وفاق میں حکومت سازی، کس اتحادی جماعت کو کیا ملے گا؟

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد وفاق اور صوبوں کی سطح پر حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ کا سلسلہ زوروشور سے جاری ہے۔خیبر پختونخوا اور سندھ میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس واضح مینڈیٹ موجود ہیں، اس لیے انہیں کسی دوسری سیاسی جماعت کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کو کسی نہ کسی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنا ہو گا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے ابتدائی فارمولا طے کر لیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے ابتدائی فارمولا کے مطابق اگر اتحادی جماعتیں وزیر اعظم کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دینے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں تو پھر صدر اور اسپیکر کا عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ ایم کیو ایم پاکستان یا اتحادی حکومت میں شامل ہونے والے آزاد ارکان میں سے کسی ایک کو دیا جا سکتا ہے۔وفاقی کابینہ میں داخلہ اور خزانہ مسلم لیگ (ن) اپنے پاس رکھ سکتی ہے تاہم دیگر وزارتوں کے تعین، وفاق میں حکومت سازی کی تشکیل کے بعد اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا جا ئے گا جبکہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں پر نامزدگی کا فیصلہ سینیٹ الیکشن کے بعد اتحادیوں کی مشاورت سے طے کیا جا سکتا ہے۔اس ابتدائی فارمولے پرمسلم لیگ (ن) نے طویل مشاورت کی ہے۔ حتمی حکومت سازی کا فارمولا اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی مزید ملاقاتوں میں طے کیا جا سکتا ہے۔ اس ابتدائی فارمولے میں تبدیلی سیاسی حالات کو دیکھ کر کی جائے گی۔

نون لیگی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کا عہدہ (ن) لیگ رکھنا چاہتی ہے۔ اگر ممکنہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں راضی ہوئیں تو وزیر اعظم کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو مل سکتا ہے۔ اگر ممکنہ اتحادی جماعتوں نے کوئی اور نام دیا تو اس پر بھی مشاورت ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اگر وزیر اعظم کے لیے بلاول بھٹو زرداری کی نامزدگی کو ممکنہ طور پر واپس نہیں لیا تو پھر (ن) لیگ کی قیادت مشاورت سے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بلاول بھٹو کی حمایت کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر (ن) لیگ کو وزیر اعظم کا عہدہ مل جاتا ہے تو پھر صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں سمیت دیگر اہم وزارتوں کی تقسیم مشاورت سے کی جائے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت سازی کے لیے جوں جوں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کو آگے بڑھاتی ہیں تو ایسے میں اہم اور بڑے عہدوں کے لیے لین دین ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔عام انتخابات ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب صدر مملکت اپنی مدت پوری کر چکے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ بھی اپنی مدت مکمل کرنے جا رہا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی بھی نئے سرے سے منتخب ہوں گے جبکہ کئی اور دیگر اہم عہدے بھی سیاسی جماعتوں کی نظر میں ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہر جماعت کسی نہ کسی اہم عہدے پر نظر جمائے بیٹھی ہے۔
اگر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دیگر اتحادیوں کا ساتھ ملا کر وفاق میں حکومت بناتے ہیں تو ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کا سب سے پہلا مطالبہ بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت عظمٰی ہے۔ اور اگر کسی وجہ سے یہ مطالبہ نہیں مانا جاتا تو ایسی صورت میں آصف علی زرداری کو ایک مرتبہ پھر صدر مملکت بنوانا ہے۔
اگرچہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت قومی اسمبلی میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی لیکن جے یو آئی (ف) بھی ایک عرصے سے مولانا فضل الرحمن کو صدر پاکستان بنانے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے۔صدر اور وزیراعظم کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ مسلم لیگ ن سردار ایاز صادق کو ایک مرتبہ پھر سپیکر قومی اسمبلی بنانا چاہتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی بھی اس عہدے پر نظر جمائے بیٹھی ہے۔ایم کیو ایم چونکہ 17 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں پہنچی ہے وہ بھی یقیناً سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے عہدے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح چیئرمین سینیٹ کا عہدہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور صدر مملکت کی غیرموجودگی میں چیئرمین سینیٹ ہی قائم مقام صدر بنتا ہے۔

ان آئینی عہدوں کے بعد وفاقی کابینہ میں کئی ایک وزارتیں سیاسی جماعتوں کا مطمع نظر ہوتی ہیں۔ جن میں بالخصوص وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، وزارت خزانہ، وزارت دفاع، وزارت امور کشمیر، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کئی دیگر وزارتیں شامل ہیں۔وفاق میں مسلم لیگ ن اگر سربراہی کرتی ہے تو ایسی صورت میں پیپلز پارٹی وزارت خارجہ سمیت کئی دیگر اہم وزارتوں کی طالب ہو سکتی ہے۔ ایم کیو ایم بھی اب دو کی بجائے چار سے پانچ وزارتوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی کے لیے بھی سیاسی جماعتیں اپنا پورا زور لگائیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سارے کھیل میں جو اچھا لین دین کرے گا وہی زیادہ عہدے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا۔اس حوالے سے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سب سے بہترین آپشن یہ ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کی سربراہی میں قائم ہونے والی حکومت میں شامل ہو جائے اور پی ڈی ایم کے گذشتہ دور کی طرح اہم وزارتیں حاصل کر کے کارکردگی دکھائے۔

تجزیہ کار رسول بخش رئیس کے مطابق ’واضح مینڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے جو سیاسی جماعت بھی حکومت بنائے گی، اسے بہت سے سمجھوتے کرنا پڑیں گے۔ بالخصوص پیپلز پارٹی ایسی پوزیشن میں ہے جس کے بغیر وفاق اور بلوچستان میں حکومت نہیں بنائی جا سکتی، اس لیے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے لیے ان کے مطالبات کو ماننا ناگزیر بھی ہو گا اور مشکل بھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور فی الوقت مقتدر حلقوں کا بھی فائدہ اسی میں ہے، اس لیے مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی کے مطالبات کی کڑوی گولی نگلنا پڑے گی۔‘

دوسری جانب ذرائع کے مطابق مرکز میں حکومت بنانے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولا تیار کر لیا گیا ہے، دونوں جماعتوں نے دو نکاتی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پہلے مرحلے میں زیادہ نشستوں والی پارٹی کا وزیراعظم 3 سال رہے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں 2 سال کے لیے دوسری جماعت کا وزیراعظم ہو گا جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے مریم نواز کی حمایت کی یقین دہانی کرائے گی۔تاہم مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے پیپلز پارٹی کے ساتھ پاور

شہباز شریف، آصف زرداری، خالد مقبول صدیقی، علیم خان کا مل کر حکومت بنانے کا اعلان

شیئرنگ کے معاملے پر بات چیت کی خبروں کی تردید کردی۔

Related Articles

Back to top button