پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری روایتی موضوعات سے ہٹ گئی

اداکارہ شامین خان نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک ہی موضوع پر بنائے گئے ڈراموں کے ٹرینڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرامہ انڈسٹری میں اب روایتی ساس بہو کی کہانیاں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ اداکارہ کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں ڈراموں کی کہانیوں میں تبدیلی آ رہی ہے اور اب کچھ ڈراما نگار، معاشرتی مسائل پر بھی ڈرامے بنانے کی ہمت کر رہے ہیں، 2021 میں ’’اوئے موٹی‘‘ کے نام سے شروع کی جانے والی ٹی وی سیریز میں زائد وزن کی حامل لڑکیوں کے مسائل اور انہیں پہنچنے والی ذہنی اذیت کو اُجاگر کیا گیا۔ اس سیریز میں کسی ایک مخصوص اداکارہ نے کام نہیں کیا، بلکہ ہر قسط ایک مکمل نئی کہانی اور نئی اداکارہ کے ساتھ پیش کی گئی، پہلے سیزن کی کامیابی کے بعد ان دنوں اس کا دوسرا سیزن پیش کیا جا رہا ہے۔

’اوئے موٹی‘ کے موضوع کا اچھوتا پن ہی اس کی الگ پہچان ہے اور اس ضمن میں جن اداکاراؤں کا کام پسند کیا گیا ان میں سے ایک شامین خان بھی ہیں، جن کے دونوں ڈرامے اس لحاظ سے اچھوتے تھے کہ ایک میں وہ ٹیکسی ڈرائیور بنی ہیں اور دوسرے میں رقاصہ کا کردار کیا ہے، تاہم کسی بھی نئی اداکارہ کے لیے کافی مشکل فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ روایتی ہیروئین کا کردار چھوڑ کر، ایک زیادہ وزن والی لڑکی کا کردار کرے۔ اس ڈرامے کی بابت شامین خان نے بتایا کہ انہوں نے یہ کردار کرنے کے لیے حامی کیوں بھری۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یہ کردار ادا کرنے پر اس لیے راضی ہوئیں کیونکہ وہ روایتی کرداروں سے مختلف کردار ادا کرنا چاہتی تھیں، یہ کردار اس لحاظ سے مشکل تھا کہ انہیں موٹی دکھائی دینے کے لئے 12 گھنٹے تک ایک باڈی سوٹ پہن کر کام کرنا تھا جو ہرگز آسان نہیں تھا۔ شامین کے مطابق یہ کردار چیلنجنگ تھا اسی لیے اسے کرنے میں مزہ آیا۔

’اوئے موٹی‘ کے دوسرے سیزن میں شامین خان کے کردار کا نام ماریہ تھا، جس کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، والدہ اسے سلائی کر کے پال رہی ہیں، جبکہ شامین کا کردار فربہ جسم کی حامل لڑکی کا ہے اور انہیں ڈانس کا شوق ہے وہ رقص بہت اچھا کر لیتی ہے۔ یہ کردار پاکستانی ڈرامے کی روایت سے بالکل مختلف ہے۔ شامین کے مطابق انہوں نے کلاسیکل رقص کی باضابطہ تربیت حاصل کی ہے، انہیں رقص کا بھی شوق ہے، ایسے میں یہ کردار ایسا نہیں تھا جسے چھوڑا جاتا، ’اوئے موٹی‘ کے گذشتہ سیزن میں بھی شامین نے کام کیا تھا اور اس میں ان کا کردار ایک ایسی لڑکی کا تھا جو گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ٹیکسی چلانا شروع کردیتی ہے۔ اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے سامنے کوئی کردار تو نہیں تھا بس انہوں نے سوچا کہ اگر کوئی لڑکی ایسے حالات سے گزار کر ٹیکسی چلانے کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ کیا کرے گی۔ اس ڈرامے کے لیے شامین نے فربہ نظر آنے کے لیے ایک باڈی سوٹ پہنا تھا۔ یہ ساری تیاری آسان نہیں تھی، اس میں انہیں کافی مشکلات پیش آتی رہیں۔

شامین خان کا کہنا ہے کہ باڈی شیمنگ کے ایشو پر ڈرامے بنانے سے ہمارے معاشرے کو پیغام تو۔جائے گا، اس سے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی تو آئے گی، کسی کا مذاق اڑانا تو بہت آسان ہے، مگر ایسے لوگ روز کس جدوجہد سے گزرتے ہیں اس کا احساس کسی کو نہیں ہوتا، شامین خان کو شوبز کی دنیا میں آئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا، لیکن ابتدا ہی میں ایسے کردار کرنا جس سے مخصوص کردار کا ٹھپہ لگ جائے ذرا کم ہی ہوتا ہے۔ شامین نے بتایا کہ وہ مختلف کردار کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ انہیں اداکاری بھی آتی ہے اور ڈانس بھی انہوں نے سیکھا ہوا ہے اس لیے وہ کسی چیز سے بھی خائف نہیں ہیں۔ان کے علاوہ جن بھی لڑکیوں نے زیادہ وزن رکھنے والی لڑکی کا کردار کیا، وہ تمام ہی بہت اچھی تھیں جنہوں نے اپنی اپنی جگہ اپنا کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ باڈی سوٹ پہن کر موٹی لڑکی بن جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس طرح جینا کتنا مشکل ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ کسی کے بھی بارے میں کوئی ایسی بات نا کریں جس سے ان کی دل آزاری ہو۔ شامین نے اس سے پہلے ایک فلم ’گُم‘ میں بھی کام کیا تھا، اگرچہ وہ فلم ناکام رہی تھی، تاہم شامین کی فلموں میں انٹری ہوگئی تھی۔

چینی میوزک گالا میں ساحر علی بگا کے گانے کی دھوم

Back to top button