اب عام انتخابات میں RTSسسٹم نہیں چلے گا

الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان نہ کیے جانے پر جہاں ایک طرف تنقید بڑھتی جا رہی ہے وہیں دوسری طرف الیکشن کمیشن کی طرف سے جنوری کے آخری ہفتے میں شفاف انتخابات یقینی بنانے کیلئے تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتکابات میں آر ٹی ایس یعنی رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سے بہتر نظام متعارف کرانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق نئے سسٹم کے تحت ملک بھر کے 859 ریٹرننگ افسران کے پاس تین لیپ ٹاپ یا ڈیوائسز ہوں گی جس سے نتائج مرتب کیے جائیں گے۔ انٹرنیٹ یا کسی اور مسئلے کی صورت میں بھی نتائج مرتب کرنے کا عمل جاری رہے گا، آر او دفاتر کے باہر اسکرین نصب کی جائے گی جس پر نتائج جیسے جیسے موصول ہوں گے، آویزاں کر دیے جائیں گے، امید ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے نتائج رات 10 بجے سے پہلے مرتب کر لیے جائیں گے۔
دوسری طرف الیکشن کی حتمی تاریخ نہ دینے کے الیکشن کمیشن کے اعلان بارے الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدارکا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ’تکنیکی طور پر ممکن نہیں‘ تھا۔ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے دلیل دی کہ انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان باقاعدہ مراحل کا ایک سلسلہ شروع کر دے گا جس کے لیے انتخابات سے قبل مخصوص ٹائم لائنز پر عمل کرنا ہوگا۔اس جواز کی وضاحت کرتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 57 کے تحت پولنگ کی تاریخ کے اعلان کے بعد انتخابی شیڈول جاری کیا جانا چاہیے، جو پورے انتخابی عمل کو متحرک کرتا ہے۔اس میں کاغذات نامزدگی جمع کرنا، ان کی جانچ پڑتال اور ان کے قبول یا مسترد ہونے پر فیصلے اور اپیلیں شامل ہیں، ہر مرحلہ ایک مقررہ ٹائم لائن کے تحت مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اسی لئے الیکشن کمیشن نے الیکشن کی حتمی تاریخ دینے کی بجائے فروری کے آخری ہفتے کی ٹائم لائن دی ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں،سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی تیاریوں سے متعلق بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت تک حلقہ بندیوں کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے، ساتویں مردم شماری کے نتائج 7 اگست 2023 کو شائع کیے گئے اس کی بنیاد پر 27 ستمبر کو ابتدائی حلقہ بندیوں کو شائع کیا جائے گا۔سیکریٹری عمر حامد خان کے مطابق حلقہ بندیوں کی اشاعت کے بعد 28 ستمبر سے 27 اکتوبر تک اعتراضات داخل کیے جائیں گے، جن پر ایک ماہ تک یعنی 26 نومبر تک سماعت کے بعد 30 نومبر 2023 کو حتمی حلقہ بندیوں کی فہرست شائع کر دی جائے گی۔ ’حلقہ بندیوں کی اشاعت کے عمل کی تکمیل کے 54 دنوں کے بعد جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات منعقد کردیے جائیں گے۔‘
آئندہ عام انتخابات سے متعلق انتظامی امور کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد قومی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 266 ہوگئی ہے، جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد 593 ہے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حامد خان کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 91 ہزار 809 ، نارمل پولنگ اسٹیشن کی تعداد 41 ہزار 890 ، حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 32 ہزار 508 جبکہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 17 ہزار 411 ہے۔
’کوشش ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں غلطیوں سے مبرا صاف اور شفاف نظام متعارف کرایا جائے۔ سیکشن 13 کے تحت ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے الیکشن کا رزلٹ بھجوایا جائے گا، بلوچستان میں بہت ساری جگہوں پر انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے، ایسے مقامات پر رزلٹ بھجوانے کے لیے الیکٹرانک، آف لائن طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔‘
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ گزشتہ انتخابات میں ریٹرننگ افسروں کے پاس ایک لیپ ٹاپ تھا تاہم اس مرتبہ ان کے پاس 3 لیپ ٹاپ ہوں گے۔ آن لائن سسٹم نہ چلا تو آف لائن رزلٹ مرتب کیا جائے گا، دونوں سسٹم نہ ہوئے تو تیسرے لیپ ٹاپ پر مکمل رزلٹ محفوظ کر کے آگے بھیجا جائے گا۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے فارم 45 کی کاپی ہر پولنگ ایجنٹ کو دی جائے گی اور پولنگ اسٹیشن کے باہر چسپاں بھی کیا جائے گا۔ فارم 45 کا اسکرین شارٹ بھی موجود ہو گا، پورے ملک میں 859 ریٹرننگ افسروں کے دفاتر کے باہر نصب اسکرین پر جو بھی تمام ڈیٹا انٹری نظر آ رہی ہو گی۔ ’یہ سب سسٹم آن لائن ہو گا۔ امید ہے کہ
10 بجے سے قبل مکمل الیکشن کا نتائج آ جائیں گے۔‘
