چینی میوزک گالا میں ساحر علی بگا کے گانے کی دھوم

چین میں نئے قمری سال کے جشن کے موقع پر  تفریحی پروگرام سپرنگ گالا میں پاکستانی گلوکار ساحر علی بگا نے اپنی مدحت آواز سے میلہ لوٹ لیا۔ سپرنگ گالا کو چین میں انتہائی شوق سے دیکھا جاتا ہے، چینی اس شام ڈمپلنگز بناتے اور کھاتے ہوئے سپرنگ گالا دیکھتے ہیں۔ اس پروگرام کو دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے تفریحی پروگرام کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس سال چائنہ میڈیا گروپ نے سپرنگ گالا کے دوران چینیوں کو چینی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ میں شامل ممالک کے مشہور گانوں سے روشناس کروایا۔ سب سے پہلے چینی لوک گانا ’چنبیلی کا پھول‘ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد غیر ملکی گانوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تین گانوں کے بعد اچانک موسیقی پرجوش ہوگئی، ساتھ ہی سکرین پر ایک کونے میں ’کو کو کورینا‘ کے الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد سکرین پر ایک طرف ایک ویڈیو دکھائی دی جس میں مینارِ پاکستان کے سامنے لال جیکٹ اور سیاہ چشمہ پہنے معروف پاکستانی گلوکار ساحر علی بگا ’کو کو کورینا‘ گا رہے تھے، یہ یقیناً پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ تھا۔

پاکستان میں شاید ہی کوئی ’کو کو کورینا‘ گانے سے واقف نہ ہو، یہ گانا پہلی بار 1966 میں پاکستانی فلم ’ارمان‘ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس گانے کی موسیقی سہیل رانا نے ترتیب دی تھی اور اسے احمد رشدی نے گایا تھا جبکہ اسے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد پر فلمایا گیا تھا۔ جب ساحر علی بگا سے اس فیسٹیول کا حصہ بننے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا۔ پتہ نہیں کہ لوگ جل گئے ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ اس پروگرام میں پوری دنیا کے گلوکاروں نے گایا ہے۔ میں نے پاکستان کی نمائندگی کی ہے لیکن کوئی اس پر بات نہیں کر رہا۔ میں سوشل میڈیا پر اپنی تصویر ڈالتا ہوں تو اس پر بھی ہزاروں لائکس اور کمنٹس آ جاتے ہیں لیکن اس پر صرف 14 کمنٹس آئے ہیں۔

ساحر علی بگا نے بتایا کہ 15 دن قبل وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگ زیب نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ چینی حکومت اپنے ایک پروگرام میں کسی ایسے پاکستانی گلوکار سے ایک گانا گوانا چاہتی ہے جسے کہ نیشنل آئیکون سمجھا جاتا ہو۔ بعد ازاں چینی حکام نے ساحر علی بگا کو ایک ٹریک پر "کو کو کورینا” گا کر بھیجنے کا کہا۔ ساحر علی بگا نے انہیں گانا بنا کر بھیج دیا۔ اس کے کچھ دن بعد انہیں بتایا گیا کہ ان کا انتخاب ہو گیا ہے۔

ساحر علی بگا نے بتایا کہ چینی حکومت کی طرف سے پاکستانی حکومت کو چار گلوکاروں کے نام بھیجے گئے تھے۔ ان ناموں میں ان کے علاوہ عاطف اسلم، علی ظفر اور راحت فتح علی خان کے نام شامل تھے۔ لیکن آخر میں ان کا انتخاب ہوا۔ اپنے انتخاب کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غالباً چین اپنے بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کسی ایسے گلوکار کو نہیں چاہتا تھا جو وہاں کام کر چکا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں گلوکاروں نے بھارت میں کام کیا ہوا ہے جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

ساحر علی بگا نے کہا کہ ’کو کو کورینا‘ کے بعد انہیں چینی ترانہ گانے کا کہا گیا لیکن ایسا کرتے ہوئے ان کا ’بیڑہ غرق ہو گیا، ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے چینی قومی ترانہ گانے کے لیے چینی زبان کیسے سیکھی۔ کیا انہیں حکومت نے کوئی انسٹرکٹر فراہم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی تنازع نہیں چاہتے لیکن انہیں حکومت کی طرف سے چینی زبان سیکھنے یا اپنا تلفظ بہتر کرنے کے لیے ’کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے چینی قومی ترانہ سن کر اردو اور رومن انگریزی میں لکھا اور جیسے بھی سمجھ آیا، گا دیا۔ تاہم ان کی چینی دوست نے ان کا تلفظ بہتر کرنے میں مدد کی۔ ساحر علی بگا نے کہا کہ انہیں اس گانے کے بعد چین سے بہت ذیادی داد وصول ہو رہی ہے لیکن پاکستان میں اس حوالے سے کوئی بات بھی نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ چینیوں نے ان کے چینی لب و لہجے کی بے حد تعریف کی، ساحر علی بگا نے’نی ہاؤ‘ کا صحیح تلفظ بھی بتایا جو انہوں نے بہت کوشش کے بعد ادا کرنا سیکھا تھا۔ چین کے سپرنگ گالا میں کسی بھی پاکستانی فن کار کی شمولیت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ ساحر علی بگا اس اعزاز کو پا کر بہت خوش تھے۔ تاہم، انہیں اس حوالے سے پاکستان میں داد نہ ملنے کا رنج بھی تھا۔

چینی میوزک گالا میں ساحر علی بگا کے گانے کی دھوم

Back to top button