فارن فنڈنگ کا محفوظ فیصلہ رواں ہفتے سنائے جانے کا امکان

الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا محفوظ فیصلہ رواں ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے، پی ٹی آئی کیخلاف یہ کیس 8 سال تک زیر سماعت رہا ہے اور اس کا فیصلہ گزشتہ ماہ محفوظ کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے کہا ہے کہ جوڈیشل ریفرنس دائر کرنے والے کا اپنا ہی ناقابل تلافی نقصان ہوگا کیونکہ ایسے ریفرنس کی سماعت کے دوران اب تک پوشیدہ رہنے والے معاملات بے نقاب ہو جائیں گے۔
ای سی پی ایک آئینی ادارہ ہے اور آئینی راہ پر چلتا رہے گا۔ کمیشن کسی کی بلیک میلنگ‘ دباؤ میں نہ آیا ہے نہ آئیگا۔ الیکشن کمیشن کی کوئی سیاسی جماعت نہ فیورٹ ہے اور نہ کوئی نان فیورٹ‘ جو سیاسی جماعتیں آئین و قانون پر چل رہی ہیں وہی کمیشن کے ساتھ ہیں۔

عمران نے فارن فنڈنگ کیس 8 برس تک کیسے لٹکا کر رکھا؟

ان ذرائع کی توجہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور الیکشن کمشنر کیخلاف جوڈیشل ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے کی طرف مبذول کرائی گئی تو ذرائع نے کہا کہ یہ بلیک میلنگ انٹرنیشنل منی لانڈرنگ اور اُن کے حواریوں کی طرف سے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے اسموک اسکرین پیدا کرنے کیلئے کی جارہی ہے، انٹرنیشنل منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرلی گئی ہیں۔
لاکھوں ڈالرز ایک سیاسی جماعت کو بھجوائے جاتے رہے اور اس کی تصدیق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی کردی ہے، ایک دوست خلیجی ملک کے وزیر کی طرف سے بھی بھاری رقم حاصل کیے جانے کی اطلاع ہے۔

Back to top button