جسٹس مظاہر نقوی کا دھڑن تختہ ہونے کا امکان

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔۔۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پے درپے شکایات کے اندراج اور سپریم کورٹ کے خود احتسابی کے مطالبے کے زور پکڑنے کے بعد بالآخرسپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس نقوی کے خلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع ہوگئی ہے، کارروائی کو آگے بڑھانے کیلئے سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندگان سے ریفرنس سے متعلق مزید تفصیلات مانگ لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندہ میاں داؤد ایڈووکیٹ کو مراسلہ جاری کیا ہے۔ یہ مراسلہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری رولز کی دفعہ 5 کی ضمنی دفعہ 3 کے تحت جاری کیا گیا ہے جس میں میاں داؤد ایڈووکیٹ سے جسٹس نقوی کے خلاف ریفرنس کی بابت بیان حلفی طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری رولز کے تحت بیان حلفی قانونی تقاضا نہیں ہے، قانونی تقاضا نہ ہونے کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل کو بیان حلفی اسی ہفتے جمع کرا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ رولز کے تحت شکایت کنندہ نے صرف اپنی شناخت کی تصدیق کرنی ہوتی ہے، ایسی خط و کتابت جسٹس نقوی کے خلاف ریفرنس میں تکنیکی حربوں کے ذریعے تاخیر پیدا کرنے کی کوشش ہے، تاخیر پیدا کرکے سربراہ سپریم جوڈیشل کونسل بدنیتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل نے دیگر تین شکایت کنندگان کو بھی خط لکھ دیا ہے جس میں ان سے جسٹس مظاہر نقوی بارے شکایت سے متعلقہ تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کے خلاف جہاں مبینہ مس کنڈکٹ پر 5 شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی جا چکی ہیں۔ وہیں دوسری طرف سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دائر کردہ 5 شکایات پر کارروائی کرنے اور سامنے آنے والی آڈیوز اور ویڈیوز بارے تحقیقات کئے بغیر ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال آڈیوز اور ویڈیوز کو غیر اہم قرار دے کر جسٹس مظاہر نقوی پر عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دے چکے ہیں۔
گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس میں آڈیو اور ویڈیو لیکس پر برہم ہوتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ کو آڈیو ٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے، ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں، روزانہ آڈیوز،وڈیوز سامنے آرہی ہیں، ان آڈیو وڈیوز کی کیا کریڈیبیلٹی اور کیا قانونی حیثیت ہے؟ ہم صبر اور درگزر سے کام لے رہے ہیں۔دورانِ سماعت چیف جسٹس نےمزیدکہا کہ عدلیہ پر بھی حملے ہورہے ہیں سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے جسے آڈیوٹیپس کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی اداروں کو بدنام کرنے والی ان آڈیو ٹیپس کی کوئی اہمیت نہیں، ہم صبر اور درگزر سے کام لے کر آئینی ادارے کا تحفظ کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو لیکس میں ہم پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس آڈیو اور ویڈیو لیکس پر برہم ہوگئے اور کہا کہ جس طرح ہم الیکشن کمیشن کا تحفظ کر رہے ہیں، توقع کرتے ہیں آئین ہمارے ادارے کو بھی تحفظ فراہم کرے گا۔
خیال رہے کہ فروری میں سوشل میڈیا پر کئی آڈیو کلپس منظر عام پر آئے تھے، ایک کلپ میں چوہدری پرویز الہٰی کو مبینہ طور پر اس جج سے بات کرتے ہوئے سنا گیا جس کے سامنے وہ کرپشن کا مقدمہ مقرر کرانا چاہتے تھے۔جس کے بعد جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف مختلف درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں 4 شکایات جمع کرائی جاچکی ہیں جس میں استدعا کی گئی تھی کہ جسٹس مظاہر ’مس-کنڈکٹ‘ کے مرتکب ہوئے، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف کارروائی کرے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں چار درخواستیں پاکستان بار کونسل، مسلم لیگ ن لائرز ونگ اور میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دائر کر رکھی ہیں۔جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف مبینہ مس کنڈکٹ پر ایک اور شکایت حالیی دنوں سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی ہے۔ درخواست میں پروسیجر آف انکوائری، 2005 کے رول 9 کے تحت مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کردہ حالیہ درخواست میں ایڈووکیٹ غلام مرتضیٰ خان نے استدعا کی ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی آئین کے آرٹیکل 209(5)(بی)اورایس جے سی انکوائری پروسیجر کے رول 3 کے تحت مبینہ طور پر مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔شکایت میں مزید کہا گیا کہ جج کا طرز عمل آرٹیکل 209(8) کے تحت جاری کردہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل III، VI، اور VIII کی خلاف ورزی تھا۔شکایت کے مطابق سپریم کورٹ کے جج اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان مبینہ گفتگو کے کئی آڈیو کلپس ان کے گہرے اور قریبی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک ایسی ہی گفتگو کے وقت اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی جج کی رہائش گاہ پر موجود تھے جنہوں نے واضح طور پر وضاحت کی کہ جج نے مبینہ طور پر سابق وزیر اعلیٰ اور ان کے پرنسپل سیکریٹری سے فوائد حاصل کیے تھے اور بدلے میں ان کے قریبی لوگوں کے مقدمات کے نتائج کو متاثر کیا۔شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ جج اپنے بیٹوں کے لیے سازگار فیصلوں کے حصول میں مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے سیکریٹری پر اثر ڈال کر کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔شکایت میں مزید الزام لگایا گیا کہ جج نے اپنے بیٹوں کو ایف بی آر، این ایچ اے اور دیگر اداروں کے پینل میں شامل کروا کر اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔
شکایت گزار کا کہنا تھا کہ جج کے بیٹوں کی ایک قانونی فرم نے متروکہ وقت املاک کی 2 ہزار11 مربع فٹ جگہ پر قبضہ کر کے اپنا دفتر قائم کیا جس کے لیے ابتدا میں جج نے متروکہ وقف املاک کے متفقہ کرایے پر بیٹوں کے دفتر کے لیے یہ جگہ حاصل کرنے کی غرض سے اپنے اثر رسوخ کو استعمال کیا لیکن بعد میں کرایہ کو نمایاں طور پر کم کر کے 9 روپے فی مربع فٹ کر دیا گیا اور جج کے بیٹے مال روڈ لاہور پر واقع اس اہم جائیداد کے لیے ماہانہ 18 ہزار 101 روپے ادا کرتے ہیں۔شکایت کے مطابق ایک مشہور ڈویلپر، زاہد رفیق نے کمرشل پلاٹ دینے کے علاوہ، جج کی بیٹی کو 10 ہزار پاؤنڈز برطانیہ میں منتقل کیے اور اس کے علاوہ 51 ہفتوں کے لیے اس کی رہائش کے لیے 395 پاؤنڈز کے ہفتہ وار کرایے کی ادائیگی کی۔
شکایت میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ جج محمد عارف خان کی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی زکوٰۃ و عشر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر تقرر پر اثر انداز ہوئے اور اس تعیناتی کا انتظام محمد خان بھٹی کے ذریعے کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ شکایت میں مختلف علاقوں میں متعدد پلاٹوں کا بھی حوالہ دیا گیا، جو جج کے قبضے میں ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے اور کارروائی کے دوران اگر ان کی جانب سے ملنے والا جواب غیر تسلی بخش لگے تو اس کی رپورٹ صدر کو ارسال کر کے تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
