’’بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان ہیرو ہیں یا خوفناک ولن‘‘

بالی ووڈ کنگ کی نئی فلم ’’جوان‘‘ میں ان کے کردار نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، فلم میں شاہ رخ کے ڈائیلاگ کہ جب میں ولن بنتا ہوں تو میرے سامنے کوئی بھی ہیرو ٹک نہیں سکتا سے مداح ان کے کردار کے حوالے سے حتمی رائے نہیں بنا پا رہے ہیں۔
’میں کون ہوں؟ کون نہیں؟ پتا نہیں۔ ماں کو کیا وعدہ ہوں یا ادھورا ایک ارادہ ہوں؟ میں اچھا ہوں، برا ہوں؟ پنیے ہوں یا پاپ ہوں؟ یہ خود سے پوچھنا کیوںکہ میں بھی آپ ہوں! ریڈی؟ جب میں ولن بنتا ہوں نا تو میرے سامنے کوئی بھی ہیرو ٹِک نہیں سکتا!‘
شاہ رُخ خان اپنی نئی آنے والی فلم ’جوان‘ کی مختصر جھلکیوں یا پریویو میں یہ لائنز کہتے ہیں جن سے اب یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ آیا وہ اس فلم میں ایک ایکشن ہیرو ہیں یا خوفناک ولن، پٹھان کے انڈیا اور دنیا بھر میں سپر ہٹ ہونے کے بعد یہ شاہ رُخ کی پہلی فلم ہوگی جس کا ان کے فینز کو بے صبری سے انتظار ہے۔
جوان کی کہانی کیا ہے اور شاہ رُخ اس میں اتنے الگ تھلک انداز میں کیوں نظر آ رہے ہیں، اس پر لوگ سوشل میڈیا پر بات چیت کر رہے ہیں، یوٹیوب پر جوان کے پریویو پر پہلے 12 گھنٹوں میں تین کروڑ سے زیادہ ویوز آ چکے ہیں اور ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ موضوع ٹرینڈ کر رہا ہے۔
اس ایکشن فلم کے ہدایتکار اٹلی کمار ہیں جو جنوبی انڈیا کی فلمی صنعت میں ایک بڑا نام ہیں جو اسی طرز کی فلموں کے لیے مقبول ہیں، اس فلم کو شاہ رخ کی اہلیہ گوری خان نے پروڈیوس کیا ہے جبکہ گوروو ورما شریک پروڈیوسر ہیں، ’’جوان‘‘ سات ستمبر کو ہندی، تمل اور تیلگو میں ریلیز کی جائے گی۔
پہلے یہ فلم 2 جون کو ریلیز ہونا تھی مگر اس کی تیاری میں تاخیر ہوئی اور ریلیز کی تاریخ آگے کر دی گئی، فلم میں شاہ رخ کے ساتھ ایک بڑی کاسٹ ہے جس میں دیپیکا پڈوکون، ثانیہ ملہوترا، پریامنی، گرجیا اوک، سنجیتا بھٹیا چاریا، لہار خان، عالیہ قریشی، ریدھی دوگرا، سنیل گروور اور موکیش چھابرا شامل ہیں۔
فلم ناقد اور بالی وڈ تجزیہ کار ترن آدھرش نے ٹویٹ میں لکھا کہ انتظار کی گھڑیاں ختم، انھوں نے جوان کی ابتدائی جھلکیوں کی تعریف کی ہے، سنکو نامی صارف نے کہا کہ جوان نے سوشل میڈیا پر تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جبکہ رونت نے کہا کہ’اٹلی نے اچھا کام کیا ہے۔ انھیں معلوم تھا کہ شاہ رخ بطور ولن بہترین لگتے ہیں۔
جوان کے پریویو میں شاہ رخ خان کے چھ سے سات الگ الگ روپ نظر آتے ہیں، کبھی وہ گنجے ہیں، کبھی پولیس والے، کبھی فوجی اور کبھی کلین شیو ہیرو۔ انھیں رئیس جیسے بڑے بالوں والے لُک میں بھی دیکھا جا سکتا۔ ایک انداز میں ان کے آدھے چہرے پر ماسک ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا اس فلم میں شاہ رُخ کے کتنے رول ہیں۔ ایک سین میں انھیں فوجیوں والے کپڑے پہنے ہاتھ میں بندوق پکڑے دیکھا جاسکتا ہے اور کچھ جھلکیوں میں ان کے ساتھ فوجی جوان بھی ہیں۔
فاہر نامی ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ لگتا ہے کہ رومانوی ہیرو سمجھے جانے والے شاہ رُخ اب ایکشن سپر سٹار بننے کے نئے مرحلے کو خوب انجوائے کر رہے ہیں۔
سوشانت نامی ایک صارف نے لکھا کہ جوان کے پریویو میں جوتوں کے بہت سارے شاٹس ہیں تو کیا اٹلی یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بالی وڈ ان کے پیروں کے نیچے ہے؟
سوشل میڈیا پر کئی صارفین جوان کے پریویو کا وہ آخری سین شیئر کر رہے ہیں جس میں شاہ رخ میٹرو میں سہمے ہوئے مسافروں کے بیچ اس گانے پر ڈانس کرتے ہیں، بے قرار کر کے ہمیں یوں نہ جائیے، آپ کو ہماری قسم لوٹ آئیے۔
شاہ رُخ نے ماضی میں ڈان اور ڈر جیسی فلموں میں ولن کا کردار نبھایا، جسے بے حد پسند کیا گیا، بعض فینز نے اس پریویو کے ساتھ ابھی سے گنجے سر کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کرنا شروع کر دی ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ

اداکار رنبیر کپور کو عالیہ بھٹ کی کونسی عادت سخت ناپسند ہے؟

جوان میں شاہ رخ گنجے ہیرو ہیں یا گنجے ولن۔

Back to top button