کاکڑ کا نگران وزیر اعظم بن جانا پیپلزپارٹی کے لئے نقصان دہ؟

پیپلزپارٹی نے نگران وزیر اعظم کے لیے جلیل عباس جیلانی کا نام تجویز کیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) موجودہ نگران وزیر اعظم کے لیے کوئی نرم گوشہ رکھتی تھی، پیپلزپارٹی اور بالخصوص آصف زرداری بلوچستان میں اگلی حکومت بنانے کے لیے زور لگا رہے ہیں۔ انوار الحق کاکڑ کا نگران وزیر اعظم بن جانا پیپلزپارٹی کے اس کھیل کو ناکام بنا دے گا اب بلوچستان میں اگر کچھ کھیل بنے گا بھی تو ن لیگ کا بنے گا۔ اب باپ پارٹی کے جس دھڑے کو وزارت عظمیٰ مل گئی ہے وہ ن لیگ کے ساتھ چلنے کا عندیہ دے چکا ہے . سوال یہ ہے کہ یہ ہر دفعہ باپ پارٹی کی لاٹری کیوں نکل آتی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں بھی باپ پارٹی کی مرکزی حیثیت تھی۔ اب پی ڈی ایم میں بھی باپ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ اور اب تو وزیر اعظم بھی باپ پارٹی سے آگیا ہے۔ باپ سے لازوال محبت کیوں؟ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ نگران وزیر اعظم کے اعلان کے بعد ایک سوال اہم ہو گیا ہے کہ نگران وزیر اعظم کس کا آدمی ہے؟ کیا سیاسی جماعتیں اپنا نگران وزیر اعظم لانے میں ناکام اور اسٹبلشمنٹ اپنی مرضی کا نگران وزیر اعظم لانے میں کامیاب ہو گئی ہے؟ نگران وزیر اعظم کے اس کھیل میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہوئی۔اس کھیل کے دو ہی فریق تھے۔ ن لیگ اور اسٹبلشمنٹ نہ اسٹبلشمنٹ اس کھیل کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ نہ کسی کو مکمل جیت اور نہ کسی کو مکمل ہار ہوئی ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی لسٹ میں سے بھی کوئی وزیر اعظم نہیں بن سکا ہے۔ اور اسی طرح حکمران اتحاد کی پہلی لسٹ میں سے بھی کوئی نہیں بن سکا۔ اس کھیل کے سبھی بڑے کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے جو نام دیا وہی فائنل ہوا۔ اگر حفیظ شیخ نگران وزیر اعظم نہیں بن سکے تو اسحاق ڈار بھی نہیں بن سکے۔ اسی طرح جلیل عباس جیلانی بھی نہیں بن سکے۔ صادق سنجرانی بھی نہیں بن سکے۔ اب سوال یہ ہو گا کہ کاکڑ کا نام آیا کہاں سے۔ امکان ہے کہ سب اسٹیک ہولڈرز کے پسندیدہ نام جب ریس سے آؤٹ ہو گئے تو ایسے نام کی تلاش شروع ہو گئی ہوگی جو سب کو قابل قبول ہو۔ یہی سیاست اور جمہوریت کا حسن ہے۔ اس میں ڈکٹیشن جب ہارجاتی ہے تو مفاہمت کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ جب آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی بات نہیں منوا سکتے تو پھر درمیان کی راہ تلاش کی جاتی ہے۔ اس لیے نگران وزیر اعظم کی دوڑ میں بھی یہی ہوا ہے۔ جب مفاہمت کی ضرورت نظر آئی تو نئے نام ڈھونڈے گئے۔ جب آپ ایسا نام ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جو آپ کو بھی قابل قبول ہو اور آپ کے متحارب فریق کو بھی قابل قبول ہو۔ ایسی صورت میں آپ کی اور دوسری کی پسند ایک ہو جاتی ہے۔ موجودہ نگران وزیر اعظم بھی ایسی صورتحال میں سے نکل کر آئے ہیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ کاکڑ اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ ہیں، اس لیے وہ اسٹبلشمنٹ کا نام ہیں۔ دوستوں کی رائے میں انوارالحق کاکڑ کو نگران وزیر اعظم بنو اکر اسٹبلشمنٹ نے بازی جیت لی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بندہ باپ پارٹی میں ہو اور اسٹبلشمنٹ کا پسندیدہ نہ ہو۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ مزمل سہروردی کے مطابق دوسرا رخ یہ ہے کہ 19جون کو جب ابھی نگران کی دوڑ شروع بھی نہیں ہوئی تھی‘ جام کمال کے ساتھ انوار کاکڑ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز سے مل چکے تھے۔ اس ملاقات میں انوار الحق کاکڑ اور جام کمال نے اگلی سیاست پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر کرنے کے حوالے سے مریم نواز سے تفصیلی بات چیت کی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف بھی اس ملاقات میں لندن سے شریک تھے۔ جہاں بلوچستان کی مستقبل کی سیاست پر تفصیل سے بات ہوئی۔ اس لیے ایسا نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) موجودہ نگران وزیر اعظم کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی تھی۔ سب جانتے ہیں کہ باپ پارٹی میں دو دھڑے بن چکے ہیں۔ اب اگلے انتخابات میں دونوں دھڑے اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اس لیے اگر جام کمال اور ان کے ساتھی پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ساتھ چلنے کا جون میں عندیہ دے چکے تھے تو جب انوار الحق کاکڑ کا نام سامنے آیا ہوگا تو ن لیگ کے لیے کافی حد تک قابل قبول ہوگا. جب مفاہمتی نام کی تلاش شروع ہوگئی تو یقیناً ایسے نام کی تلاش ہوگی جو کم از کم پاکستان مسلم لیگ(ن) یعنی وزیر اعظم اور اسٹبلشمنٹ دونوں کو قابل قبول ہو۔ ایسے میں یہ نام سامنے آیا ہوگا۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اس کھیل میں پیپلزپا رٹی کا کافی نقصان ہوا ہے۔ان کو یہ نام پسند نہیں آیا ہوگا۔ لیکن پہلے دن سے اس کھیل میں پیپلزپارٹی اسٹیک ہولڈر نہیں تھی ۔ اس کی تمام تر اہمیت تب تک تھی جب تک حکومت قائم تھی اور اسمبلی موجود تھی۔ جب حکومت ختم ہوگئی‘ اسمبلی تحلیل ہو گئی تو کھیل اسٹبلشمنٹ اور ن لیگ کے درمیان ہی رہ گیا۔ ن لیگ کے لیے پیپلزپارٹی کی اہمیت ختم ہوگئی اور اسٹبلشمنٹ کے لیے بھی ن لیگ سے مفاہمت اہم بن گئی۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کھیل سے ہی آؤٹ ہو گئی۔ جیسے جیسے نام فائنل ہونے میں تاخیر ہوئی ویسے ویسے پیپلزپارٹی ریس سے نکل گئی۔ اس کے نام بھی ریس سے نکل گئے۔ جب پورا پاکستان جلیل عباس جیلانی کو نگران وزیر اعظم بنوا رہا تھا تب سوچا جا رہا تھا کہ ن لیگ جلیل عباس جیلانی کو کیوں بنائے گی۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ جلیل عباس جیلانی ایک دن میڈیا میں نگران وزیر اعظم بن ہی گئے تھے ۔ کیسے نام ہیڈلائنز اور بریکنگ میں آگیا۔ پھر وہ پیچھے رہ کیسے گئے۔ کہانی یہ ہے کہ جس دن قومی اسمبلی کا آخری اجلاس تھا۔ اس دن ایک صحافی نے بلاول بھٹو سے پوچھا کہ پیپلزپارٹی نے جلیل عباس جیلانی کا نام تجویز کیا ہے تو انھوں نے تصدیق کر دی۔ دوسر ا سوال ہوا کہ کیا وہ نگران بن رہے ہیں تو بلاول نے کہا انشاء اللہ لیکن ساتھ ہی کہہ دیا کہ خبر میری طرف سے نہیں چلانی۔ بس کیا تھا پورے میڈیا میں شور مچ گیا۔ لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ آج اسمبلی ختم ہو رہی کل بلاول وزیر خارجہ نہیں ہونگے‘ پھر کیا ہوگا۔ پیپلزپارٹی کو بلوچستان سے کافی امیدیں تھیں۔ پیپلزپارٹی اور بالخصوص آصف زرداری بلوچستان میں اگلی حکومت بنانے کے لیے زور لگا رہے ہیں۔ انوار الحق کاکڑ کا نگران وزیر اعظم بن جانا پیپلزپارٹی کے اس کھیل کو ناکام بنا دے گا۔ اب بلوچستان میں اگر کچھ کھیل بنے گا بھی تو ن لیگ کا بنے گا۔ اب باپ پارٹی کے جس دھڑے کو وزارت
ماہرہ خان اور فواد خان کی خوبصورت ویڈیو وائرل
عظمیٰ مل گئی ہے وہ ن لیگ کے ساتھ چلنے کا عندیہ دے چکا ہے۔
