2023 کا سیاسی بندوبست بھی 2018 کی طرح ناکام ہوگا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار وسعت الله خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کو گزرے پانچ برس ہو گئے یہ واقعہ ماشااللہ وہ کمبل بن گیا ہے جس سے جان چھڑانا بظاہر مشکل ہو رہا ہے۔ اس کشتم کشتا میں خالق اور خلق تو کیچڑ میں لت پت ہیں ہی خود ریاستی آئینی انگرکھا اور دستار بھی چھینٹوں چھینٹ ہو چکے ہیں۔ پر مجال ہے کہ اس بار بھی کسی نے کوئی درسِ ندامت و سبق آموز سبق لیا ہو۔ الٹا اب ایک اور 25 جولائی کا 2023 ماڈل انہی پرانے خاکوں کی مدد سے تیار ہو رہا ہے۔ فرق بس اتنا پڑنے والا ہے کہ گزشتہ ماڈل کی ہیڈ لائٹ اگر گول تھی تو نئے ماڈل کی بتی چوکور ہوگی۔
اپنے ایک کالم میں وسعت الله خان کا کہنا ہے کہ 25 جولائی 2018 کا دن غروب ہونے تک ہر حسن نثار، مجیب الرحمان شامی، ہارون رشید کو پتہ چل چکا تھا کہ اگلے دن کا سورج بلے کی اوٹ سے نکلے گا۔ پچھلے 7 برس کی محنت صاف نظر آ رہی تھی۔ ٹارگٹ وہی پرانا تھا یعنی کوئی بھی جماعت اتنی نشستیں نہ لے جائے کہ خود سر ہو جائے۔ سنہ 2002 کے الیکشن کا کامیاب سستا اور ٹکاؤ ماڈل سامنے تھا۔ یعنی کسی آزمائے ہوئے پر ہاتھ رکھنے کے بجائے پرانے ماڈل کی گاڑیوں کے کارآمد پرزے جوڑ کے ایک ری کنڈیشنڈ گاڑی نئے ماڈل کے طور پر لانچ کر دو۔ چنانچہ سنہ 2002 میں سب نے دیکھا کہ بوتل کا لیبل نیا پر شراب وہی پرانی۔ کمال بس ایک خاص تناسب سے آمیزش کا تھا۔ جھنڈے والی گاڑی کے بغیر نہ رہنے والوں کو نئی بیساکھیاں دی گئیں تاکہ وہ ان بیساکھیوں کو آپس میں لڑتے لڑاتے خود کو مصروف رکھیں اور سرپرستوں کو بہت زیادہ تنگ نہ کریں۔ یوں دنیا کے دکھاوے کے لیے گروپ فوٹو میں ایک ہنستا بستا جمہوری کنبہ بنا رہے اور کوئی انگلی نہ اٹھا سکے کہ پاکستان ایک غیر جمہوری یا نیم جمہوری ملک ہے۔
وسعت الله خان کہتے ہیں کہ یہ 2002 ماڈل 5 برس یعنی 2007 تک کامیابی سے چلایا گیا۔ حتی کہ پہلی بار ملکی تاریخ میں ایک سویلین حکومت سے دوسری سویلین حکومت کو اقتدار کی خوشی خوشی منتقلی کی بنیاد پڑتی دکھائی دی۔ یہ کام اسے لیے ٹھنڈے پیٹوں ہوگیا کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو جو تھوڑا بہت چیلنج کرنے یا سوال اٹھانے کی صلاحیت رکھتی تھی ان کا کھٹکا صفائی سے نکل گیا۔ بی بی کا ’’آئیڈیل ازم‘‘ عملیت پسندی سے بدل گیا۔ لال بھجکڑوں کو بھی لگنے لگا گویا اب سرپرستوں نے بچوں پر اعتماد کرنا سیکھ لیا ہے۔ بچوں کو بھی شائد اندازہ ہو چلا تھا کہ فی الحال کن کن دواؤں کو ہاتھ نہیں لگانا اور کن کن مواقع پر کس کس چیز کے لیے کتنی مقدار میں ضد کرنی ہے اور پھر مان جانا ہے۔ مگر بچے تو آخر بچے ہوتے ہیں۔ گلی محلے تھڑے سے مضر عادات بھی سیکھ کے آتے ہیں۔ اور پھر ہر ذہنی کھد بد اپنے سرپرستوں کو تھوڑا ھی بتاتے ہیں؟
مثلاً چارٹر آف ڈیموکریسی کے دستخط کنندگان نے غیر اعلانیہ طور پر ایک دوسرے کی باری کے احترام کا بھی شائد بالا بالا طے کرلیا تھا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سنہ 2008 یا سنہ 2018 کے دو ادوار میں زرداری اور نون نے روایتی ساس کا کردار ادا نہیں کیا اور ایک دوسرے پر بھاری داؤ پیچ لڑانے سے پرہیز کیا۔
وسعت الله کہتے ہیں کہ ایک نے مذاق مذاق میں سب کو 18 ویں آئینی ترمیم کے اردگرد جمع کرلیا تو دوسرے نے اہم پارلیمانی قانون سازی پر بڑی سیاسی جماعتوں کا اتفاق حاصل کرنے میں کامیابیاں حاصل کیں۔ تو پر ان کے کان کھڑے ہونے لازم تھے جن کا انتظامِ کار ہی سیاست کی باہمی جوتم جوتی کے بل پر چلتا ہے۔ چنانچہ پرسکون ہوتے جمہوری پانی میں تھرتھلی کے لیے خان صاحب کی دھڑم دھکیل انٹری ہوئی۔انہیں بتدریج ایجی ٹیشن کے ذریعے روایتی سیاسی خاندانوں کو ایڑیوں پر کھڑا رکھنے کا کام سونپا گیا۔ یوں پچھلی چار دہائیوں سے یکے بعد دیگرے دو ہی سیاسی فلموں کے گھسے پٹے پرنٹ بار بار دیکھ دیکھ کر بور ہونے والے بادشاہ گروں نے نیا ہیرو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنی پوری نظریاتی، آلاتی، نشریاتی، تربیتی صلاحیت، شوقِ تبدیلی کی سرمایہ کاری پر لگا دی۔ لینا پکڑنا، توڑم تاڑی، عدلیہ، نوکر شاہی اور خود کو ون پیج پر کیا گیا۔ ریورس اور فارورڈ انجینرنگ سمیت کوئی ٹیکنالوجی نہیں چھوڑی گئی۔ محکمہ زراعت سمیت تمام ہنرمند ادارے اوور ٹائم پر لگ گئے۔ معاملات کو آخری حد تک سنبھالنے کیلئے 2002 کے ہائبرڈ پری پول تجربات کی سمری کو الماری سے نکال کے اگلے درجے تک لے جایا گیا۔ نتائج کی بروقت ترسیل کے آر ٹی ایس نظام پر بھی پورا تکیہ نہیں کیا گیا۔ یوں 26 جولائی کی دوپہر تک مثبت نتائج حاصل کر لیے گئے۔ ایک سورج اور اس کے گرد مصنوعی سیاروں کا جھرمٹ نمودار ہوا۔ یہ عارضی نظامِ شمسی مدار میں رواں رکھنے کے لیے اگلے پونے 2 برس تک خلائی ماہرین کی خدمات بھی فراہم کی گئی۔ مگر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ مطلوبہ خلائی نتائج حاصل ہونے کے بجائے حاصل شدہ پچھلے نتائج بھی خطرے میں پڑنے لگے۔
وسعت الله خان کہتے ہیں کہ پہلی بار نیلے آسمان نے یہ منظر بھی دیکھا کہ خالق اپنی ہی تخلیق کو مدار سے ہٹتے ہوئے بے بسی سے دیکھ رہا تھا۔ کچھ عرصہ’نہ کہہ سکا نہ سہہ سکا‘ والی کیفیت رہی۔ کیونکہ جنہیں’نیا دور نئی تخلیق‘ کی خاطر اکھاڑ پچھاڑ کے راندہ درگاہ کیا تھا بالاخر انہی عطاری لونڈوں کے پاس جانے کون سی بار جانا پڑ گیا تاکہ ’اگلی جاۓ نہ نگلی جاۓ ‘ کی اذ یت سے تو کم ازکم عارضی نجات ملے۔ مگر اگلوں نے بھی بدلے میں بوٹی کا بکرا طلب کرلیا۔ یہی ہے مطلوب و مقصود اس انتظام کا۔ کہتا کوئی نہیں پر پتہ سب کو ہے کہ اس ریاست کا بنیادی نظام ناپائیداری کی ڈرائنگ پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ چنانچہ دراصل ایسے نظام کے لیے پائیداری ہی
نون لیگ پارٹی چھوڑنے والوں کو واپس کیوں بلانے لگی؟
مضر صحت ہے۔
