پاکستان میں چکن 750 روپے کلو تک کیسے پہنچ گیا؟

مہنگائی کے طوفان کے ظالم تھپیڑوں نے چکن کو بھی عوام کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، اس وقت چکن 750 روپے فی کلو کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، جبکہ مختلف شہروں میں بون لیس چکن ایک ہزار روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں زندہ مرغی 450 سے 500 روپے جب کہ گوشت 700 سے 750 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے اضلاع فیصل آباد، ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات میں زندہ مرغی 410 سے 430 روپے جب کہ گوشت 610 روپے سے 650 روپ فی کلو تک دستیاب ہے۔مرغی کا گوشت دو ماہ پہلے 350 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا تھا لیکن اب اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ قیمتوں کو پر لگ گئے اور روزانہ کی بنیاد پر نرخ میں اضافہ ہونے گا؟ مرغی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافے کی متعدد وجوہات ہیں۔تاہم حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ اضافہ سویابین فیڈ کی کمی کے باعث ہوا ہے۔

دسمبر 2022 میں ملک کے مختلف شہروں میں مرغی کے گوشت کی قیمت 350 روپے کلو تھی جس میں اچانک اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مرغی کے گوشت کی نئی قیمت نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ مختلف شہروں میں مرغی کا گوشت 700 سے 750 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ نرخ کراچی اور کوئٹہ میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔وفاقی حکومت نے ملکی ذخائر میں بڑی گراوٹ آنے اور ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لیے درآمدات پر پابندی لگائی جس کی وجہ سے کراچی کی بندرگاہ پر سویابین سیڈ اور کنولاکے 14 جہاز بروقت ریلیز نہیں کیے گئے۔درآمد کنندگان اور پولٹری کے کاروبار سے وابستہ افراد کے احتجاج اور وفاقی حکومت کی اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتوں کے بعد دوجہازوں کے سوا باقی 12 جہازوں کو ریلیز کردیا گیا۔ البتہ یہ دونوں جہاز جن میں سویابین موجود ہےانہیں ریلیز نہیں کیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ طارق بشیر چیمہ بتایا کہ اس وقت کراچی پورٹ پر فیڈز کے صرف دو ہی جہاز کھڑے ہیں جو کہ ری ایکسپورٹ ہوں گے، باقی تمام جہاز ریلیز کر دیئے گئے ہیں اور ان دو جہازوں کو ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین چودھری محمد اشرف کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی طرف سے جہاز زبردستی روکنے کی وجہ سے بحران پیدا ہوا ہے۔دونوں جہازوں کو چار ماہ قبل کراچی پورٹ پر ان لوڈ کر دیا گیا تھا جن میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار ٹن سویابین سیڈ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جہاز امریکہ جب کہ دوسرا برازیل سے مال لے کر آیا تھا۔ ان کی کسٹم ڈیوٹی سمیت تمام سرکاری قیمتیں بھی ادا کردی گئی ہیں۔ ان کے بقول ان جہازوں میں وہی سویابین ہے جو پہلے سے استعمال ہوتا ہے۔چوہدری محمد اشرف نے بتایا کہ ان کی وفاقی وزیرِاحسن اقبال سمیت متعدد وفاقی اداروں کے سیکرٹریوں سے ورچوئل میٹنگ ہوئی ہے جس میں احسن اقبال ماہ رمضان میں مرغی کی قیمتیں کم کروانا چاہتے تھے، انہوں نے احسن اقبال سمیت تمام وفاقی افسران پر واضح کیا ہے کہ جب تک دونوں جہاز ریلیز نہیں ہوں گے ہم قیمتیں کیسے کم کر سکتے ہیں؟

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ چکن کی قیمت میں فوری طور پر کمی ہمارے لیے ممکن نہیں ہوگی، اس کے علاوہ ہمیں سویابین میل اور سیڈ کے لائسنس جاری کیے جائیں تاکہ مستقبل میں موجودہ صورتِ حال سے بچا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ12 سال قبل 2600 گرام فیڈ یا خوراک سے ایک کلو زندہ مرغی تیار ہوتی تھی لیکن جب سے امریکہ اور برازیل سے منگوائی جانے والی سویابین سے تیارہ کردہ فیڈ کااستعمال شروع ہوا تو 1400 گرام فیڈ سے ایک کلو زندہ مرغی تیار ہونے لگی جس کا براہ راست عوام کو فائدہ ہوا اور مرغی کی قیمتیں کم ہوگئیں، وفاقی حکومت کے اقدامات سے ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم وہی 12 سال پہلے والی فیڈ استعمال کریں جس سے پولٹری کی قیمت بڑھ گئی ہے اور پولٹری فارمرز کو نقصان ہو رہا ہے۔

ولید دھاریوال مرغبانی کے کاروبار سے منسلک ہیں، ان کا پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک پولٹری فارم ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ دو تین برسوں میں مرغی کے فارمر کو منافع کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔اگر تین سال پہلے ملک میں 20 سے 22 ہزار افراد مرغبانی سے وابستہ تھے تو اب ان کی تعداد 18 ہزار تک آگئی ہے۔ اس وجہ سے برائلر مرغی کی پیداواری صلاحیت بھی کم ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چوزے کی تیاری میں درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے لیے شیڈز میں ہیٹ سسٹم لگائے جاتے ہیں جوکہ ڈیزل سے چلتے ہیں۔ ایک فلاگ کی تیاری میں 15سے 18 لاکھ کا ڈیزل بھی استعمال ہوتا ہے۔درجۂ حرارت میں کمی بیشی چوزوں کی اموات کی صورت میں نکل سکتی ہے۔مرغی کی فیڈ میں استعمال ہونے والی مکئی، ٹوٹاچاول اور سورج مکھی کی قیمتوں میں بھی تیس فی صد تک اضافہ ہوا ہے جس کا اثر مرغی کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔ ہم کہتے سکتے ہیں کہ برائلر مرغی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ لاگت کا بڑھنا بھی ہے۔ جب لاگت بڑھ جائے تو ہم سستی مرغی کس طرح بیچ سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کاڈوگر کی موجودگی میں الیکشن سے انکار

Back to top button