فیلڈمارشل کی مشروط معافی کی آفرکےبعد PTI میں بغاوت

عسکری قیادت کی مشروط مفاہمتی پیشکش نے تحریک انصاف کے اندر بڑی سیاسی بغاوت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ عمران خان کی جارحانہ حکمت عملی کے برعکس پی ٹی آئی قیادت کے ایک بڑے گروپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آفر کو قبول کر کے سچے دل سے معافی مانگنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی کا مزید ٹکڑوں میں بٹنا یقینی ہو گیا ہےتاہم سیاسی مبصرین کے مطابق آرمی چیف کی پیشکش محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جو پی ٹی آئی کو سیاسی تنہائی، دباؤ اور محاذ آرائی سے نکال سکتا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی اکثریتی قیادت کے ساتھ ہم آواز ہوتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی روش بدلنے اور ندامت کا اظہار کرنے پر تیار ہوں گے یا پھر حسبِ روایت ضد کی راہ اپنا کر پی ٹی آئی کو اپنے انجام تک پہنچا دیں گے؟
قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت کا ایک بڑا اور مؤثر گروپ فوجی سربراہ کی اس پیشکش کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ اس گروپ نے غیر رسمی مشاورت کے دوران اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخوا میں سیلابی صورتحال بہتر ہونے کے بعد پارٹی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا، جہاں ’’سچے دل سے معافی‘‘ کے آپشن کو زیرِ غور لایا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق یہ گروپ اب پارٹی کے بانی سے براہِ راست اور دوٹوک گفتگو کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے تاکہ تحریک انصاف مزید سیاسی جمود کا شکار نہ ہو۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک پی ٹی آئی میں اصل بحران 9 مئی کے واقعات سے شروع ہوا جنہوں نے بانی پی ٹی آئی کے بیانیے کو کمزور کر دیا۔ ان واقعات کے بعد سے پارٹی مسلسل دباؤ میں ہے اور احتجاجی سیاست کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں کر سکی۔ تحریک انصاف نے انتخابات، احتجاجی کالز اور یومِ آزادی جیسے قومی ایام کو بھی سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی مگر عوامی عدم دلچسپی کی وجہ سے کوئی بھی ریلف حاصل کرنے میں یکسر ناکام رہی۔ مبصرین کے مطابق:’’پی ٹی آئی نے ریاست کے ساتھ محاذ آرائی کو سیاست سمجھ لیا، لیکن اس حکمتِ عملی نے ان کے لیے راستے کھولنے کی بجائے مکمل بند کر دئیے۔‘‘
تاہم مبصرین اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیان کو ایک فیصلہ کن پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق فوجی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کیلئے اس حوالے سے نہ کوئی نئی شرط ہوگی اور نہ ہی کوئی چالبازی برداشت کی جائے گی۔ معافی ایک ایسا دروازہ ہے جو ملک کو سیاسی انتشار سے نکال سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول ’’معافی کو کمزوری سمجھنے والے دراصل سیاست کو نہیں سمجھتے۔ دنیا کی بڑی سیاسی مثالیں بتاتی ہیں کہ معافی مردانگی ہے اور یہ ہی اصل سیاسی عمل ہے۔‘‘ تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف دراصل ’’ون مین پارٹی‘‘ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ پارٹی کے تمام فیصلے صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ہاتھ میں ہیں، نہ انہوں نے کوئی متبادل قیادت تیار کی اور نہ ہی جماعت میں کوئی اور فیصلہ ساز حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اب بھی عمران خان پارٹی قیادت کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ضد پر قائم رہے اور معافی سے انکار کر دیا تو نہ صرف پی ٹی آئی مزید دباؤ کا شکار ہو گی بلکہ اس کی تقسیم کا عمل بھی تیز ہو جائے گا۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ ’’معافی نہ مانگنے کی ضد نے ہی بانی پی ٹی آئی کو جیل تک پہنچایا، اور یہی ضد ان کی جماعت کو مزید دیوار سے لگا دے گی۔‘‘
کچھ مبصرین معافی کے آپشن کو ’’سیاسی ری سیٹ بٹن‘‘ قرار دیتے ہیں جس سے نہ صرف پی ٹی آئی کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ قومی سیاست کو بھی نئی راہ مل سکتی ہے۔ اگر بانی پی ٹی آئی ندامت کا اظہار کرتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ملک کے لیے بھی ایک مثبت موڑ ہوگا۔تاہم بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اپنی فطرت کے مطابق ضد پر قائم رہیں گے کیونکہ وہ پسپائی کو اپنی سیاسی کمزوری سمجھتے ہیں۔’’معافی کی پیشکش دراصل ایک امتحان ہے، اگر پی ٹی آئی نے اسے قبول کیا تو سیاسی دروازے کھل سکتے ہیں، بصورت دیگر تنہائی اور تقسیم اس جماعت کا مقدر بن سکتی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت جس سیاسی بحران سے دوچار ہے اس کا حل مذاکرات اور مصالحت کے سوا کچھ نہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معافی کے ذریعے ایک کھڑکی کھول دی ہے، لیکن یہ کھڑکی کب دروازہ بنے گی اس کا دار و مدار بانی پی ٹی آئی کے فیصلے پر ہے۔ اگر وہ ضد پر اڑے رہے تو ان کی جماعت مزید دباؤ میں آ جائے گی اور ملک بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار رہے گا۔ لیکن اگر وہ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معافی کو قبول کر لیتے ہیں تو یہ قدم نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے ایک نئی شروعات کا سبب بن سکتا ہے۔
