پی پی پی نے 44 برس بعد مئیر شپ کیسے جیتی؟

تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پیپلزپارٹی 44 سال بعد کراچی میں اپنی اکثریت ثابت کر کے جیالا مئیر کراچی بنوانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔جمعرات کو کراچی آرٹس کونسل میں میئر کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب اور جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ نعیم الرحمن کے درمیان سخت مقابلہ دیکھا گیا۔ایوان میں شو آف ہینڈز کے ذریعے رائے شماری کی گئی اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب 173 نمائندوں کی حمایت کے ساتھ میئر منتخب ہوئے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق رائے شماری میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 173 ووٹ حاصل کیے جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ نعیم الرحمن کو 160 ووٹ ملے اور 32 بلدیاتی نمائندے میئر کے انتخاب کے عمل میں شریک نہیں ہوئے۔ اس طرح مرتضیٰ وہاب 13 ووٹوں کی برتری سے میئر کراچی منتخب ہوئے۔ اس طرح1979 سے اب تک ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار پیپلز پارٹی کراچی میں اپنا میئر لانے میں کامیاب ہوئی ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کی حکمراں جماعت کراچی میں اپنا میئر لانے میں تو کامیاب ہو گئی ہے لیکن شہر کے بے پناہ مسائل کو حل کرنا نومنتخب میئر کے لیے آسان نہیں ہو گا۔مرتضیٰ وہاب کی کامیابی کے ساتھ ہی سندھ کے شہری علاقوں کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کے باعث شہر کے شہری علاقوں سے پاکستان پیپلز پارٹی ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کا امیدوار میئر منتخب ہوا ہے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی ڈپٹی میئر کے عہدے حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہی ہے لیکن کبھی میں میئر بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

سینیئر صحافی حنیف اکبر کے مطابق کراچی شہر میں 1979 سے ابتک سات میئر منتخب ہوئے ہیں۔ 1979 سے 1988 تک جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی دو بار میئر کراچی منتخب ہوئے۔ ان کے دونوں ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امید وار ڈپٹی میئر رہے ہیں۔1988 میں متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار ڈاکٹر فاروق ستار کراچی کے میئر بنے اور 2001 میں ایک بار پھر جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان کراچی کے ناظم بنے۔ 2005 میں متحدہ قومی موومنٹ کے سید مصطفی کمال ناظم کراچی منتخب ہوئے اور 2013 میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وسیم اختر کراچی کے میئر رہے۔ 2023 میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب میئر کراچی منتخب ہوئے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ نو منتخب میئر کراچی کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا؟ سینیئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’کراچی میں پیپلز پارٹی کے میئر کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جس شہر میں آبادی کو ہی صحیح نہ گنا گیا ہو تو اس شہر میں مسائل تو بہت ہیں۔ شہر میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ شہر کے نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد کئی کئی روز تک پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی ٹینکرز سے تو فراہم ہوتا ہے لیکن نل میں نہیں آتا۔

مظہر عباس نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کے لیے ایک چیلنج یہ بھی ہے انہیں چھ ماہ میں یو سی چیئرمین کا الیکشن لڑ کر کامیاب بھی ہونا ہے۔ میئر کراچی کو ایک مضبوط اپوزیشن کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جماعت اسلامی نے ان کے میئر بننے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے۔’شہر میں مسائل ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ مسائل سالوں میں حل ہوں گے، اگر کام کرنا چاہیں اور نیت ہو تو ان مسائل پر جلد قابو بھی پایا جا سکتا ہے۔ کراچی میں پروجیکٹ سست روی کا شکار ہوتے ہیں، انہیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔‘

خیال رہے کہ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صدیقی ماضی قریب میں بیک وقت 3 نامزد عہدوں ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ کے عہدوں پر رہنے کے بعد میئر کراچی کے منتخب عہدے پر بھی فائز ہوئے ہیں۔25 دسمبر 1983 ءکو کراچی میں پیدا ہوئے نومنتخب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اپنی مرحومہ والدہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر راہنما فوزیہ وہاب صدیقی کے انتقال کے بعد عملی سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی کے ہی پلیٹ فارم سے کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےان کی قابلیت دیکھتے ہوئے 2015 ءمیں انہیں اپنا مشیر بنالیا۔قبل ازیں انہوں نے گورنمنٹ کامرس کالج کراچی میں تعلیم پائی، جب کہ قانون کی ڈگری یونیورسٹی آف لندن سے حاصل کی۔ان کے والد وہاب صدیقی مرحوم شعبہ صحافت سے وابستہ تھے، جب کہ والدہ فوزیہ وہاب رکن قومی اسمبلی رہی ہیں۔مرتضیٰ وہاب مشیر قانون کے بعد 2016 ءمیں اینٹی کرپشن کے مشیر بنے، پھر 2017ءمیں سینیٹ آف پاکستان کے رکن بھی بنے۔

مرتضیٰ وہاب 2018 ءمیں دوبارہ مشیر قانون اور اینٹی کرپشن بنے اور جلد محکمہ اطلاعات کا قلمدان بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ 2019 ءمیں مشیر محکمہ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات، کوسٹل ڈویلپمنٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سندھ حکومت کا ترجمان بھی مقرر کردیا گیا۔ 2021 ءمیں مرتضیٰ وہاب بیک وقت ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان سندھ حکومت کے عہدوں پر فائز رہے۔انہوں نے 2018 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر حلقہ پی ایس -111 سے سندھ اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا، لیکن پی ٹی آئی کے عمران اسماعیل سے شکست کھا گئے۔

 کراچی میں 15 جنوری کو ہوئے بلدیاتی انتخابات میں گو مرتضیٰ وہاب نے الیکشن نہیں لڑا، مگر پیپلز پارٹی نے میئر کراچی کے عہدے کے لیے کئی ناموں پر غور کے بعد انہیں امیدوار نامزد کردیا اور اب وہ جماعت اسلامی کے حافظ

گوگل نےاداکارہ میرب علی کو بوڑھا کیسے بنایا؟

نعیم الرحمن کو شکست دے کر مئیر کراچی منتخب ہو گئے ہیں۔

Back to top button