پاکستانیوں کے بینک اکائونٹس غیرمحفوظ کیوں ہوگئے؟

پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنی جمع پونجی کو محفوظ رکھنے کے لیے بینک اکائونٹ کو اہمیت دیتی ہے لیکن اب بینک اکائونٹ بھی محفوظ نہیں رہے ہیں، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق بینک اکائونٹ میں پڑی 5 لاکھ روپے سے زائد رقم کو کوئی قانونی تحفظ نہیں ملے گا یعنی اگر بینک کو ضرورت پڑٰی تو وہ صارفین کی پانچ لاکھ سے زائد رقم کو استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے انکشاف کیا ہے کہ اگر بینک دیوالیہ ہو جائے تو 5 لاکھ سے زیادہ جمع کرائی گئی رقم واپس نہیں مل سکتی، جبکہ صرف پانچ لاکھ سے کم اکاؤنٹ بیلنس رکھنے والے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ان کی رقم ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن کے ذریعے واپس ادا کی جائے گی۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اگر کوئی کمرشل بینک دیوالیہ یا ناکام ہو جائے تو 5 لاکھ سے زیادہ بیلنس والے اکاؤنٹ ہولڈرز کو رقم نہیں مل سکتی، صرف 5 لاکھ سے کم بیلنس رکھنے والوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے، ملک میں شرح سود کے بلند ترین سطح پر پہنچنے پر کمیٹی ارکان نے تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بلند ترین شرح سود مہنگائی میں کمی کے لیے ضروری ہے، ملک میں مہنگائی کی شرح ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی تھی، اس لیے انفلیشن ریٹ کو نیچے لانے کے لیے شرح سود کو بڑھانا ضروری تھا۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں 22 فیصد شرح سود کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے، شرع سود کے بڑھنے سے بینکوں میں ڈپازٹس 26 ٹریلین تک پہنچ چکے ہیں اور اگر یہ شرح سود نہ ہوتی تو 26 ٹریلین کے ڈیپازٹ کے بجائے یہ رقم مارکیٹ میں ہوتی، اب لوگوں نے کاروبار بند کر کے پیسے بینکوں میں جمع کرانا شروع کر دیئے ہیں، کمیٹی نے شرح سود میں اضافے اور اس سے مہنگائی میں کمی ہونے یا نہ ہونے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سولر پینل امپورٹرز کی جانب سے مبینہ منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، اس موقع پر ایف آئی اے نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ہم سے تفصیلی معاملہ شیئر نہیں کیا، جب سولر پینل درآمد کیے گئے تھے تبھی ملوث عناصر کو پکڑا جا سکتا تھا۔ ایف بی آر نے گزشتہ کمیٹی اجلاس میں بینکوں کو قصوروار ٹھہرایا لیکن ایسا نہیں ہے بینکوں نے ہی سارا ریکارڈ ایف بی آر کو دیا ہے۔کمیٹی میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 5 سال کے دوران 69 ارب کی اوور انوائسنگ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی ہے، ممبر کسٹم پالیسی کے مطابق سولر پینلز امپورٹرز نے 25 ارب روپے کیش بینکوں میں جمع کرائے، اگر بینک پہلے ہی کردار ادا کرتے تو اس کو روکا جا سکتا تھا۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو معاملے کی تحقیقات جاری رکھنے اور پیشرفت رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت

گاڑی رکھنے والے ہوشیار، چھوٹی سی غلطی پر بڑا جرمانہ عائد

کی ہے۔

Back to top button