سرفراز کا میچ فکسر سلمان بٹ کا مشورہ لینے سے انکار

قومی کرکٹ ٹیم کے دو سابق کپتان سرفراز احمد اور سلمان بٹ ایک دوسرے سے الجھ پڑے اور ایک دوسرے کے لئے کافی سخت الفاظ استعمال کر ڈالے جس کے بعد سے دونوں سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔ اس تنازعے کا آغاز تب ہوا جب سپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے انٹرویو دیتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سرفراز کھلاڑیوں کو مشورہ نہیں دیتے بلکہ حکم چلاتے ہیں، وہ بولتے نہیں بلکہ چیختے کیں، لہذا ملک کا منفی تاثر باہر جاتا ہے۔
سلمان بٹ نے سابق کپتان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ باولر نسیم شاہ میچ کے دوران ہاتھ جوڑ کر اپنی مرضی کی فیلڈ مانگ رہا تھا تاہم سرفراز اپنی مرضی چلا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز ٹیم کی قیادت کرتے ہیں تو شکست پر بھی جواب دیں، دو سال سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم مسلسل شکست کھا رہی ہے، سرفراز اس کی ذمہ داری لیں۔
سرفراز احمد کی سلمان بٹ پر تنقید، ملک بیچنے کا الزام لگادیا
سابق اوپننگ بلے باز نے وکٹ کیپر بلے باز کو مشورہ دیا کہ سرفراز کو چاہیے کہ اپنی کارکردگی پر توجہ دے اور پرفارمنس پر دھیان دے کیونکہ وہ پاکستان ٹیم کے ساتھ ایک ڈیڑھ سال سے بطور وکٹ کیپر سفر کررہے ہیں لہٰذا انہیں پرفارمنس کو خود دیکھنا چاہیے۔ سلمان بٹ نے کہا کہ سرفراز کو چاہیے کہ وہ دوسرے کھلاڑیوں کو ریلیکس کریں تو وہ تمام اپنی کارکردگی پر خود توجہ دے سکیں گے، وہ ہر ایک کی جگہ پہنچے ہوئے ہیں اور اپنی جگہ خالی چھوڑی ہوئی ہے۔
سلمان بٹ کے ان تبصروں پر سرفراز احمد بھڑک اٹھے اور انہوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے 2010 کے اوول ٹیسٹ میں سابق اوپنر کی اسپاٹ فکسنگ کا حوالہ دے دیا۔انہوں نے سلمان بٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان کو آن ڈیوٹی بیچنے والا میچ فکسر اب ہمیں نیت پر بھاشن دے گا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
