شاہدخاقان عباسی نے حکومت کوچینی بحران کاذمہ دار قرار دیدیا

عوام پاکستان پارٹی کے کنوینرشاہد خاقان عباسی نے حکومت کو چینی بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مل مالکان کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا کہ جب چینی کمیٹی کے چیئرمین کو ہٹا کر نائب وزیراعظم کو ذمہ داری دی گئی تو اسی روز 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کے مطابق کابینہ نے بھی اسی دن فیصلے کی توثیق کی، جس کے بعد ملک بھر میں چینی کی قیمت بڑھنا شروع ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی کے دوران شرط رکھی گئی تھی کہ چینی کی فی کلو قیمت 140 روپے سے زیادہ نہیں بڑھے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چینی 230 روپے کلو تک جا پہنچی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم کے دور میں بھی چینی مہنگی ہوئی، لیکن موجودہ حکومت کے دور میں عوام کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمد کے فیصلے کو زرمبادلہ کمانے کا جواز دیا گیا مگر نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی جیب سے روزانہ ایک ارب روپے نکل کر مل مالکان کی جیب میں چلے گئے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں چینی ملز مالکان کو تقریباً 400 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومت عوام کی خدمت کے لیے بیٹھی ہے یا مخصوص طبقے کے مفاد کے تحفظ کے لیے؟ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومتوں کی اولین ذمہ داری عوام کو ریلیف دینا ہے، لیکن چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس حکومت اور کابینہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Back to top button