آصف زرداری اور شجاعت ملاقات میں کیا بریک تھرو ہوا

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ سے ملنے پہنچے تو انہوں نے ملاقات سے انکار کردیا۔

آصف علی زرداری چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر پہنچے اور 22 جولائی کو پنجاب اسمبلی میں ہونے والے وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

باخبر ذرائع کے مطابق سابق صدر اور ق لیگ کے سربراہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین اور رخسانہ بنگش بھی موجود تھیں۔

سابق صدر نے ملاقات کے بعد صحافیوں کے سامنے مسکراتے ہوئے وکٹری کا نشان بنایا اور کوئی بھی بات کیے بغیر روانہ ہوگئے۔

اس کے بعد سابق صدر آصف زرداری وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کرکے واپس چویدری شجاعت کے پاس آئے اور پھر چوہدری پرویز الہیٰ و مونس الہیٰ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا،آصف زرداری کی آمد کا سن کر پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ گھر سے باہر چلے گیے اور ملاقات سے انکار کردیا۔

پاکستان کو چین سے 2 ارب ڈالرز کا سستا قرضہ ملنے کی امید

 

بعدازاں پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ چوہدری شجاعت کے گھر سے الگ الگ گاڑیوں میں روانہ ہوگئے.

دریں اثناآصف زرداری نے لاہور میں پیپلزپارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاپرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ نامزد کرانے پر نواز، شہباز اور مریم کو راضی کیا تھا، چوہدری شجاعت کےکہنے ان لوگوں کو آمادہ کیا لیکن پرویز الہٰی مجھ سے کمٹمنٹ کرکے عمران خان سے جا ملے۔

انکا کہناتھا ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، پیسے کی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہیں، حمزہ کو وزیراعلیٰ منتخب کرانےکی بھرپور کوشش کریں گے، حسن مرتضیٰ وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوتے تو پیسا لگاتے ، حمزہ پر کیوں لگائیں گے؟

سابق صدر نے کہا مفاہمت کے لیے ہر قربانی دوں گا، جس سے کمٹمنٹ ہے اس سے مکمل نبھاؤں گا، چوہدری شجاعت سے بھی اسی لیے ملاقات کر رہاہوں۔

آصف زرداری کا کہنا تھا لاہور میں کئی سالوں سے رہ رہا ہوں، اعتراض بلاوجہ ہے، وسطی لاہور میں نیا گھربنا رہا ہوں تاکہ کارکنوں سے رابطہ مزید بہتر ہو، پنجاب میں ہمارے 7 ہزار کارکنوں نےکوڑےکھائے، انھیں قربانیوں کابدلہ دیں گے، پنجاب ہمارا تھا اسے واپس لیں گے۔

Related Articles

Back to top button