عمران خان کو اڈیالہ جیل میں کون کونسی سہولیات ملیں گی؟

انکار اور تکرار کے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ جہاں انھیں نہ صرف ایئرکنڈیشن اور بہترین بیڈ کی سہولت دستیاب ہو گی بلکہ فریج اور ٹی وی بھی ملے گا جبکہ دو مشقتی ان کی خدمت گزاری پر مامور ہونگے اور وہ اپنے من پسند پکوان بھی خود پکوا سکیں گے۔ اڈیالہ جیل میں عمران خان کو سابق وزیراعظم ہونے کی وجہ سے اے کلاس کی سہولیات میسر ہونگی۔

خیال رہے کہ راولپنڈی کی سینٹرل جیل اپنے ’’اہم اسیروں‘‘ کے حوالے سے تاریخی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ اڈیالہ جیل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پاکستان کی منفرد حیثیت رکھنے والی وہ جیل ہے جس میں ملک کے چار منتخب وزرائے اعظم قید رہ چکے ہیں جن میں تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف، سید یوسف رضا گیلانی، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی شامل ہیں اور اب سابق وزیر اعظم عمران خان کو اٹک سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل شفٹ کر دیا گیا ہے جس کے بعد اڈیالہ جیل میں’’سکونت پذیر‘‘ رہنے والے وزرائے اعظم کی تعداد 5ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اڈیالہ جیل کے اسیر رہے ہیں۔ چونکہ وفاقی دارالحکومت میں کوئی جیل قائم نہیں کی گئی اس لئے اہم سیاسی شخصیات کے علاوہ بھی دیگر شخصیات کو پہلے راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں رکھا جاتا تھا اور اب جیل کی اڈیالہ منتقلی کے بعد ان کی اسیری وہاں ہوتی ہے۔

اگر اڈیالہ جیل کے اہم اور قابل ذکر اسیروں پر نگاہ ڈالی جائے تو ویسے تو راولپنڈی، اسلام آباد کے کم وبیش تمام سیاسی راہنما اس جیل کے مہمان رہ چکے ہیں، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے علاوہ غیر سیاسی شخصیات، اہم بیوروکریٹس، ریٹائرڈ اعلیٰ حکام بھی اڈیالہ جیل کے اسیروں میں شامل ہیں۔ جن میں سابق وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ، جاوید ہاشمی، بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل منصور الحق ملک، انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ، مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز، سابق سینیٹر چوہدری تنویر خان، سابق ایم این اے حنیف عباسی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، بینظیر بھٹو حکومت خلاف آپریشن مڈ نائیٹ جیکال کے ملزم سابق سربراہ آئی بی بریگیڈئیر امتیاز، ایک سابق ڈپٹی اسپیکر حاجی نواز کھوکھر اور غلام مصطفیٰ کھر بھی قید رہے ہیں۔ تاہم سابق وزیر اعظم عمران خان اڈیالہ جیل کے مکینوں میں ایک نیا اضافہ ہیں۔ جنہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر اٹک جیل سے تاریخی اڈیالہ جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جیل کے قوانین کے مطابق عمران خان کو سابق وزیراعظم ہونے کی وجہ سے اڈیالہ جیل میں ’اے کلاس کیٹیگری‘ دی جا سکتی ہے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے کہ انھیں جیل میں کون سی کیٹیگری میں رکھا جائے گا۔

جیل حکام کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 42 جیلوں میں سے صرف دو جیلیں ایسی ہیں جہاں پر قیدیوں کے لیے اے کلاس کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ ان دو جیلوں میں بہاولپور جیل اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل شامل ہے۔یاد رہے کہ 26 ستمبر کو جاری کردہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں وہ تمام سہولیات مہیا کی جائیں جس کے وہ حقدار ہیں۔واضح رہے کہ جیل میں قیدیوں کو تین کیٹگریز میں رکھا جاتا ہے۔ سی کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل، ڈکیتی، چوری، لڑائی جھگڑے اور معمولی نوعیت کے مقدمات میں سزا یافتہ ہوں۔بی کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل اور لڑائی جھگڑے کے مقدمات میں تو ملوث ہوں تاہم اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ گریجوئیشن پاس قیدی بھی بی کلاس لینے کا اہل ہوتا ہے۔

جیل حکام کے مطابق اے کلاس کیٹگری اعلیٰ سرکاری افسران کے علاوہ، سابق وزرائے اعظم، سابق وفاقی وزرا اور ان قیدیوں کو دی جاتی ہے جو زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہوں۔جیل مینوئل کے مطابق جن قیدیوں کو اے کلاس دی جاتی ہے انھیں رہائش کے لیے دو کمروں پر محیط ایک الگ سے بیرک دیا جاتا ہے جس کے ایک کمرے کا سائز نو ضرب 12 فٹ ہوتا ہے۔قیدی کے لیے بیڈ، ایئرکنڈیشن، فریج اور ٹی وی کے علاوہ الگ سے باورچی خانہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اے کلاس کے قیدی کو جیل کا کھانا کھانے کی بجائے اپنی پسند کا کھانا پکانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اے کلاس میں رہنے والے قیدی کو دو مشقتی بھی دیے جاتے ہیں۔جیل حکام کے مطابق اگر قیدی چاہے تو دونوں مشقتی ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور اگر قیدی چاہے تو مشقتی کام مکمل کر کے اپنے بیرکوں میں واپس بھی جا سکتے ہیں۔

جیل قوانین کے مطابق جن قیدیوں کو بی کلاس دی جاتی ہے ان کو ایک الگ سے کمرہ اور ایک مشقتی دیا جاتا ہے تاہم اگر جیل سپرنٹنڈنٹ چاہیے تو مشقتیوں کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو بھی کر سکتا ہے۔جیل حکام کے مطابق جن مشقتیوں کو اے اور بی کلاس کے قیدیوں کے لیے بطور خدمت گزار دیا جاتا ہے وہ معمولی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ اڈیالہ جیل دراصل سینٹرل جیل راولپنڈی ہے اور اسے اڈیالہ جیل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ضلع راولپنڈی کا ایک گاؤں اڈیالہ اس سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کی مناسبت سے اس کا نام اڈیالہ جیل پڑ گیا ہے۔اڈیالہ جیل 1970 کی دہائی کے اواخر اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیا الحق کی حکومت کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔

اڈیالہ جیل کا نام ہمیشہ پاکستانی سیاست میں گونجتا رہا ہے۔ یہ وہ قید خانہ ہے جہاں ملک کے چار وزرائے اعظم سمیت متعدد اہم سیاست دان قید رہ چکے ہیں اور اب عمران خان ایسے پانچویں وزیراعظم ہیں جنھیں اس جیل میں رہنا ہو گا۔پاکستان کے سابق وزیرِاعظم نواز شریف دو مرتبہ اس جیل میں قید کیے گئے۔ پہلی مرتبہ 1999 میں ملک میں فوجی بغاوت کے بعد جب انھیں طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی گئی تو اس کے بعد وہ کچھ عرصہ یہاں قید رہے اور اس کے علاوہ انھیں اٹک قلعے میں بھی قید رکھا گیا تھا۔دوسری مرتبہ اڈیالہ جیل نواز شریف کا مسکن پانامہ کیس میں انھیں دی جانے والی سزا کے بعد بنی۔ اس فیصلے کے بعد نواز شریف اڈیالہ جیل کے علاوہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں بھی قید رہے تھے۔

اس موقع پر ان کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز کو بھی اڈیالہ جیل میں قید رکھا گیا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری بھی اپنی زندگی کا کچھ وقت اڈیالہ جیل میں گزار چکے ہیں۔پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ستمبر 2004 سے 2006 تک ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ اڈیالہ جیل میں گزارا اور انھوں نے اپنے اس قیام کے دوران ایک کتاب بھی لکھی۔پاکستان کے سابق وزیراعظم شہباز شریف بھی مشرف دور میں اڈیالہ جیل میں قید رہ چکے ہیں جبکہ سابق شاہد خاقان عباسی بھی کچھ وقت یہاں گزار چکے ہیں۔

اس کے علاوہ موجودہ وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سعد رفیق بھی مشرف دور میں کچھ وقت کے لیے اڈیالہ جیل میں قید رکھے گئے جبکہ نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران جاوید ہاشمی بھی چند ماہ تک اڈیالہ جیل کے قیدی تھے۔ان کے علاوہ سابق چیئرمین نیب سیف الرحمان، نومبر آٹھ کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمان لکھوی اور سابق گورنر

کیا ریاست کو عمران خان پر پھر لاڈ آرھا ھے؟

سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری اور منی لانڈرنگ کیس میں معروف ماڈل ایان علی بھی یہاں قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

Back to top button