘

صوبے میں انتخابی سرگرمیاں کے حوالے سے صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی تو انتخابی مہم چلانے میں سنجیدہ ہیں لیکن پی ٹی آئی سیاسی کسمپرسی اور رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کی وجہ سے عوامی رابطہ مہم چلانے سے قاصر ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’مولانا فضل الرحمن کے معاشی صورت حال بہتر ہونے تک انتخابات ملتوی کرنے کے مطالبے سے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے الیکشن میں تاخیر کی خواہش کا تاثر ابھر رہا ہے مگر الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری کے اعلان سے انتخابات کا انعقاد یقینی ہو چکا ہے۔‘سلیم بخاری کا مزید کہنا ہے کہ ’ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں البتہ پنجاب میں ن لیگ کے مقابلے میں کوئی جماعت زیادہ متحرک دکھائی نہیں دے رہی۔ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو انہوں نے جو مہم چلانی تھی، نو مئی کو چلا لی اب انہیں شاید موقع نہیں ملے گا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن واحد جماعت کے لیڈر ہیں، جو پہلے معاشی استحکام اور اس کے بعد انتخابات منعقد کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے یہ تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ شاید اسٹیبلشمنٹ بھی فوری انتخابات نہیں چاہتی۔’مگر الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول جاری ہونے اور دو بڑی جماعتوں کے اس اعلان کے مطابق مہم چلانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ الیکشن جنوری میں ہی ہوں گے۔‘

سلیم بخاری نے کہا کہ ’نواز شریف کی وطن واپسی اور آصف علی زرداری کا متحرک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ البتہ تحریک انصاف سیاسی طور پر کمزور ہونے اور قیادت کی گرفتاریوں کے باعث صرف بیان بازی تک الیکشن چاہتی ہے، عملی طور پر ان کے پلڑے میں کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔‘تجزیہ کار سلیم بخاری کے مطابق: ’جو سیاسی جماعتیں الیکشن میں کامیابی کی امید نہیں رکھتیں وہ ان سوالوں میں الجھی ہوئی ہیں کہ نواز شریف کی واپسی ہوگی یا نہیں؟ انتخابات ہوں گے یا نہیں؟ اسی غیر یقینی میں الیکشن کا دن آجائے گا اور شکست کی صورت میں دھاندلی کے

پنجاب میں 110ترقیاتی منصوبے 10جنوری تک مکمل کرنیکی ڈیڈ لائن

الزام پر سیاست ہوگی۔‘

Back to top button