عمران خان الیکشن ملتوی کروانے کے لئے کیا کرنے والے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ ملک میں صرف ایک شخص ہے جو فروری 2024 میں الیکشن نہیں چاہتا اور وہ شخص ہے عمران خان‘ یہ نہیں چاہے گا کہ میں جیل میں سڑتار ہوں اور دوسرے کھلاڑی میچ کو انجوائے کرتے رہیں۔ عمران کی خواہش ہو گی الیکشن سال بھر آگے کھسک جائیں اور اس دوران وہ معجزہ ہو جائے جس کی نوید انھیں روحانی طاقتیں دے چکی ہیں۔ یہ اس معجزے کے بعد جیل سے باعزت رہا ہو کر بنی گالا آئیں‘ الیکشن ہوں اور یہ براہ راست وزیراعظم بن جائیں‘ اس وقت اگر الیکشن کو کسی سے خطرہ ہے تو وہ عمران خان ہیں اور یہ اس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ اپنے ایک کالم میں جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ دسمبر 2022 میں عمران خان زمان پارک میں تھے اور باہر کارکنوں‘ پولیس اور رینجرز کا پہرہ تھا‘ کپتان نے پنجاب اور کے پی میں اپنی حکومتیں ختم کرنے کا اعلان کر رکھا تھا بس تاریخ باقی تھی‘ چوہدری پرویز الٰہی حکومت نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ یہ 15 سال بعد بڑی مشکل سے اقتدار میں آئے تھے اور یہ اسے انجوائے کرنا چاہتے تھے‘ دوسرا یہ جانتے تھے ہم حکومت کی وجہ سے اپنے گھرمیں بیٹھے ہیں جس دن اقتدار ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اس دن ہمارے گھر کے سامنے کھڑی پولیس ہی ہمیں گرفتار کر لے گی‘ ہم پھر اپنے گھر میں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے چناں چہ یہ خود بھی خان صاحب کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور مختلف لوگوں کو بھی زمان پارک بھجوا رہے تھے مگر دوسری طرف ایک ہی فیصلہ تھا‘ ہم نے دونوں صوبوں کی اسمبلیاں توڑنی ہیں‘ عمران خان کا خیال تھا پنجاب اور کے پی میں اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد سپریم کورٹ ایکٹو ہو جائے گی چیف جسٹس عمر عطاء بندیال الیکشن کا حکم دیں گے اور یوں پورے ملک میں الیکشن ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ‘ افراتفری کے اس دور میں پی ٹی آئی کے ایک اہم اور سینئر رکن عمران خان کو سمجھانے کے لیے زمان پارک گئے‘ کپتان نے جواب میں طویل تقریر کر دی لیکن وہ صاحب انھیں بار بار سمجھاتے رہے‘ ان کا کہنا تھا یہ سیدھی سادی خودکشی ہے۔ پوری پارٹی جیلوں اور سڑکوں پر رُل جائے گی مگر عمران جب اپنی آئی پر آ جاتے ہیں تو پھر یہ پہاڑ سے بھی کود کر رہتے ہیں لہٰذا مکالمہ طویل ہو گیا‘ کپتان نے آخر میں کہا ’’میں یہاں چھپ کر بیٹھا ہوں‘ گھر سے باہر نہیں نکل سکتا‘ بنی گالا نہیں جا سکتا اور پرویز الٰہی اور محمود خان موجیں کر رہے ہیں‘ یہ فوج کو اپنی وفاداری کا حلف دے رہے ہیں‘ میں اپنی قیمت پر انھیں مزے کیوں کرنے دوں؟‘‘ اس دلیل کے بعد ڈائیلاگ ختم ہو گیا۔ یہ مکالمہ صرف مکالمہ نہیں تھا‘ یہ بنیادی طور پر عمران خان کی سوچ ہے ‘ وہ اپنی قیمت پر کسی شخص کو موجیں نہیں کرنے دیتے‘ جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ عمران خان قومی اسمبلی سے نکلا تو اس نے اپنے بعد اپنے ایم این ایز کو قومی اسمبلی نہیں جانے دیا‘ اس نے اپنے بعد محمود خان اور پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ نہیں رہنے دیا اور اپنی جیل کے بعد کسی دوست‘ کسی پارٹی لیڈر کو بھی گھر میں نہیں بسنے دیا‘ یہ سب دربدر ہوئے یا جیلوں میں فرشوں پر سو رہے ہیں‘ اب سوال یہ ہے کیا ایسے عمران خان چاہیں گے یہ جیل میں رہیں۔ میڈیا میں ان کی تصویر اور نام پر پابندی ہو‘ یہ زمین پر سوتے رہیں اور گوہر خان ان کی پارٹی کی قیادت کے مزے لوٹتے رہیں‘ لوگ ٹکٹ اور عہدوں کے لالچ میں ان کے اردگرد پھرتے رہیں۔ دوسرا جب الیکشن ہوں تو پارٹی کے تمام سینئر سیاستدان مثلاً شاہ محمود قریشی‘ چوہدری پرویز الٰہی‘ علی محمد خان‘ میاں محمود الرشید‘ یاسمین راشد‘ عمرسرفراز چیمہ‘ اعظم سواتی‘ اسد قیصر اور مراد سعید الیکشن نہ لڑ سکیں اور پی ٹی آئی کی طرف سے نوجوان وکیل اسمبلیوں میں بیٹھے ہوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر عمران خان کا مزید بیڑہ غرق کر رہے ہوں اور اگر قوم واقعی پی ٹی آئی کے کھمبوں کو ووٹ دے دیں اور گوہر خان کی قیادت میں پی ٹی آئی سنگل لارجسٹ پارٹی بن جائے یا دو تہائی اکثریت حاصل کر لے جب کہ عمران خان جیلوں میں پڑے رہیں۔ یہ سائفر کیس میں عمر قید بھگت رہے ہوں یا عدت میں نکاح کے جرم میں اسلامی تعزیرات کا سامنا کر رہے ہوں اور نوجوان وکلاء اور گوہر خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے ہوں‘ یہ ایک پیج پر ہوں‘ کیا عمران خان کو یہ سوٹ کرے گا؟ ہرگز نہیں‘ یہ عمران کا شو ہے‘ پارٹی عمران خان کی ہے۔ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ جدوجہد بھی عمران خان کی ہے اور مار بھی وہی کھا رہا ہے لہٰذا یہ کسی قیمت پر کسی دوسرے کو اپنی قیمت پر مزے نہیں کرنے دے گا‘ خان یہ بھی جانتا ہے 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک کے بعد ریاست نے فیصلہ کیا تھا ہم آیندہ ججز اور وکلاء کو نہیں چھیڑیں گے اور ریاست ابھی تک اپنے اس فیصلے پر قائم ہے‘ جنرل فیض حمید نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بنوایا لیکن قاضی فائز اپنے گھر میں رہے اور یہ روزانہ پیدل گھر سے دفتر آتے جاتے تھے۔ کسی نے انھیں گرفتار کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی‘ جسٹس عمر عطاء بندیال نے بھی اسٹیبلشمنٹ کو زچ کر دیا تھا لیکن ان کے خلاف بھی آڈیو لیکس سے زیادہ کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور یہ بھی اب ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ عمران نے بھی پچھلے ڈیڑھ سال سے وکلاء کو اپنا اوپننگ بیٹسمین بنا رکھا ہے اور ابھی تک کوئی وکیل گرفتار ہوا اور نہ کسی کو نقصان پہنچا یہاں تک کہ نو اور دس مئی کے واقعات میں بھی وکیل گرفتار نہیں ہوئے‘ عمران خان ریاست کی اس کم زوری سے واقف ہیں چناں چہ یہ اپنی پارٹی وکلاء کے حوالے کر کے صورت حال کو انجوائے کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود سوال یہ ہے کیا یہ وکلاء کو اسمبلیوں تک جانے کی اجازت دیں گے۔ کیا یہ انھیں حکومت بنانے اور چلانے کا موقع دیں گے؟ جی نہیں‘ ہرگز نہیں‘ ہم جس عمران خان کو جانتے ہیں وہ یہ نہیں ہونے دے گا، تاہم الیکشن ہر صورت ہونے چاہییں اور 8 فروری ہی کو ہونے چاہییں. کیوں کہ ملک الیکشن کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکے گا‘ ملک میں اس وقت بے شک معاشی استحکام ہے‘ ڈالر کنٹرول ہے‘ اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے‘ سڑکوں پر بھی کسی قسم کی افراتفری نہیں‘ باہر سے سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے۔ جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ اس وقت آئی ایم ایف بھی مطمئن ہے اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں اور یہ تمام کام نگران حکومت نے کیے‘ ایکسپورٹس میں ماہانہ ایک اعشاریہ ایک بلین ڈالر اضافہ ہوچکا ہے اور یہ اندیشہ بھی موجود ہے الیکشن اس استحکام کو ایک بار پھر ہلا دیں گے۔ اسٹاک ایکسچینج بھی نیچے آئے گی اور ڈالر بھی دوبارہ تین سو سے اوپر جائے گا اور کھلتی ہوئی انڈسٹری بھی ایک بار بند ہو گی لیکن اس کے باوجود ہمارے پاس الیکشن کے سوا کوئی آپشن نہیں‘ ملک کو زیادہ دیر تک ایڈہاک پر نہیں چلایا جا سکتا اور ہمیں بہرحال الیکشن کا رسک لینا ہوگا اور دوسرا سپریم کورٹ کا واضح حکم بھی آ چکا ہے۔ اس حکم کے بعد بھی اگر الیکشن نہیں ہوتے تو پھر سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کی رٹ متاثر ہو گی اور ہم سردست یہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے چناں چہ الیکشن ضرور ہونے چاہییں اور 8 فروری ہی کو ہونے چاہییں مگر سوال یہ ہے کیا عمران خان یہ ہونے دیں گے‘ میرا خیال ہے خان کو الیکشن سوٹ نہیں کرتے‘ چناں چہ اس وقت اگر الیکشن کو کسی سے خطرہ ہے تو وہ ہمارے محبوب قائد ہمارے محترم کپتان

الیکشن سے پہلے ن لیگ کے لئے پری پول دھاندلی کا تاثر کیوں ؟

ہیں اور یہ اس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے

Related Articles

Back to top button