کیا نگران سیٹ اپ کا فیصلہ بھی اسٹیبلشمنٹ کرے گی؟

ملک میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے جبکہ دوسری طرف اتحادیوں کے اختلافات بھی کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نگران حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اتحادی حکومت میں تحفظات کا کھل کر اظہار کیا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے خیال میں حکمران اتحاد کے نگران وزیر اعظم کے نام پر عدم اتفاق کی صورت میں یہ فیصلہ بھی مقتدر حلقے خود ہی کریں گے۔پاکستان میں عام انتخابات سے قبل نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق حکمران اتحاد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی اجتماعی سیاسی دانش کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

اس ضمن میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے لاہور میں مقیم سیاسی تجزیہ کار امتیاز عالم نے بتایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں کئی امور پر شدید اختلافات کا شکار ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب مسلم لیگ نون کے رہنما اسحق ڈار کا نام بطور نگران وزیراعظم پیش کیا گیا اور اتحادی جماعتوں کے شدید رد عمل کی وجہ سے یہ نام واپس لینا پڑا۔امتیاز عالم کی رائے میں موجودہ حالات میں اپنے مفادات کو ترجیح دینے کی بجائے اتفاق رائے سے ملک کے جمہوری مستقبل کے حوالے سے دانشمندانہ فیصلے کرنے کا ہے۔

ان کے مطابق اگر کسی موجودہ وزیر کو نگران وزیراعظم بنایا گیا تو اس سے انتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھیں گے۔ ان کے بقول پی ڈی ایم کی جماعتوں کو اپنے اپنے ناموں پر اصرار کرنے کی بجائے باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم کے لئے کوئی ایک نام فائنل کرنا چاہیے۔تاہم ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نام کہیں سے بھی آئے اس کی حتمی منظوری تو ‘وہیں‘ سے لینی پڑے گی جہاں سے ماضی میں لی جاتی رہی ہے۔

پاکستان میں نگران حکومت کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اہم فیصوں کا اختیار دیے جانے کی بات بھی ہو رہی ہے۔ امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کو اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ایسی قانون سازی سے گریز کرنا چاہیے، جس سے نگران حکومت کو بہت زیادہ اختیارات مل جائیں اور اس کا فوکس الیکشن سے ہٹ جائے۔ ”یہ ایک بری مثال ہوگی اور یہ عمل ان سیاسی جماعتوں کے گلے پڑ جائے گا اور پھر یہ سب مل کر روئیں گے ‘‘

خیال رہے کہ پاکستان میں عمران خان کی جماعت کے سیاسی منظر نامے سے ہٹنے کے باوجود کئی لڑائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پی ڈی ایم اسٹیبلشمنٹ کی بجائے اپنا وزیر اعظم لانے پر اصرار کر رہی ہے۔وہ کسی ٹیکنوکریٹ کی بجائے سیاست دان کو نگران وزیراعظم بنانے کی متمنی ہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے پاس نگران وزیراعظم کے لئے اپنے اپنے نام ہیں۔پاکستان کے طاقتور ہاتھوں میں بھی نگران وزیر اعظم کے حوالے سے چند ناموں کی لسٹ موجود ہے۔حکومتی اتحاد کی چھوٹی جماعتوں کے پاس نگران وزیراعظم کا کوئی نام تو نہیں ہے لیکن وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ ان کو اعتماد میں لیے بغیر اہم فیصلے خود ہی کر رہے ہیں۔تجزیہ نگار خالد فاروقی کے بقول اس وقت تمام پی ڈی ایم جماعتیں مستقبل کی حکومت میں اپنا اپنا حصہ لینے کے لئے ‘بارگیننگ‘ کر رہی ہیں اور نگران سیٹ اپ کی حمایت کے بدلے اپنے مفادات کے بارے میں یقین دہانی چاہتی ہیں۔

خالد فاروقی کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے میاں نواز شریف نگران حکومت کی کسی بدمزگی سے بچنے اور معاشی عمل کے تسلسل کے لئے موجودہ وزیر خزانہ اور اپنے رشتہ دار اسحق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اس ضمن میں ان کی طاقتور حلقوں سے بھی بات ہو چکی تھی۔لیکن شہباز شریف کیمپ کی طرف سے اس نام کو منظر عام پر لا کر انہیں کمال مہارت سے فارغ کروا دیا گیا ہے۔ ”نون لیگ اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ اگر ان کی معاملات پر گرفت مضبوط نہ ہوئی تو اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کوئی اور پوزیشن بھی لے سکتی ہے جیسا کہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے۔نگران وزیر اعظم پر نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کا عدم اتفاق اگر بڑھ گیا تو یہ ان دونوں کے مابین محاذ آرائی کا نقطہ آغاز بھی ہو سکتا ہے‘‘

دوسری جانب قانون کے مطابق موجودہ حکومت کے خاتمے میں تقریبا اڑھائی ہفتے باقی رہ گئے ہیں لیکن اگلے انتخابات کے حوالے سے ملک میں اب بھی ایک غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ تجزیہ نگار نوید چوہدری کا خیال ہے کہ ملک میں انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تاہم امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ الیکشن آگے لے جانے کے لئے ملک کا آئین توڑنا ہو گا وگرنہ الیکشن قانون کے مطابق کروانا ہی ہوں گے۔تجزیہ کار خالد فاروقی کو بھی لگتا ہے کہ الیکشن کا وقت پر ہونا یقینی نہیں ہے۔ ان حالات میں نگران سیٹ اپ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

تاہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اب تحریک انصاف کا مستقبل کیا ہو گا؟سینئر صحافی نوید چوہدری نےبتایا کہ طاقتور حلقوں کی خواہش تھی کہ عمران خان کے خلاف مقدمات کے فیصلے جلد ہوں اور اس پراجیکٹ کو ‘حتمی منزل‘ تک پہنچا دیا جائے لیکن مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ یہ کام تاخیر کا شکار ہو اور نگران حکومت ہی یہ بوجھ اٹھائے۔چوہدری کے بقول اب آنے والےدنوں میں اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور ایوان صدر میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ انہیں دنوں میں عمران خان کے مقدمات کے فیصلے سامنے آئیں گے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان دنوں امن و امان کی صورتحال کیا رخ اختیار کرے اس لیے نگران حکومت کے تگڑا ہونے کو بھی

الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا

ترجیحات میں دیکھا جا رہا ہے۔

Back to top button