منصور شاہ کی آئین دوبارہ سے لکھنے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

عمرانڈو ججز کو ایک بار پھر سبکی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی ٹی آئی کو بن مانگے مخصوص سیٹیں دینے پر عمراندار ججز کی دھلائی کر دی۔ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کرتے ہوئے اسے دوبارہ لکھنے کا اختیار نہیں۔ اس لئے تحریک انصاف کو فریق بنے بغیر دی گئی مخصوص نشستوں بارے ریلیف قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
خیال رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ سمیت 8 ججز نے اکثریت کی بنیاد پر تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ دیا تھا تاہم 27 جون 2025 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 5 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت سے حکومتی اتحادیوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرلی تھیں، عدالت نے مختصر فیصلے میں 12 جولائی کا عمرندار ججز کا پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا اور سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے اس مختصر حکمنامے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
مخصوص نشستوں بارے جاری کئے گئے تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں سات غیر متنازع حقائق ہیں، سنی اتحاد کونسل کی حد تک مرکزی فیصلے میں اپیلیں متفقہ طور پر خارج ہوئیں کہ وہ مخصوص نشستوں کی حق دار نہیں، مرکزی فیصلے میں پی ٹی آئی کو ریلیف دے دیا گیا جبکہ وہ فریق ہی نہیں تھی، پی ٹی آئی اگر چاہتی تو بطور فریق شامل ہو سکتی تھی مگر جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا گیا، پی ٹی آئی کیس میں کسی بھی فورم پر فریق نہیں تھی، اس لئے جو ریلیف مرکزی فیصلے میں ملا برقرار نہیں رہ سکتا۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 80 آزاد امیدواروں میں سے کسی نے بھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں یا مخصوص نشستیں انہیں ملنی چاہئیں، الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دیں، مرکزی فیصلے میں ان جماعتوں کو بغیر سنے ڈی سیٹ کر دیا گیا، جو قانون اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا، مکمل انصاف کا اختیار استعمال کر کے پی ٹی آئی کو ریلیف نہیں دیا جاسکتا تھا، آرٹیکل 187 کا استعمال اس کیس میں نہیں ہوسکتا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے سنی اتحاد کونسل اور اس کے چیئرمین کا کنڈکٹ قابل ستائش نہیں تھا جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی اس کیس میں نہ سپریم کورٹ میں فریق تھی، نہ پشاور ہائی کورٹ اور نہ ہی الیکشن کمیشن میں فریق تھی، سپریم کورٹ مکمل انصاف 184 کے تحت کرسکتی ہے تاہم مکمل انصاف کے نام پر اس فریق کو ریلیف نہیں دیا جاسکتا جو مقدمے میں فریق ہی نہ ہو، سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے مرکزی کیس فیصلے میں پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیا جس کا اسے اختیار ہی نہیں تھا جبکہ دوسری جانب مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی ججز کا اقلیتی ججوں کو نکال کر اپنے طور پر خصوصی بنچ تشکیل دینا غیر قانونی ہے، جس کی کوئی مثال بھی نہیں ملتی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین میں دی ہوئی ٹائم لائن کو پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے ذریعے ہی تبدیل کر سکتی ہے،
سپریم کورٹ کی جانب سے آئین میں دی گئی واضح ٹائم لائنز کو تبدیل کرنا اختیارات کی تقسیم کے بنیادی نظریہ کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ عدالتی حدود سے تجاوز بھی ہے۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار کسی نے نہیں دیا کہ وہ آئینی کی تشریح کرتے کرتے آئین کو ہی دوبارہ تحریر کر ڈالے، سپریم کورٹ یا اس کے کسی جج کو قطعی یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر آئین کی تشریح کرے۔ مخصوص نشستوں کے کیس میں وہ ریلیف دیا گیا جو آئین کے دائرہ کار سے باہر تھا۔ اس لئے وہ کبھی بھی برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
یاد رہے کہ 14 مارچ 2024 کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد 12 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔ تاہم 27 جون 2025 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 5 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت سے عمراندار ججز کا پی ٹی آئی کو مخصوص نشستین دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔
