کیا پاکستان میں اب بھی جنرل ضیا الحق کے حکومت ہے؟

https://youtu.be/MTr0X0Oi2RI

’پاکستان میں آنے والی آدھی صدی تک جنرل ضیاالحق ہی کی حکومت رہے گی۔ چہرے اوپر نیچے داغدار ہوتے رہیں گے اور ان کو کون داغدار کرتا رہے گا یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پورا نظام جن کی مٹھی میں آچکا تھا وہ بھلا کیسے جمہوری حکومتوں کو حقیقی دودھ پر پلنے دیں گے . سینئیر صحافی اور کالم نگار حامد میر نے ملک کے ممتاز ادیب اور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید کے ناول "جہاں آباد کی گلیاں” کے یہ الفاظ اپنے تازہ کالم میں نقل کیے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ناول میں پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا نقشہ حقیقت کے بالکل قریب ہے .حا مد میر لہتے ہیں کہ  یہ لندن کی ایک رات تھی، چودھری برادران ڈنرٹیبل پرپاکستان کے ایک جلاوطن سیاست دان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے۔جلاوطن سیاست دان کو پیشکش کی گئی کہ وہ اگر سمجھوتہ کرلیں تو انہیں وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے۔جلاوطن سیاست دان اور اس کے ساتھیوں نے چودھریوں کو ناں کہہ دی اور یوں چودھری برادران کا مشن ناکام ہو گیا۔ یہ جلاوطن سیاست دان جتوئی صاحب تھے اور انہیں فوجی جرنیلوں کی طرف سے سمجھوتے کا پیغام دینے والے چودھری برادران کا تعلق گجرات سے تھا۔ لندن کی ایک رات کی یہ کہانی دراصل اصغر ندیم سید کے نئے ناول ’’جہاں آباد کی گلیاں‘‘ میں بیان کی گئی ہے .اس ناول میں اس دور کے کرداروں کو شامل کیا گیا ہے جب پاکستان میں جنرل ضیا کا مارشل لاء نافذ تھا اور بہت سے سیاست دان اور سیاسی کارکن لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے ان کرداروں میں ایک شاعر بھی شامل تھا۔شاعر کی کہانی پاک ٹی ہائوس لاہور سے شروع ہوتی ہے جہاں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر پہنچتی ہے ۔بہت سے شاعروں کی طرح اس ناول کا مرکزی کردار بھی بھٹو کی پھانسی پر دو نظمیں لکھ ڈالتا ہے ۔سلیم شاہد ان نظموں اور غزلوں کو ’’خوشبو کی شہادت‘‘ کے نام سے کتاب میں شائع کر دیتا ہے پھر اس کتاب پر پابندی لگ جاتی ہے اور بھٹو پر نظمیں اور غزلیں لکھنے والوں کی کمبختی آجاتی ہے ۔ناول کا مرکزی کردار گرفتار ہو جاتا ہے اس پر لاہور کے شاہی قلعے میں ٹارچر ہوتا ہے اس دوران پی آئی اے کا ایک جہاز اغوا ہو جاتا ہے ۔جہاز اغوا کرنے والوں کی طرف سے فوجی حکومت کو سیاسی قیدیوں کی ایک فہرست دی گئی جن میں یہ شاعر بھی شامل تھا ۔فوجی حکومت شاعر سمیت بہت سے قیدیوں کو رہا کر دیتی ہے۔شاعر لندن پہنچتا ہے اور پھر خوشبو کی شہادت کے بطن سے اصغر ندیم سید کا ناول جنم لیتا ہے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ اصغر ندیم سید کے ناول میں  غلام مصطفی  جتوئی اور چودھری برادران کے پورے نام نہیں لکھے گئے البتہ جنرل ضیاالحق، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے کردار پورے نام کے ساتھ موجود ہیں ۔ ۔ناول نگار کے خیال میں ’’فیض احمد فیض تو ہمارے لئے ایک رومانوی شاعر سے زیادہ نہیں تھے وہ تو بعد میں ان کی بیٹیوں، دامادوں اور اہلخانہ کے ساتھ متمول لاہور کی اشرافیہ نے اپنے ضمیر کا کفارہ ادا کرنے کیلئے انقلاب کا استعارہ بنا دیا ورنہ فیض صاحب تو معصوم، بس دوگھونٹ لی کر اپنی شاعری سنا کر اتنا کہتےتھے کہ بھئی ہم سے انقلاب کی توقع نہ رکھیں نہ ہم سے جدوجہد کی مشقت طلب کریں بوڑھا جسم اب مار نہیں کھاسکتا‘‘۔

بہت سے لوگ اس ناول میں فیض احمد فیض کے بارے میں کہی گئی باتوں کو محض ایک افسانہ ہی سمجھیں گے کیونکہ فیض صاحب پر تو ان کی زندگی میں بھی بہت سے الزامات لگائے گئے جن کا وہ جواب نہیں دیتے تھے، حامد میر بتاتے ہیں کہ ناول میں فوج کے سیاسی کردار پر بہت تنقید کی گئی ہے، لندن میں جتوئی صاحب کے فلیٹ پر ناول کے مرکزی کردار کا پاکستان سے آئے دو جرنیلوں سے ہونے والا مکالمہ دراصل پاکستان میں جمہوری اداروں کی کمزوری کی وجوہات بیان کرتا ہے ۔ایک جگہ کہا گیا ہے کہ ’’بھٹو صاحب کی پھانسی صرف بھٹو صاحب کی پھانسی نہیں تھی پاکستان کے مستقبل کی پھانسی تھی ۔‘‘آگے چل کر محترمہ بے نظیر بھٹو کےساتھ ساتھ شریف خاندان پربھی تنقید کی گئی ہے مثلاً ناول کا مرکزی کردار ایک جگہ کہتا ہے، ’’سیاست کے نقاب میں تاجروں کو پالا پوسا جانے لگا کہ وہ سیاست کو کاروبار بنانے کا فن سیکھ لیں۔اب ایسے میں فوجی حکومت کی ذہانت بس محدود سی ہوتی ہے تو انہوں نے تاجروں کو اپنے سائے تلے پروان چڑھانے کاپورا سکرپٹ تیار کیا۔یہ پاکستان کے غریب عوام کے ہاتھوں سے ووٹ چھیننا تھا اور اس میں یہ سکرپٹ کامیاب رہا۔

میں حامد میر کہتے ہیں کہ "جہاں آباد کی گلیاں” نامی اس ناول پر تنقید کی بہت گنجائش ہے لیکن اصغر ندیم سید نے حقیقت اور افسانے کو ملا کر ایک نیا تجربہ کیا ہے جس جتوئی نے ناول میں جرنیلوں کے سامنے انکار کیا حقیقت میں جرنیلوں سے سمجھوتہ کرکے وزیراعظم بن گیا اور جس چودھری کو جرنیلوں کا پیامبر لکھا گیا وہ آج تحریک انصاف کا صدر بن چکا ہے۔ تنقید کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ ناول میں پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا نقشہ حقیقت کے بالکل قریب ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیوں؟

Back to top button